Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ کا سالانہ بجٹ 1,30,415,87 کروڑ روپئے پر مشتمل

تلنگانہ کا سالانہ بجٹ 1,30,415,87 کروڑ روپئے پر مشتمل

عوام پر ٹیکس بوجھ ڈالے بغیر وسائل میں اضافہ کی کوشش : وزیر فینانس راجندر

حیدرآباد ۔ 14 مارچ ۔ ( سیاست نیوز ) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں ریاست کا سالانہ بجٹ پیش کیا گیا ۔ وزیر فینانس مٹر ای راجندر نے برائے سال 2016-17 کی بابت جملہ (1,30,415.87) کروڑ روپیوں کے مصارف پر مشتمل سالانہ بجٹ کی تجویز پیش کی جس میں غیرمنصوبہ جاتی مصارف (62,786.14) کرو ڑ روپئے اور منصوبہ جاتی مصارف (67,630.73) کرور روپئے شامل  ہیںجبکہ بالخصوص اقلیتی طبقات کی بہبود کیلئے گزشتہ سال کے مقابلہ میں کسی قدر رقومات میں اضافہ کرتے ہوئے سال 2016-17 کیلئے (1204) کروڑ روپیوں پر مشتمل بجٹ پیش کیا گیاہے ۔ ایوان اسمبلی میں وزیر فینانس نے اپنی بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سال 2016-17 کا تجویز کردہ بجٹ عوام پر کوئی مالی بوجھ ڈالے بغیر وسائل میں اضا فہ کی بھرپور کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ انھوں نے کہاکہ اگرچہ موازنہ برائے سال 2016-17 ریاست تلنگانہ کا تیسرا موازنہ ہے لیکن یہ پہلا موازنہ ہے جوکہ تمام اُمور مصارف کا جامع جائزہ لینے اور وسائل کے دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے کے بعد مرتب کیا گیا ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں تلنگانہ کی معاشی ترقی اس کے انفراسٹرکچر اور سماجی شعبوں کو دانستہ طورپر نظرانداز کردینے اور اس کے وسائل کا رخ سابقہ متحدہ ریاست کے دیگر علاقوں کی طرف موڑ دینے کے سبب اس کی قوت سے کہیں کم تھی ۔ مسٹر ای راجندر نے بتایا کہ ہماری اپنی ریاست کی تشکیل سے ہم نے آبپاشی کیلئے ہمارے پانی ، مالی وسائل اور روزگار پر قابو حاصل کرلیا ہے ۔ اس کی وجہہ سے تلنگانہ کی معیشت جکڑبندیوں سے آزاد ہوگئی اور ترقی کے سفر میں ایک لمبی جست لگائی ہے جس کا مشاہدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے حاصل ہونے والی ترقی کی شرح سے کیا جاسکتا ہے ۔   وزیر موصوف نے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں معیشت کی بہتری کے حصول میں نمایاں اور اختراعی اقدامات کا آغاز کیا ہے جسے اب تک نظرانداز کردیا گیا تھا۔ شاید ملک میں اس طرح کی کوئی دیگر ریاست نہیں ہوگی جو مختصر وقت میں ایسے وسیع تر اقدامات کئے ہوں ۔ وزیر فینانس مسٹر ای راجندر نے مزید کہاکہ تلنگانہ 2 جون 2014 ء تک ’’بند پنجرہ کا شیر تھا‘‘ لیکن اب یہ ریاست تمام بندشوں و جکڑبندیوں سے آزاد ہے اور اب یہ ملک بھر میں عاجلانہ و تیز رفتار ترقی کرتی ہوئی ایک رفاہی ریاست کے طورپر اُبھرے گی ۔ انھوں نے کہاکہ مختصر مدت کے اندر ہم نے عوام کا اعتماد حاصل کیا کہ حکومت عوام کی بہبود پر اولین ترجیح دے رہی ہے بالخصوص غریب ، بے سہارا ، یتیموں اور سماج کے کچلے ہوئے طبقات کی مدد کرنے کیلئے ہمہ مقصدی اقدامات تلنگانہ حکومت کررہی ہے ۔ وزیر موصوف نے اقلیتی بہبود کاتذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کی بہبود ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ریاست کی تشکیل سے اب تک ان کی بہبود کیلئے کئی اقدامات کئے گئے ۔ جاریہ سال شادی مبارک اسکیم کو متعارف کرکے (100) کروڑ روپئے کی رقم فراہم کی اور ان رقومات کا مکمل استعمال بھی کیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT