Sunday , May 27 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کی برسراقتدار ٹی آر اسی حکومت مسائل کا سامنا کرنے سے خوفزدہ

تلنگانہ کی برسراقتدار ٹی آر اسی حکومت مسائل کا سامنا کرنے سے خوفزدہ

اقامتی اسکولس اور کالجس پر مباحث میں ٹی آر ایس رکن کی مداخلت پر محمد علی شبیرکی اظہارناراضگی
حیدرآباد ۔ 16 ۔ نومبر (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے آج ایوان سے چلے جانے کی دھمکی دی اور الزام عائد کیا کہ برسر اقتدار پارٹی مسائل کا سامنا کرنے سے خوف زدہ ہے اور حکمت عملی کے تحت اپوزیشن کو ایوان سے باہر کرنا چاہتی ہے۔ محمد علی شبیر نے اس وقت یہ برہمی ظاہر کی جب سرکاری اقامتی اسکولوں اور کالجس کے مسئلہ پر وہ مختصر مباحث میں حصہ لے رہے تھے۔ انہوں نے تقریر کی ابتداء اقامتی اسکولوں کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کی اور پھر 2014 ء تک موجود اسکولوں اور گزشتہ تین برسوں میں اضافہ کی گئی تعداد کی تفصیلات بیان کی ۔ اس مرحلہ پر برسر اقتدار پارٹی کے کسی رکن نے ریمارک کیا کہ یہ اعداد و شمار غلط ہیں۔ اس پر محمد علی شبیر برہم ہوگئے اور گورنمنٹ چیف وہپ یو سدھاکر ریڈی سے کہا کہ اس قدر بے صبری کا مظاہرہ آخر کیوں کیا جارہا ہے ۔ ایسے افراد کس طرح طلبہ کو تعلیم دیتے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جب کبھی وہ عوامی مسائل پر آواز اٹھاتے ہیں تو چیف وہپ مداخلت کرتے ہوئے رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدرنشین کی اجازت سے بات کر رہے ہیںاور قائد اپوزیشن کی تقریر میں مداخلت کا کسی کو اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت چاہے تو وہ ایوان سے چلے جائیں گے لیکن دوران تقریر رننگ کامینٹری انہیں پسند نہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے مداخلت کی اور محمد علی شبیر سے کہا کہ آپ ایوان سے ہرگز نہ جائیں ، ایوان میں موجود رہتے ہوئے بحث میں حصہ لیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کسی بھی رکن کی جانب سے ان کے خلاف ریمارک نہیں کیا گیا اور محمد علی شبیر کو سدھاکر ریڈی اور خود ان پر شبہ ہوچکا ہے۔ اس وضاحت کے بعد محمد علی شبیر نے کہا کہ عوامی مسائل سے بچنے کیلئے حکومت حکمت عملی کے تحت اپوزیشن کو ایوان سے باہر دیکھنا چاہتی ہے۔ محمد علی شبیر نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتوں کیلئے اقامتی اسکولوں کے قیام پر حکومت کی ستائش کی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بیک وقت بڑی تعداد میں اسکولوں کے قیام کے بجائے مرحلہ وار انداز میں قیام کی کوشش کی جانی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی ہے اور ٹیچنگ اسٹاف کا تقرر ابھی تک نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ اسکولوں کی عمارتیں نہ کافی اور سہولتوں سے عاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کیلئے اسکولوں کی تعداد 206 ہوچکی ہے جس کے ذریعہ حکومت کی نیت تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کی نیت پر کوئی شبہ نہیں کرتے تاہم ان کا کہنا ہے کہ تمام سہولتوں کے ساتھ مختلف مراحل میں یہ اسکولس قائم کئے جانے چاہئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولوں میں پانچویں تا ساتویں جماعت تک کلاسس کا اہتمام ہے۔ تاہم ضرورت اس بات کی تھی کہ پرائمری سطح سے داخلے دیئے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی کے سبب عوام خانگی اسکولوں کا رخ کر رہے ہیں اور کارپوریٹ ادارے طلبہ کا استحصال کر رہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے ریمارک کیا کہ بیک وقت بڑی تعداد میں اقامتی اسکولوں کا قیام ایسا ہی ہے جیسے ’’آپریشن کامیاب مریض فوت‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال ڈی ایس سی کے انعقاد کا وعدہ کرتے ہوئے ٹیچرس کو خوش کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایس سی کے انتظار میں امیدواروں کی عمر تجاوز کرچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT