Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کابینہ کے 6 نئے وزراء ، سیاسی میدان کے مشاق کھلاڑی

تلنگانہ کابینہ کے 6 نئے وزراء ، سیاسی میدان کے مشاق کھلاڑی

حیدرآباد۔/16ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت تلنگانہ کی پہلی ٹی آر ایس حکومت 6نئے وزراء کی شمولیت کے ساتھ آج مکمل ہوگئی۔ اسمبلی میں ارکان کی تعداد کے اعتبار سے ریاستی کابینہ میں 18وزراء شامل کئے جاسکتے ہیں۔ 2جون کو چیف منسٹر کی حیثیت سے چندر شیکھر راؤ نے 11وزراء کے ساتھ حلف لیا تھا۔ آج 6نئے وزراء نے حلف لیا۔ نئے وزراء کا مختصر تعارف پیش ہے۔
جوپلی کرشنا راؤ ( کولا پور محبوب نگر )
جوپلی کرشنا راؤ نے بینک ملازمت سے استعفی دے کر سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ 1981ء میں انہوں نے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور 1999ء سے وہ کولا پور اسمبلی حلقہ سے مسلسل منتخب ہورہے ہیں۔ 1999میں کانگریس امیدوار کی حیثیت سے انہوں نے 5305 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ 2004ء میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کرتے ہوئے 3041 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ 2009ء میں دوبارہ کانگریس پارٹی کا ٹکٹ حاصل کیا اور 1508 ووٹ کی اکثریت سے تیسری مرتبہ منتخب ہوئے۔ انہیں وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت میں سیول سپلائیز کا وزیر بنایا گیا۔ 2010میں کرن کمار ریڈی حکومت میں انہیں انڈومنٹ کا قلمدان دیا گیا۔ تلنگانہ تحریک اور کرن کمار ریڈی کی مخالف تلنگانہ پالیسی کے خلاف بطور احتجاج جوپلی کرشنا راؤ نے 3مارچ 2011کو وزارت سے استعفی دے کر تلنگانہ تحریک سے وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے 28اپریل 2011 کو ضلع ہیڈکوارٹر سے تلنگانہ کے حق میں یاترا نکالی۔ انہوں نے تلنگانہ تحریک میں شمولیت کیلئے 12اکٹوبر 2011کو اسمبلی کی رکنیت سے بھی استعفی دے دیا۔ 30اکٹوبر 2011کو جوپلی کرشنا راؤ نے کانگریس پارٹی سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ 18مارچ 2012کو کولا پور اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کرتے ہوئے انہوں نے 15ہزار سے زائد ووٹوں کی اکثریت سے مسلسل چوتھی مرتبہ کامیابی حاصل کی۔ 2014اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر دوسری مرتبہ مقابلہ کرتے ہوئے انہوں نے 10498 ووٹ کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
سی ایچ لکشما ریڈی ( جڑچرلہ، محبوب نگر )
جڑچرلہ کے ٹی آر ایس رکن اسمبلی لکشما ریڈی نے سرپنچ کی حیثیت سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ وہ 1988ء میں موضع اونچہ کے سرپنچ منتخب ہوئے۔ وہ تماجی پیٹ منڈل پریشد کے نائب صدر کی حیثیت سے بھی منتخب ہوئے۔ 1995ء میں تماجی پیٹ سنگل ونڈو کے صدر کی حیثیت سے انتخاب عمل میں آیا۔ 1996ء میں ضلع گرندھالیہ ترقیاتی بورڈ کے صدرنشین منتخب ہوئے۔ 1999میں جڑچرلہ اسمبلی حلقہ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کیا تاہم انہیں شکست ہوئی۔ 2010ء میں انہوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ 2004 سے 2008تک وہ اس حلقہ سے ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی رہے۔2008ء میں کے سی آر کی اپیل پر انہوں نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دے دیا ۔ 2014 عام انتخابات میں وہ ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔
اے اندرا کرن ریڈی ( نرمل عادل آباد)
اے اندرا کرن ریڈی تین دہائی سے زیادہ سیاسی کیریئر کے حامل ہیں۔ 1999ء میں وہ کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔2004ء میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی زیر قیادت کانگریس کے برسراقتدار آنے پر تین مرتبہ وہ وزارت کے موقع سے محروم رہے۔ 2009میں کانگریس دوبارہ برسراقتدار آئی تاہم نرمل اسمبلی حلقہ سے انہیں شکست ہوئی۔ 2014 عام انتخابات میں انہوں نے کانگریس ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کی جس میں ناکامی کے بعد انہوں نے بی ایس پی کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا اور کامیاب ہوئے۔ بعد میں وہ ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے۔
