Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کی تاریخی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بازیابی اقتدار والی جماعت کی ذمہ داری

تلنگانہ کی تاریخی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بازیابی اقتدار والی جماعت کی ذمہ داری

تلنگانہ رچائی تالاویدیکا کی گول میز کانفرنس ، ماہر تعلیم چکارامیا اور دیگر کا خطاب

تلنگانہ رچائی تالاویدیکا کی گول میز کانفرنس ، ماہر تعلیم چکارامیا اور دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔9مئی(سیاست نیوز) علاقہ تلنگانہ کی قدیم اور عظیم تاریخ اور تلنگانہ کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بازیابی کے لئے مجوزہ ریاست تلنگانہ میںبرسراقتدار آنے والی سیاسی جماعت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سب سے پہلے تلنگانہ کے تعلیمی نصاب بالخصوص تاریخ کی کتابوں کو تبدیل کرے۔ تلنگانہ رچائی تالا ویدیکا کے زیر اہتمام منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کے دوران سابق رکن قانون ساز کونسل پروفیسر چکارامیہ نے یہ خیال ظاہر کیا۔ تلنگانہ کے تعلیمی شعبوں میں درکار اصلاحات کے عنوان پر منعقدہ اس گول میز کانفرنس سے پروفیسر ہرا گوپال ‘ مسٹر ایم ویدا کمار چیرمین ٹی آر سی و نائب صدر ٹی پی ایف ‘ شریمتی ممتا جنرل سکریٹری مکتا‘ نرسمہاریڈی کے علاوہ دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مسٹر چکارامیا نے کہاکہ پچھلے ساٹھ سالوں میںنصاب کی کتابوں بالخصوص تاریخ کے مضامین کو غلط انداز میںپیش کرنے کے متعلق تحقیقات ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ نئی ریاست تلنگانہ میںبرسراقتدار آنے والی سیاسی جماعت پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پچھلے ساٹھ سالوں میں ریاستی حکومت کی جانب سے شائع کردہ تاریخ کی کتابوں کو جائزہ لیکر تلنگانہ کی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی تحقیقات کرے۔ پروفیسر ہرا گوپال نے گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی سطح پر درپیش فرقہ پرستی کے خطرہ سے نئی ریاست تلنگانہ کو بچانے کے لئے تلنگانہ کی نوجوان نسل کو تلنگانہ کی حقیقی تاریخ سے واقف کروانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کے تاریخی نصاب میںمسلم مجاہد جنگ آزادی کو نظر انداز کیاگیا مگر اب جبکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل عمل میں آرہی ہے تو ان حالات میں نئی حکومت کے ذمہ داران سابق میں پیش آئے غلطیوں کے ازالہ کے لئے تاریخ کے نصاب میںمسلم جہدکاروں کو شامل کرے۔ انہوں نے کہاکہ طرے باز خان‘ بندے علی پاشاہ‘ مخدوم محی الدین جیسے عظیم مجاہدین کو تاریخ کی کتابوں میںشامل کرتے ہوئے نوجوان نسل کو ان کے کارناموں سے واقف کروایا جائے تاکہ دیگر طبقات میںمسلمانوں کے متعلق پائے جانے والی بدگمانیوں کو آسانی سے دور کیا جاسکے۔مسٹر ویدا کمار نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تاریخی اثاثوں کے متعلق تعلیمی نصاب میں مضامین تلنگانہ کی نوجوان نسل کو تلنگانہ کی حقیقی تاریخ سے واقف کروانے میں معاون اقدام ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئی ریاست تلنگانہ میں مشترکہ تعلیمی نظام کا فروغ ضروری ہے جہاں پر سرمایہ دار اور مزدور پیشہ افراد کے بچے یکساں تعلیم حاصل کرسکیں ۔ انہوں نے کہاکہ تاریخی اثاثوں کے متعلق مقام کا مشاہدہ بھی طلبہ کے لئے مددگار ہوگااور تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین آب وہوا اور کھیل کود کے موثر مواقع فراہم کیا جانا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT