Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کابینہ میں اعلیٰ طبقات کے وزراء کا غلبہ

تلنگانہ کابینہ میں اعلیٰ طبقات کے وزراء کا غلبہ

18 رکنی کابینہ میں خواتین نظر انداز ، ریڈی طبقہ بھی سب سے آگے، 2 وزراء کسی بھی ایوان کے رکن نہیں

18 رکنی کابینہ میں خواتین نظر انداز ، ریڈی طبقہ بھی سب سے آگے، 2 وزراء کسی بھی ایوان کے رکن نہیں
حیدرآباد۔ /16ڈسمبر، ( سیاست نیوز) نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد تشکیل پانے والی کابینہ میں اعلیٰ طبقات کو غلبہ حاصل ہے۔ ان میں ریڈی طبقہ کو سب سے زیادہ نمائندگی دی گئی ہے۔ کابینہ میں 6نئے وزراء کی شمولیت کے بعد چندر شیکھر راؤ کی وزارت کی تعداد مکمل ہوگئی اور اب مزید وزراء کی شمولیت کی کوئی گنجائش نہیں۔18رکنی وزارت میں خواتین کو نمائندگی نہیں دی گئی جس پر ٹی آر ایس کے خاتون ارکان اسمبلی اور قائدین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج 6وزراء کی شمولیت کے ذریعہ تمام اہم طبقات کی نمائندگی کو مکمل کردیا۔ اس کے علاوہ پہلی مرتبہ وزارت میں نمائندگی سے محروم اضلاع محبوب نگر اور کھمم کو نمائندگی مل گئی۔ وزارت میں توسیع کی خصوصیت یہ رہی کہ دو ایسے وزراء کو حلف دلایا گیا جو کسی بھی ایوان کے رکن نہیں ہیں۔ سرینواس یادو نے حلف برداری سے قبل اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دے دیا کیونکہ وہ تلگودیشم سے منتخب ہوئے تھے جبکہ تملا ناگیشور راؤ کسی بھی ایوان کے رکن نہیں ہیں۔ قواعد کے مطابق انہیں اندرون 6ماہ اسمبلی یا کونسل سے منتخب ہونا ضروری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر مارچ میں ہونے والے کونسل کے چناؤ میں دونوں کو منتخب کریں گے۔ پہلے مرحلہ میں ایس ٹی طبقہ سے کوئی نمائندہ شامل نہیں کیا گیا تھا لیکن آج کی توسیع میں اس طبقہ کو نمائندگی دی گئی۔ مجموعی طور پر ٹی آر ایس وزارت میں ریڈی طبقہ سمیت اعلیٰ طبقات کا غلبہ ہے۔ آج جن چھ وزراء کو شامل کیا گیا ان میں پانچ اعلیٰ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جن میں ریڈی طبقہ کے دو نمائندے اندرا کرن ریڈی اور لکشما ریڈی شامل ہیں۔ کما طبقہ سے تملا ناگیشور راؤ کو نمائندگی دی گئی جبکہ ویلما طبقہ سے جوپلی کرشنا راؤ کو شامل کیا گیا۔ اس طرح 6نئے وزراء میں 4کا تعلق اعلیٰ طبقات سے ہے جبکہ بی سی اور ایس ٹی طبقہ سے ایک، ایک وزیر شامل کیا گیا۔کابینہ میں توسیع کے موقع پر خواتین کی نمائندگی کو نظرانداز کیا جانا پارٹی قائدین کیلئے حیرت کا باعث رہا۔ 18رکنی کابینہ میں ریڈی طبقہ کے 6، ویلما 4، بی سی 4 وزراء شامل ہیں جبکہ مسلم، کما، ایس ٹی اور ایس سی کو ایک، ایک نمائندگی دی گئی۔ ریڈی اور ویلما طبقات کو ملا کر 11وزراء کا تعلق اعلیٰ ذات سے ہے۔ کابینہ میں درج فہرست اقوام میں مادیگا طبقہ کو نمائندگی حاصل ہے جبکہ مالا طبقہ کی کوئی نمائندگی نہیں۔ ویلما طبقہ سے تعلق رکھنے والوں میں چیف منسٹر کے سی آر کے علاوہ کے ٹی راما راؤ، ہریش راؤ اور جوپلی کرشنا راؤ شامل ہیں۔ ریڈی طبقہ میں این نرسمہا ریڈی، جگدیش ریڈی، پوچارم سرینواس ریڈی، پی مہیندر ریڈی، اے اندرا کرن ریڈی اور سی ایچ لکشما ریڈی شامل ہیں۔ بی سی طبقہ میں جوگو رامنا، پدما راؤ، ایٹالہ راجندر اور سرینواس یادو شامل ہیں۔ مسلم طبقہ کی نمائندگی ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کررہے ہیں جبکہ ایس سی مادیگا کے نمائندہ ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر راجیا ہیں۔ تلگودیشم دور حکومت میں اقتدار میں اہم رول ادا کرنے والے کما طبقہ کو تملا ناگیشور راؤ کی صورت میں نمائندگی دی گئی۔ وہ چندرا بابو نائیڈو کے قریبی ساتھی رہ چکے ہیں اور چندرا بابو نائیڈو بھی کما طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ حلف برداری کی تقریب کے بعد ٹی آر ایس کی خاتون ارکان اسمبلی کو مایوس دیکھا گیا۔ ورنگل سے تعلق رکھنے والی کونڈہ سریکھا کی شمولیت کو کل تک یقینی سمجھا جارہا تھا لیکن لمحہ آخر میں انہیں کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ مہیلا قائدین کا کہنا ہے کہ متحدہ ریاست میں کوئی بھی وزارت خواتین کے بغیر مکمل نہیں تھی اور تلنگانہ ریاست کی پہلی کابینہ میں خواتین سے ناانصافی مناسب نہیں۔بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے خاتون ارکان اسمبلی اور بعض اہم دعویداروں کو مشورہ دیا کہ وہ مزید چھ ماہ تک انتظار کریں۔ حکومت کے ایک سال کی تکمیل پر وہ وزراء کی کارکردگی کی بنیاد پر کابینہ میں ردوبدل کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT