Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ کی تعلیمی پالیسی سے پنجاب کے وزیر تعلیم متاثر

تلنگانہ کی تعلیمی پالیسی سے پنجاب کے وزیر تعلیم متاثر

پنجاب میں بھی تلنگانہ کی تعلیمی پالیسی پر عمل کا عزم ،کڈیم سری ہری سے چرنجیت سنگھ کی ملاقات

حیدرآباد۔ 16 نومبر (سیاست نیوز)پنجاب کے وزیر فنی تعلیم چرن جیت سنگھ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد سیکریٹریٹ پہنچ کر ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری سے ملاقات کی اور خانگی تعلیمی اداروں پر حکومت ِ تلنگانہ کی نگرانی کا جائزہ لیا۔ پنجاب کے وزیر فنی تعلیم چرنجیت سنگھ نے بتایا کہ پنجاب میں خانگی تعلیمی اداروں پر نگرانی رکھنے اور انہیں جوابدہ بنانے کیلئے ملک کی مختلف ریاستوں کی تعلیمی پالیسیوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ تلنگانہ کی تعلیمی پالیسی متاثرکن ہے۔ حکومت تلنگانہ نے تعلیمی نظام کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے کئی اصلاحات کئے ہیں اور اصلاحات کے عمل کو جاری رکھا ہے۔ پنجاب میں 8 سرکاری اور 23 خانگی یونیورسٹیز خدمات انجام دے رہی ہیں جہاں رولز آف ریزرویشن پر کوئی عمل نہیں ہورہا ہے، تاہم طلبہ کو اسکالرشپس فراہم کئے جارہے ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں سے طلبہ کی اکثریت خانگی تعلیمی اداروں کو منتقل ہورہی ہے جس کی وجہ سے 20% اسکولس بند کردیئے گئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں خانگی تعلیمی اداروں پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد خانگی تعلیمی اداروں کو کنٹرول کرنے اور ان پر نگرانی رکھنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔ طلبہ اور اساتذہ کی حاضری کو صدفیصد بنانے کیلئے تعلیمی اداروں میں بائیومیٹرک مشینس لگائے گئے ہیں۔ انجینئرنگ طلبہ کو امتحانات تحریر کرنے کیلئے 75% حاضری کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ پہلے سال 50% سبجیکٹس میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو دوسرے سال کی تعلیم کیلئے اہل قرار دیا جارہا ہے۔ کامن انٹرنس ٹسٹ میں رینکس حاصل کرنے والے طلبہ کو ہی نشستیں الاٹ کی جارہی ہیں۔ فرضی داخلوں کی روک تھام کیلئے داخلوں میں آدھار کارڈ کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ فیس کنٹرول کرنے کیلئے ریٹائرڈ جج کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی ہی کالجس کے معیار بنیادی سہولتوں کی موجودگی کا جائزہ لیتے ہوئے فیس مقرر کرتی ہے۔انجینئرنگ کالجس کیلئے گریڈنگ کے تحت فیس مقرر کی جاتی ہے۔ ان اقدامات کے بعد ریاست میں موجود 412 سے انجینئرنگ کالجس کی تعداد گھٹ کر 212 تک پہونچے گئی ہے۔ ساتھ ہی طلبہ کی تعداد ڈھائی لاکھ سے گھٹ کر 97 ہزار تک پہونچ گئی ہے۔ حکومت کے ان اقدامات سے انجینئرنگ کے معیار تعلیم میں اضافہ ہوا ہے۔ تلنگانہ کے طلبہ آل انڈیا کے مسابقتی امتحانات میں شاندار مظاہرہ کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT