Tuesday , December 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کی ترقی میں اپوزیشن پارٹیاں حائل

تلنگانہ کی ترقی میں اپوزیشن پارٹیاں حائل

عوام بھی کانگریس اور تلگو دیشم کی حرکتوں سے بیزار ، جوپلی کرشنا راؤ کا بیان
حیدرآباد۔/8نومبر، ( سیاست نیوز) وزیر پنچایت راج جوپلی کرشنا راؤ نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن جماعتیں ریاست کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی سازشیں کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام اپوزیشن پر بھروسہ کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کرشنا راؤ نے کہا کہ کسانوں کے مسائل پر تلگودیشم اور کانگریس پارٹی مگرمچھ کے آنسو بہارہے ہیں اور کسانوں سے ہمدردی کے نام پر یاترا کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ  میں پہلی مرتبہ اگر کسی حکومت نے کسانوں کی بھلائی پر توجہ مرکوز کی ہے تو وہ کے سی آر حکومت ہے۔ سابق میں متحدہ آندھرا پردیش کی حکومتوں نے کسانوں کی بھلائی کو نظرانداز کردیا تھا جس کے نتیجہ میں کانگریس اور تلگودیشم دور حکومت میں بڑے پیمانے پر کسانوں کی خودکشی کے واقعات پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کے ذریعہ زرعی شعبہ کی ترقی اور کسانوں کی خوشحالی کو یقینی بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر  زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے اہمیت کی حامل ہے اور اس کا اندازہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی ہے تاہم وہ سیاسی مقصد براری کے تحت نہ صرف پراجکٹس کی مخالفت کررہی ہیں بلکہ کسانوں کو مشتعل کیا جارہا ہے۔ جوپلی کرشنا راؤ نے الزام عائد کیا کہ محبوب نگر کے آبپاشی پراجکٹس کیلئے کانگریس دور حکومت میں کئی اعلانات کئے گئے تھے اسی طرح تلگودیشم دور حکومت میں بھی صرف زبانی ہمدردی کی گئی۔ اب جبکہ ٹی آر ایس حکومت نے پراجکٹس کی تعمیر کا آغاز کیا ہے تلگودیشم پارٹی نے مخالفت کا عہد کرتے ہوئے کسان دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کی تقسیم کی تلگودیشم پارٹی نے مخالفت کی تھی اور اب ریاست کی ترقی کو روکنے کیلئے پراجکٹس کی تعمیر میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔ انہوں نے اس الزام کو مسترد کردیا کہ کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کیلئے حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ وزیر پنچایت راج نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے ابھی تک 10ہزار کروڑ کے قرضہ جات معاف کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باقی قرضہ جات کی بھی معافی بھی حکومت کے ایجنڈہ میں شامل ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس سلسلہ میں پہلے ہی عہدیداروں کو ہدایات جاری کی ہیں۔ کرشنا راؤ نے کہا کہ انتخابی منشور میں کسانوں سے متعلق جو وعدے کئے گئے تھے ان پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تلگودیشم قائدین کو تلنگانہ کے مسائل اور کسانوں کی مشکلات سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ آندھرا پردیش میں تلگودیشم پارٹی نے پالامور پراجکٹ کی تعمیر روکنے کیلئے قرارداد منظور کی لیکن تلنگانہ تلگودیشم قائدین اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ کو جو مراعات دی گئی ہیں انہیں روکنے کیلئے تلگودیشم ہر ممکن اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف لاکھ الزام تراشی کریں لیکن عوام ان پر بھروسہ کرنے والے نہیں ہیں۔ کسان اچھی طرح جانتے ہیں کہ صرف ٹی آر ایس حکومت ہی ان کی خوشحالی کو یقینی بناسکتی ہے۔ کرشنا راؤ نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ الزام تراشی کو ترک کرتے ہوئے حکومت کو تعمیری تجاویز پیش کریں۔

TOPPOPULARRECENT