Wednesday , November 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / تلنگانہ کو مثالی ریاست بنانے کیلئے منصوبہ بند پروگرام

تلنگانہ کو مثالی ریاست بنانے کیلئے منصوبہ بند پروگرام

ظہیرآباد میں رکنیت سازی مہم، ایم ایل سی فرید الدین کا اجلاس سے خطاب
ظہیرآباد۔/21مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاست کی برسر اقتدار ٹی آر ایس کی ظہیرآباد منڈل میں رکنیت سازی مہم کے آغاز کے ضمن میں یہاں یونائٹیڈ فنکشن ہال میں منعقدہ اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایم ایل سی محمد فرید الدین نے پرزور الفاظ میں کہا کہ ٹی آر ایس کے مضبوط سیاسی استحکام کے ذریعہ ہی سنہرے تلنگانہ کے ویژن کو کامیابی سے ہمکنار کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے پارٹی سے وابستہ تمام قائدین و سرگرم کارکنوں کو چاہیئے کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں پارٹی سے جوڑنے کے لئے شروع کردہ رکنیت سازی کے لئے مقررہ نشانہ کی حد کو پار کریں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد منعقدہ انتخابات میں عوام نے ریاست کا اولین اقتدار ٹی آر ایس کے حوالے کیا جس نے علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے لئے کامیاب جدوجہد کی تھی اور یہ کہ حصول اقتدار کے بعد حکومت کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کئی اقدامات کئے اور ریاست کو مثالی بنانے کیلئے منصوبہ بند پروگرام کا آغاز کیا۔ انہوں نے دوٹوک کہا کہ ریاستی چیف منسٹر کے انقلابی اقدامات سے متاثر ہوکر دوسری پارٹیوں سے وابستہ کئی قائدین و کارکنوں نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی جس سے پارٹی کے سیاسی استحکام کو زبردست تقویت حاصل ہوئی۔ انہوں نے پارٹی سے وابستہ قائدین و سرگرم کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی وابستگی کی مدت کا لحاظ کئے بغیر ایک جٹ ہوکر پارٹی کی رکنیت سازی کیلئے شروع کردہ مہم میں سرگرم رول ادا کریں اور آنے والے عام انتخابات میں پارٹی کی تاریخ ساز کامیابی کیلئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں عوام کو پارٹی کی رکنیت سے مربوط کریں۔ صدر زرعی مارکٹ کمیٹی ظہیرآباد ڈی لکشما ریڈی اور انچارج ٹی آر ایس حلقہ اسمبلی ظہیرآباد کے مانک راؤ نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس کی کارروائی صدر ٹی آر ایس ظہیرآباد منڈل ایس ویدیا ناتھ نے چلائی۔ اس موقع پر ٹی آر ایس کے سرکردہ قائدین و کارکنوں نے پارٹی کی رکنیت حاصل کی۔ اجلاس میں ظہیرآباد منڈل کے دیگر سرکردہ قائدین چرنجیوی پرساد، رام کرشنا ریڈی، کشن پوار، مرلی کرشنا گوڑ، جی وجئے کمار، قطب الدین، محمد نذیر احمد، مانکیماں، چندولاونیا، ایم اے باسط اور دوسروں کے بشمول پارٹی کارکنوں کی قابل لحاظ تعداد موجود تھی۔

TOPPOPULARRECENT