Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کو نسل فار ہائیر ایجوکیشن کے قیام کا فیصلہ

تلنگانہ کو نسل فار ہائیر ایجوکیشن کے قیام کا فیصلہ

ایمسیٹ کونسلنگ اور تعلیمی فیس کی بازادائیگی پر تنازعہ برقرار

ایمسیٹ کونسلنگ اور تعلیمی فیس کی بازادائیگی پر تنازعہ برقرار
حیدرآباد۔/2اگسٹ، ( سیاست نیوز) طلبہ کو فیس بازادائیگی مسئلہ پر جاری تنازعہ کے دوران تلنگانہ حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تلنگانہ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن کے قیام کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلہ میں حکومت نے آج احکامات جاری کئے۔ آندھرا پردیش کونسل فار ہائیر ایجوکیشن کو ریاست کی تنظیم جدید سے متعلق قانون کے تحت تقسیم کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت نے اپنی ریاست کیلئے علحدہ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ فیس باز ادائیگی اور ایمسیٹ کونسلنگ کے مسئلہ پر آندھرا پردیش اور تلنگانہ ریاستوں میں تنازعہ چل رہا ہے۔ تلنگانہ حکومت آندھرا پردیش کے ملازمین کو تعلیمی فیس ادا کرنے تیار نہیں۔ دوسری طرف تلنگانہ حکومت اے پی کونسل فار ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے ایمسیٹ کونسلنگ کے اعلامیہ کو بھی ماننے تیار نہیں۔ تلنگانہ حکومت نے انجینئرنگ میں داخلوں سے متعلق ایمسیٹ کونسلنگ کے تنازعہ سے بچنے کیلئے علحدہ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن کی تشکیل کا فیصلہ کیا۔ جی او ایم ایس 5میں کہا گیا ہے کہ آندھرا پردیش تنظیم جدید بل 2014ء کے مطابق تلنگانہ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن تشکیل دی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن کے ذریعہ تلنگانہ حکومت علحدہ ایمسیٹ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے انجینئرنگ میں داخلوں کا عمل شروع کرے گی۔ جی او کے مطابق تلنگانہ کونسل فار ہائیر ایجوکیشن میں بہ اعتبار عہدہ رکن کی حیثیت سے عثمانیہ ، کاکتیہ، مہاتما گاندھی، تلنگانہ، جے این ٹی یو، پالمور اور شاتاوہانہ یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کو شامل کیا گیا ہے۔ اسی دوران اے پی کونسل فار ہائیر ایجوکیشن کے عہدیداروں نے اس نئی تبدیلی پر اجلاس منعقد کیا اور بتایا جاتا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر غور کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ ایمسیٹ کونسلنگ کی تواریخ کے اعلان کے بعد یہ معاملہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوچکا ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد ہی انجینئرنگ میں داخلوں کے بارے میں منظر صاف ہوپائے گا۔ تلنگانہ حکومت نے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اعلان کردہ کونسلنگ میں حصہ نہ لیں کیونکہ تلنگانہ حکومت ان کیلئے علحدہ کونسلنگ منعقد کرے گی۔دونوں حکومتوں کے درمیان اس تنازعہ کے سبب طلبہ میں زبردست اُلجھن پائی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT