Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کا اقلیتی بجٹ ’ نام بڑے درشن چھوٹے کے مترادف ‘

تلنگانہ کا اقلیتی بجٹ ’ نام بڑے درشن چھوٹے کے مترادف ‘

جاریہ سال صرف 384 کروڑ کے خرچ پر اظہار تشویش ، صدر تلنگانہ پی سی سی اقلیت ڈپارٹمنٹ
حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد خواجہ فخر الدین نے تلنگانہ میں اقلیتی بجٹ کو ’ نام بڑے درشن چھوٹے ‘ کے مماثل قرار دیتے ہوئے جاریہ سال صرف 384 کروڑ روپئے خرچ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں اعلیٰ عہدیداروں کے نظریاتی اختلافات سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نقصان پہونچنے کا الزام عائد کیا ۔ مسٹر محمد خواجہ فخر الدین نے ٹی آر ایس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر اور تلنگانہ کے وزراء اقلیتوں کے تئیں ترقی اور بہبود کے معاملے میں جھوٹے بیانات جاری کرتے ہوئے اقلیتوں کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ اقلیتوں کو خوش کرنے کے لیے ہر سال اقلیتی بجٹ میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔ مگر منظور کردہ بجٹ میں 40 فیصد فنڈز بھی خرچ نہیں کیا جارہا ہے ۔ جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ گذشتہ سال ایک ہزار کروڑ کا اقلیتی بجٹ منظور کیا گیا مگر صرف 500 کروڑ روپئے جاری کئے گئے جاریہ سال 2015-16 کے لیے عام بجٹ میں اقلیتوں کے لیے 1150 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی ۔ مالیاتی سال کے اختتام کے لیے صرف چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک محکمہ فینانس نے 530 کروڑ کی اجرائی کے لیے احکامات جاری کئے ہیں لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کو 425 کروڑ روپئے وصول ہوئے ہیں جس میں سے محکمہ اقلیتی بہبود نے 384 کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں جس میں بڑا حصہ فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپس کے لیے جاری کیا گیا ہے ۔ حکومت اقلیتوں کے لیے بجٹ جاری کرنے کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے ۔ اقلیتی بہبود کا قلمدان چیف منسٹر کے سی آر نے اپنے پاس رکھا ہے ۔ باوجود اس کے انہوں نے اسمبلی میں منظور شدہ اقلیتی بجٹ کی مکمل اجرائی کے معاملے میں ٹال مٹول کی پالیسی اپنا رہے ہیں ۔ صدر تلنگانہ کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد خواجہ فخر الدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقلیتوں کے لیے فوری بی سی سب پلان کا اعلان کریں تاکہ اگر اقلیتی بجٹ خرچ نہ ہونے کی صورت میں آئندہ سال اس کو خرچ کرنے کی گنجائش رہتی ہے ۔ محکمہ اقلیت بہبود مچھلی مارکٹ میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ تمام ادارے ایک دوسرے سے تال میل کرتے ہوئے اقلیتوں کی ترقی اور بہبود کے لیے کام کرنے کے بجائے آپس میں ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے میں اپنا قیمتی وقت ضائع کررہے ہیں اور محکمہ اقلیت بہبود میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں منظر عام پر آرہی ہیں اور ایک ہی عہدیدار کو ایک سے زائد ذمہ داریاں سونپنے کی وجہ سے وہ کام نہیں کرپارہے ہیں اور بے قاعدگیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے اپنے ماتحتین کا تحفظ کرتے ہوئے اقلیتوں کو نقصان پہونچا رہے ہیں جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی اور فوری چیف منسٹر تلنگانہ کو محکمہ اقلیتی بہبود پر توجہ دینے کا مطالبہ کرتی ہے ۔ بصورت دیگر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ احتجاجی دھرنا منظم کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گی ۔ اس کے جو بھی نتائج برآمد ہوں گے اس کے لیے حکومت ذمہ دار ہوگی ۔۔

TOPPOPULARRECENT