اجمیرا چندولال ( ملگ ورنگل )
درج فہرست قبائیل سے تعلق رکھنے والے اجمیرا چندولال طویل سیاسی کیریئر کے حامل ہیں۔ وہ این ٹی راما راؤ کی کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے شامل کئے گئے تھے۔ چندو لال کا شمار چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے بااعتماد رفقاء میں ہوتا ہے۔ ریاستی کابینہ میں درج فہرست قبائیل سے کوئی نمائندگی نہیں تھی، ان کی شمولیت سے کابینہ میں ایس ٹی طبقہ کا نمائندہ شامل ہوا ہے۔ چندرا بابو نائیڈو کابینہ میں چندو لال کو کے چندر شیکھر راؤ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور دونوں گہرے دوست بن گئے۔ وہ تلگودیشم پولیٹ بیورو رکن کی حیثیت سے کافی عرصہ تک برقرار رہے۔ کے سی آر کی تلگودیشم سے علحدگی کے بعد 2004کے لوک سبھا انتخابات میں کے سی آر نے انہیں ٹی آر ایس کے ٹکٹ کا پیشکش کیا۔ 2009 کے انتخابات میں انہیںمحبوب آباد اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کا مشورہ دیا گیا۔ انہوں نے محبوب آباد اسمبلی حلقہ سے ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا تاہم انہیں شکست ہوئی۔ 2014میں وہ ملگ اسمبلی حلقہ سے ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔ اجمیرا چندو لال 1996اور 1998ء میں تلگودیشم کے ٹکٹ پر لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے اور 2005ء میں ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔
تملا ناگیشور راؤ ( کھمم )
ضلع کھمم میں تلگودیشم کے سینئر قائد کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھنے والے ناگیشور راؤ نے حالیہ عرصہ میں ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ ان کی شمولیت سے ضلع میں ٹی آر ایس کا موقف کافی مستحکم ہوچکا ہے۔ ان کے ہمراہ ضلع کے تقریباً اہم تلگودیشم قائدین نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ متحدہ آندھرا پردیش میں تملا ناگیشورراؤ کئی اہم وزارتوں پر فائز رہے جن میں روڈ اینڈ بلڈنگس قابل ذکر ہے۔ کھمم ضلع کی ترقی میں انہوں نے اہم رول ادا کیا۔ وہ ستوپلی اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور 2014کے انتخابات میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی حلقہ سے ان کے سیاسی سفر کا آغاز ہوا۔ 1985 میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی اور این ٹی آر کابینہ میں شامل کیا گیا۔ انہیں چھوٹی آبپاشی کا قلمدان دیا گیا۔ 1994 اور1999ء میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وہ چندرا بابو نائیڈو وزارت میں ایکسائیز، بڑی آبپاشی اور آر اینڈ بی قلمدانوں کے انچارج رہے۔2004ء میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 2009ء میں کھمم حلقہ سے انہیں کامیابی ملی۔ 2014ء میں تلگودیشم کے ٹکٹ پر حلقہ اسمبلی کھمم سے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 30اگسٹ 2014کو ناگیشور راؤ نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔
ٹی سرینواس یادو ( صنعت نگر حیدرآباد)
سرینواس یادو نے 1986ء میں کارپوریٹر کی حیثیت سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔تلگودیشم کے ٹکٹ پر گزشتہ اسمبلی انتخابات میں حلقہ اسمبلی صنعت نگر سے کامیابی حاصل کرنے والے سرینواس یادو نے حال ہی میں ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ وہ حلقہ اسمبلی سکندرآباد سے چار مرتبہ منتخب ہوچکے ہیں۔ 1994،1999، 2000اور 2008 میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔ 2014میں انہوں نے ٹی آر ایس امیدوار کو 27ہزار سے زائد ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی۔ وہ سابق میں لیبر اور ٹورازم وزارتوں کی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس کے بہتر مظاہرہ کیلئے کے سی آر نے انہیں وزارت میں شامل کیا۔ وزارت میں شمولیت سے قبل سرینواس یادو نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دے دیا۔ سرینواس یادو کا شمار چندرا بابو نائیڈو کے بااعتماد رفقاء میں ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT