Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کیلئے اضافی حج کوٹہ مسترد، مرکزی حکومت کا فیصلہ

تلنگانہ کیلئے اضافی حج کوٹہ مسترد، مرکزی حکومت کا فیصلہ

چیف منسٹر کے سی آرکے مکتوب پر مملکتی وزیرخارجہ جنرل وی کے سنگھ کا جواب

چیف منسٹر کے سی آرکے مکتوب پر مملکتی وزیرخارجہ جنرل وی کے سنگھ کا جواب
حیدرآباد۔2مئی( سیاست نیوز) مرکزی حکومت نے تلنگانہ کیلئے زائد حج کوٹہ الاٹ کرنے سے انکار کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں مملکتی وزیر خارجہ جنرل وی کے سنگھ نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکتو ب روانہ کرتے ہوئے تلنگانہ کیلئے زائد کوٹہ الاٹ کرنے سے متعلق اُن کے مکتوب کا جواب دیا ۔جنرل وی کے سنگھ نے چیف منسٹر کو روانہ کردہ مکتوب میں واضح کیا ہے کہ ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کو حج کوٹہ کے الاٹمنٹ میں وزارت خارجہ مکمل شفافیت کے ساتھ کام کررہا ہے ۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ تلنگانہ کیلئے مزید کوٹہ کا الاٹمنٹ ممکن نہیں ۔ چیف منسٹر کے دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ جنرل وی کے سنگھ کے جواب کے بعد چیف منسٹر اس سلسلہ میں دوبارہ ایک اور مکتوب روانہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں ۔ وہ نئی ریاست تلنگانہ اور زائد درخواستوں کا حوالہ دیتے ہوئے مرکز سے درخواست کریں گے کہ زائد نشستیں الاٹ کی جائیں ۔ چیف منسٹر نے 20مارچ کو وزیر خارجہ سشما سوراج کو مکتوب روانہ کیا تھا جس میں تلنگانہ کیلئے مزید دو ہزار نشستوں کے الاٹمنٹ کی خواہش کی گئی تھی ۔ سشما سوراج نے تلنگانہ حکومت کی اس درخواست کو وزارت خارجہ سے رجوع کردیا اور مملکتی وزیر خارجہ جنرل وی کے سنگھ نے چیف منسٹر کو جواب روانہ کیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ وزارت خارجہ کے پاس تقریباً 6000نشستوں کے الاٹمنٹ کی گنجائش موجود ہے اور نئی ریاست تلنگانہ اس میں سے کچھ حصہ حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ تلنگانہ میں قرعہ اندازی میں انتخاب سے محروم عازمین کو سفر حج پر روانہ کیا جاسکے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر 5مئی کو نئی دہلی کے دورہ کے موقع پر اس سلسلہ میں سشما سوراج سے شخصی طور پر نمائندگی کا منصوبہ بنارہے ہیں ۔ وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب حکومت نے ہندوستان کیلئے جو حج کوٹہ ایک لاکھ 20 الاٹ کیا اُسے سنٹرل حج کمیٹی اور خانگی ٹور آپریٹرس میں 77 فیصد اور 27فیصد کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے ۔ اس اعتبار سے سنٹرل حج کمیٹی کا کوٹہ 94,000 طئے پایا ‘ جو 2001ء مردم شماری میں مسلم آبادی کے اعتبار سے ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کو تقسیم کیا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حج کمیٹی کے الاٹمنٹ کے بعد مرکزی حکومت نے کشمیر کیلئے 1500 اور لکشادیپ کیلئے 250 کا اضافی کوٹہ منظور کیا ۔ کشمیر کا اصل کوٹہ 4866ہے جب کہ لکشادیپ کا کوٹہ 41تھا ‘ تاہم دونوں ریاستوں میں زائد درخواستوں کو دیکھتے ہوئے مرکز نے اضافی کوٹہ الاٹ کیا ۔ صدر جمہوریہ ‘ نائب صدر جمہوریہ اور وزارت خارجہ کو خصوصی کوٹہ کے الاٹمنٹ کا اختیار ہے ۔ جنرل وی کے سنگھ نے اپنے مکتوب میں بتایا کہ 2014ء میں متحدہ آندھراپردیش کیلئے جو کوٹہ الاٹ کیا گیا تھا اُسی بنیاد پر جاریہ سال تلنگانہ اور آندھراپردیش کیلئے کوٹہ الاٹ کیا گیا اور یہ دونوں ریاستوں میں مسلم آبادی کی بنیاد پر ہے ۔ انہوں نے گذشتہ دو برسوں میں الاٹ کئے گئے حج کوٹہ کی تفصیلات بیان کیں۔جنرل وی کے سنگھ نے کہا کہ جاریہ سال فاضل نشستوں کی تعداد میں کمی آئی ہے لہٰذا مرکز نے گجرات ‘ کیرالا اور مدھیہ پردیش میں ایسی درخواستوں کی یکسوئی کا فیصلہ کیا ہے جو مسلسل پانچ برسوں سے داخل کی جارہی ہیں لیکن اُن کا قرعہ اندازی میں انتخاب عمل میں نہیں آیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تمام ریاستوں سے زائد کوٹہ کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور ایک لاکھ 20نشستوں کیلئے تین لاکھ 83ہزار 146درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔مملکتی وزیر خارجہ نے بتایا کہ مرکز ہندوستان کے حج کوٹہ میں اضافہ کی مساعی کررہا ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2016ء میں صورتحال بہتر ہوگی کیونکہ سعودی عرب کی حکومت 20فیصد کٹوتی سے دستبرداری اختیار کرسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT