Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کا سہرا کسی ایک کے سر باندھنا ناانصافی

تلنگانہ کا سہرا کسی ایک کے سر باندھنا ناانصافی

عوامی منشور کے زیرعنوان گول میز کانفرنس سے ڈاکٹر چرنجیوی، ویدا کمار و دیگر کا خطاب

عوامی منشور کے زیرعنوان گول میز کانفرنس سے ڈاکٹر چرنجیوی، ویدا کمار و دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔31مارچ(سیاست نیوز)عوامی منشور کے زیرعنوان تلنگانہ بلیک وائس‘ تلنگانہ آزادفورس‘ تلنگانہ سٹیزن فورم کی گول میز کانفرنس شعیب اللہ خان ہال‘ یس وی کیندرم باغ لنگم پلی میںمنعقدکی گئی جس کی صدرات پروفیسر سوریہ پلی سجاتا نے کی جبکہ ڈاکٹر کولیورو چرنجیوی کوکنونیر 1969تلنگانہ مومنٹ فاونڈرس فورم‘ مسٹر ایم ویدا کمارنائب صدر واسٹیٹ کوارڈینٹر تلنگانہ پرجافرنٹ‘ رتنامالا‘ ڈاکٹر گوپی ناتھ‘ کروناکر ریڈی‘ جسونت جسی‘ ڈاکٹر ہری کانت ‘ سرینواس بھنڈاری کے علاوہ دیگر تلنگانہ حامی جہدکاروں نے مذکورہ گول میز کانفرنس میںحصہ لیا۔ عنوان کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر کولیور ی چرنجیوی نے کہاکہ عوامی منشور کے ذریعہ مجوزہ ریاست تلنگانہ میں برسراقتدار انے والی سیاسی جماعت پر عائد ذمہ داریوں کی توجہہ دہانی کے لئے تلنگانہ حامی نوجوانوں کی پہل قابلِ ستائش اقدام ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل ایک سیاسی عمل ہے جس کو سیاسی مفادات کے لئے پورا بھی کیا گیا مگر تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا سہرا کسی ایک سیاسی جماعت یاقا ئد کے سر باندھنا تلنگانہ تحریک سے ناانصافی کے مترداف ہوگا۔ انہوں نے مزید کہاکہ عا انتخابات سے قبل تلنگانہ تحریک کی سب سے بڑی خودساختہ علمبردار سیاسی جماعت کا رویہ جذبہ تلنگانہ کو کمزور بنانے کی کوشش نظر آرہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ٹی آر ایس سربراہ کے موجودہ رویہ سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ وہ تلنگانہ تحریک اور جذبہ تلنگانہ کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے عوامی منشور کے تحت تلنگانہ میں پسماندگی کاشکار تمام طبقات کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم کرنے کا ذمہ دار مجوزہ ریاست تلنگانہ میںبرسراقتدار انے والی سیاسی جماعت کو ٹھرایا۔ایم ویدا کمار نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مفت تعلیم اور طبی سہولتوں کی فراہمی سنہری تلنگانہ ریاست کی تشکیل میں مددگار اقدام ثابت ہوگا۔ ڈاکٹر گوپی ناتھ نے اعلی ذات والوں کے ہاتھوں میںاقتدار کی باگ ڈور کو تلنگانہ میں پسماندگی کاشکار طبقات کے ساتھ انصاف میںسب سے بڑی رکاوٹ قراردیا۔ اس کے علاوہ دیگر مقررین نے عوامی منشور کے تحت مسلمانوں کے علاوہ دیگر پسماندہ اور قبائیلی طبقات کو آبادی کے تناسب سے تحفظات فراہم کرنے کی تائیدوحمایت کی۔

TOPPOPULARRECENT