Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کا امکان

تلنگانہ کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کا امکان

چار وزراء کے سرپر تلوار… نرسمہا ریڈی، پدما رائو ، اجمیرا چندو لال اور جوگو رامنا کی برطرفی کی قیاس آرائیاں

حیدرآباد ۔ /4 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت اور حکمراں جماعت میں عنقریب بڑے پیمانے پر ردوبدل کا امکان ہے جس کے پیش نظر کئی ریاستی وزراء اور سرکردہ پارٹی قائدین خاموشی کے ساتھ دم بخود ہیں اور اس خاموشی کو اس ’ طوفان‘ سے پہلے کی خاموشی سمجھا جارہا ہے جو چیف منسٹر کالوا کنٹلہ چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کے مجوزہ دورہ چین سے واپسی یا 23 ستمبر سے شروع ہونے والے تلنگانہ اسمبلی کے مانسون اجلاس کے بعد اپنا اثر دکھائے گا ۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے سی آر حالیہ عرصہ کے دوران کئی موقعوں پر اپنی کابینہ اور پارٹی میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کے اشارے دے چکے ہیں ۔ جس کے پیش نظر چند وزراء کو برطرف کردیا جائے  گا اور نئے چہروں کو کابینہ میں جگہ دی جائے گی ۔ مزید برآں پارٹی سطح پر ڈرامائی تبدیلیوں کے ضمن میں کہا جارہا ہے کہ کے سی آر اپنی دختر اور نظام آباد کی رکن لوک سبھا کے کویتا کو ٹی آر ایس کی سربراہ مقرر کرسکتے ہیں ۔ بعض ریاستی وزراء اور پارٹی ذمہ داروں کی کارکردگی پر کے سی آر مختلف موقعوں پر ناحوشی اور عدم اطمینان کا اظہار بھی کرچکے ہیں ۔ چیف منسٹر کے دورہ چین کے بعد /23 ستمبر سے تلنگانہ اسمبلی کے مانسون سیشن کا آغاز ہوگا اور اس کے بعد ہی کابینہ اور پارٹی کی سطح پر ردوبدل کا امکان ہے ۔ کے سی آر کے قریبی ذرائع کے مطابق کم سے کم چار وزراء کو کابینہ سے سبکدوش کیا جاسکتا ہے ۔ جن میں وزیر داخلہ نائینی نرسمہا ریڈی ، وزیر سیاحت اجمیرا چندولعل اور وزیر آبکاری ٹی پدما راؤ بھی شامل ہیں ۔ تاہم نرسمہا ریڈی کی کابینہ سے علحدگی کا مطلب یہ ہونا ضروری نہیں کہ کے سی آر ان کی کارکردگی سے ناخوش ہیں بلکہ کے سی آر اپنے سے غیر معمولی قربت رکھنے والے نرسمہا ریڈی سے چاہتے ہیں کہ ُان جیسے سینئر قائدین ، پارٹی کو مزید مستحکم بنانے کیلئے تنظیمی اُمور کی دیکھ بھال کریں ۔ علاوہ ازیں نرسمہا ریڈی کی صحت کے مسائل کو ملحوظ رکھتے ہوئے کے سی آر انہیں غیرمعمولی اہم قلمدان کی ذمہ داری سے سبکدوش کرنا بھی چاہتے ہیں ۔ لیکن ٹی پدما راؤ کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ انہیں سستی شراب کی پالیسی پر حکومت کو ہونے والی پشیمانی کے خمیازہ کے طور پر کابینہ سے باہر کیا جاسکتا ہے کیونکہ سستی شراب کی پالیسی پر پیدا شدہ تنازعہ سے نمٹنے پدما راؤ کے طریقہ کار سے کے سی آر مطمئین نہیں ہیں ۔ چندو لال خرابی صحت کے سبب وزارتی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں ۔ چنانچہ انہیں بھی اس ذمہ داری سے سبکدوش کیا جاسکتا ہے ۔ ریاستی کابینہ میں خاتون وزیر کی شمولیت بھی ایک اہم مسئلہ ہے ۔ لیکن اس مسئلہ پر ’ خواتین کی جنگ ‘ کو ملحوظ رکھتے ہوئے چیف منسٹر تاحال اپنی کابینہ میں کسی خاتون کو شامل نہیں کرسکتے ہیں تاہم آئندہ ردوبدل کے موقع پر وہ اس مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش بھی کرسکتے ہیں ۔علاوہ ازیں قلمدانوں میں معمولی تبدیلی کا امکان بھی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کے فرزند اور وزیر آئی ٹی کے تارک راما راؤ کو وزیر بھاری مصنوعات سے ہٹایا جاسکتا ہے اور وزیر صنعت جے کرشنا راؤ کو کوئی دوسرا قلمدان دیا جاسکتا ۔ وزارت فینانس کی قیادت میں تبدیلی بھی خارج از امکان نہیں ہے ۔ ٹی آر ایس کی تنظیمی سطح پر امکانی سب سے بڑی تبدیلی میں کے کویتا کو پارٹی کی قیادت سونپی جائے گی ۔ کے سی آر اگرچہ اس کوششوں میں مصروف تھے کہ اپنی دختر کو کسی طرح مرکزی نریندر مودی کابینہ میں جگہ دلائی جائے لیکن ایسا نہیں ہوسکا اور فی الحال اس کے امکانات بھی نہیں ہیں ۔ چنانچہ وہ انہیں (کویتا کو ) اہم تنظیمی عہدہ پر فائز کرنا چاہتے ہیں ۔ کیونکہ کے سی آر کا خیال ہے کہ کویتا بالخصوص خواتین اور نوجوان طبقہ میں کافی مقبولیت رکھتی ہیں وہ عوام میں جلد گھل مل جاتی ہیں ۔ انتظامی صلاحیتوں کی حامل ہیں اور اپنی ان صلاحیتوں کے ذریعہ ٹی آر ایس کو ابتدائی سطح سے مزید مقبول و مضبوط بناسکتی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT