Monday , October 22 2018
Home / اضلاع کی خبریں / تلنگانہ کا حصول کے سی آر کی جدوجہد کا نتیجہ

تلنگانہ کا حصول کے سی آر کی جدوجہد کا نتیجہ

نظام آباد میں دکشا دیوس سے ایم پی کے کویتا کا خطاب
نظام آباد :29؍ نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)یوم مرن برت ( دکشا دیوس) کا بڑے پیمانے پر انعقاد عمل میں لاتے ہوئے ٹی آرایس نظام آباد کی جانب سے کلکٹریٹ نظام آباد پر ایک زبردست جلسہ کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نظام آباد کے کویتا نے کہا کہ علیحدہ ریاست تلنگانہ کے حصول کیلئے کے سی آر کی جانب سے کی گئی جدوجہد کے بارے میں نئی نسلوں کو واقف کروانا ناگزیر ہے ۔،اسی لئے نظام آباد میں بڑے پیمانے پر پروگرام کا انعقاد عمل میں لاتے ہوئے ریاست میں ایک مثال قائم کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 29؍ نومبر 2009 ء کو کے سی آر نے علیحدہ ریاست تلنگانہ کے حصول کیلئے عہد کرتے ہوئے مرن برت کا آغاز کیا تھا اور اس وقت اس بات کو واضح کیا تھا کہ علیحدہ ریاست کے حصول کے اعلان کا جشن یا پھر کے سی آر کے آخری رسومات کے عزم کے تحت مرن برت کا آغاز کیا تھا اور 29؍ نومبر سے اعلان تک ہر روز انتہائی سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑااور کے سی آر کو گرفتار کرتے ہوئے کھمم جیل منتقل کیا گیا تو کھمم میں بھی تلنگانہ تحریک کا آغاز ہوا۔60 برسوں کی جدوجہد کے بعد 2001ء میں چندرشیکھر رائو نے تلنگانہ کے حصول کیلئے جدوجہد کا آغاز کیا تھا اور اس وقت کوئی بھی شخص تلنگانہ تحریک کے بارے میں بھروسہ کرنے کیلئے تیار نہیں تھا لیکن چندر شیکھر رائو اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے کبھی بھی صلح کئے بغیر ہی تلنگانہ کے حصول تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے جان کی پرواہ کئے بغیر ہی تلنگانہ ریاست کے قیام کیلئے آگے بڑھتے رہے اور تلنگانہ ریاست کا قیام عمل میں لانے میں اہم رول ادا کرتے رہے ۔ شریمتی کے کویتا نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے قیام کے بعد کروڑوں روپئے سے ترقیاتی کاموں کو انجام دئیے جارہے ہیں اور تلنگانہ اس حد تک ترقی کرچکا ہے کہ 8 ریاستوں کے مطالبہ کے باوجود بھی بین الاقوامی حیدرآباد میں گلوبل انٹر پرینرس سمٹ کا انعقاد عمل میں آیا ہے اور یہ تین سالوں میں تلنگانہ حکومت کی ترقی ہے۔ اُردو تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان ہے اور یہ زبان ہر زبان میں ملتی ہے جبکہ تلگو اخبارات میں اُردو الفاظ کا استعمال کرتے ہیں اس کے باوجود بھی آندھرائی افراد اُردو کے ساتھ نا انصافی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کی حکومت میں معمر افراد کو سالانہ 72 کروڑ روپئے کے وظائف فراہم کئے جاتے تھے لیکن تلنگانہ کے قیام کے بعد ہر ماہ 40 لاکھ افراد کو 412 کروڑ روپئے کے وظائف فراہم کئے جارہے ہیں ۔ رکن راجیہ سبھا ڈی سرینواس نے ابتدائی سیشن میں اپنی تقریر میں کہا کہ اس وقت میں صدر پردیش کانگریس تھا اور یہاں کے حالات سے کانگریس ہائی کمان کو واقف کرواتا رہا ۔ کے سی آر کی جدوجہد کے نتیجہ میں ہی علیحدہ ریاست تلنگانہ کا قیام عمل میں آیا ہے اور مرکز ی حکومت کو پارلیمنٹ میں بل پاس کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑااور تلنگانہ حکومت کے قیام کے بعد تمام طبقات کی ترقی کو انجام دیتے ہوئے حکومت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اس موقع پر نائب صدر مشن بھگیرتا پرشانت ریڈی، ارکان اسمبلی باجی ریڈی گوردھن ، جیون ریڈی ، بیگالہ گنیش گپتا، ایم ایل سیز ڈاکٹر بھوپت ریڈی، وی جی گوڑ، ریڈ کو چیرمین ایس اے علیم ، مئیر آکولہ سجاتا ، ضلع پریشد چیرمین دفعدار راجو ،نائب صدر ضلع یریشد سومنا ریڈی ، صدر ریاستی اقلیتی سیل ٹی آرایس ایم کے مجیب الدین ، ٹی آرایس سکریٹری طارق انصاری ، اقلیتی سیل نظام آباد ضلع صدر نوید اقبال ، محمد عبدالقدوس کارپوریٹر ، عمران شہزاد ٹائون اقلیتی سیل صدر ، یوتھ لیڈر جاگرتی ریحان احمد، نائب صدر ٹائون ٹی آرایس سید مجاہد علی ببو،ٹی آرایس قائدین محمد اکبر خان ، اختر احمد ، محمد رفیع، فہیم قریشی ، شیخ علی صابری کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT