Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بھی اردو زبان کا کوئی پرسان حال نہیں

تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بھی اردو زبان کا کوئی پرسان حال نہیں

زبان کے فروغ کیلئے حکومت کے کوئی عملی اقدامات نہیں۔ کئی دفاتر میں اردو داں افراد ندارد
حیدرآباد۔12جنوری (سیاست نیوز) اردو کے ترقی و ترویج میں شہر حیدرآباد بلکہ سرزمین دکن کی خدمات کا ہر کوئی معترف ہے ۔ حکومت آندھرا پردیش نے ریاست آندھرا پردیش کے 14اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف دیا لیکن اس پر مؤثر عمل آوری نہیں ہو پائی لیکن 2014میں ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بھی اردو کی حالت میں کوئی بہتری پیدا نہیں ہوئی بلکہ ان 14اضلاع میں 9اضلاع جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف حاصل ہے تلنگانہ میں آنے کے باوجود اردو کی حالت انتہائی نا گفتہ بہ ہے۔ اردو زبان کا ریاست تلنگانہ میں کوئی پرسان حال نہیں ہے اور دوسری سرکاری زبان کے مسئلہ پر تلنگانہ میں بھی کوئی مؤثر عمل آوری نہیں دیکھی جا رہی ہے۔اتر پردیش میں ریاستی الیکشن کمیشن نے اردو زبان میں فہرست رائے دہندگان کی ترتیب و اشاعت کے فیصلہ سے یہ ثابت کردیا ہے کہ سرکاری سطح پر اگر اردو زبان کے فروغ میں سنجیدگی اختیار کی جائے تو زبان کو زبردست ترقی حاصل ہو سکتی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اترپردیش کے 22اضلاع میں موجود 46ایسے اسمبلی حلقہ جات ہیں جو مسلم غالب آبادی والے ہیں ان حلقو ںمیں انگریزی ‘ ہندی کے علاوہ اردو زبان کی فہرست رائے دہندگان بھی موجود رہے گی۔ اردو زبان کی ارتقاء میں حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اہم قدم میں یہ پیشرفت تصور کی جا رہی ہے کہ ریاستی الیکشن کمیشن نے اردو زبان میں فہرست رائے دہندگان کی اشاعت و مسلمہ پارٹیوں کو فراہمی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں اردو کے مستقبل کے متعلق سوالات و شبہات پیدا ہونے لگے ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے اردو کے فروغ کے لئے کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں اور نہ ہی الیکشن کمیشن کی جانب سے اردو زبان میں فہرست رائے دہندگان کی تیاری یا اشاعت کا کوئی منصوبہ ہے ۔ ریاست میں اردو کی ترقی و ترویج کے اقدامات کیلئے صرف اردو میں جملوں کی ادائیگی کافی نہیں ہوتی بلکہ سرکاری سطح پر اردو زبان کے فروغ کیلئے اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں لیکن اسکے لئے کارکرد اردو اکیڈمی اور حکومت میں اردو کی ترقی کے متعلق سنجیدہ افراد کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اردو زبان کے متعلق متعصبانہ رویہ کے سبب ہی ریاست کے 90فیصد سے زائد حصہ میں اردو دوسری سرکاری زبان ہونے کے باوجود اردو کو فروغ حاصل نہیں ہو رہا ہے بلکہ اردو اسکولوں کو منظم انداز میں بند کرنے یا ان کے اوقات تبدیہل کرتے ہوئے ان میں موجود تعداد میں تخفیف کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ اردو زبان سے عہدیداروں کے متعصبانہ رویہ کی مثال ہے۔ اترپردیش انتخابات کے دوران پہلی مرتبہ اردو زبان میں بھی فہرست رائے دہندگان موجود ہوگی لیکن ریاست تلنگانہ کے کئی ایسے دفاتر ہیں جہاں اردوداں طبقہ موجود نہیں ہے بلکہ کئی اردو اسکول ایسے ہیں جہاں اردو اساتذہ کی قلت کا خود حکومت اعتراف کرتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT