Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کی تعمیر ،اعلانات سے ممکن نہیں ، مقررہ مدت پر مبنی ایکشن پلان کی ضرورت

تلنگانہ کی تعمیر ،اعلانات سے ممکن نہیں ، مقررہ مدت پر مبنی ایکشن پلان کی ضرورت

تلنگانہ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر ،قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی کا خطاب

تلنگانہ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر ،قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔/13جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ کی تعمیر نو کیلئے صرف وعدوں پر انحصار کئے بغیر مقررہ مدت پر مبنی ایکشن پلان عوام کے روبرو پیش کرے۔ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر پر مباحث کا اختتام کرتے ہوئے جانا ریڈی نے تلنگانہ کی تعمیر نو میں حکومت سے مکمل تعاون کا یقین دلایا تاہم اس بات کی وضاحت طلب کی کہ ٹی آر ایس نے انتخابی منشور میں عوام سے جو وعدے کئے ان پر عمل آوری کے سلسلہ میں حکومت کے پاس کیا حکمت عملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تعمیر نو صرف اعلانات سے ممکن نہیں بلکہ تمام جماعتوں کی تائید کے ذریعہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت کو چاہیئے کہ اس سلسلہ میں نئی پالیسی اور ایکشن پلان وضع کرے اور عمل آوری کیلئے مدت کا تعین ہو۔ جانا ریڈی نے حکومت کے مختلف اعلانات پر عمل آوری کے بارے میں حکومت سے وضاحت طلب کی۔ جانا ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کی کامیابی کسی فرد یا پارٹی کی نہیں بلکہ تمام جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کے حصول میں صدر کانگریس سونیا گاندھی کا رول تاریخی رہا جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایوان میں موجود ہر رکن نے اپنے اپنے انداز میں تلنگانہ تحریک میں حصہ لیا۔ اب جبکہ تلنگانہ ریاست حاصل ہوچکی ہے لہذا عوام کی توقعات کے مطابق حکومت کو کام کرنا ہوگا۔ جانا ریڈی نے گورنر کے خطبہ میں تلنگانہ کے حصول کیلئے یو پی اے حکومت سے اظہار تشکر نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ کم از کم چیف منسٹر کو اپنی جوابی تقریر میں گذشتہ یو پی اے حکومت اور سونیا گاندھی سے اظہار تشکر کرنا چاہیئے۔انہوں نے حکومت سے مانگ کی کہ وہ عوام سے کئے گئے وعدوں پر عمل آوری پر توجہ مبذول کرے۔ کانگریس اس سلسلہ میں مکمل تعاون کیلئے تیار ہے اور وہ تعمیری اپوزیشن کا رول ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کا خطبہ ایک دستوری سند ہوتا ہے تاہم خطبہ میں کئی اہم اُمور کو شامل نہیں کیا گیا۔ مسلمانوں اور درج فہرست اقوام کیلئے 12فیصد تحفظات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے جانا ریڈی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تحفظات کے حق میں 50فیصد کی حد مقرر کی ہے۔ کانگریس نے جب 5فیصد تحفظات فراہم کئے تو عدالت نے 50فیصد کی حد سے تجاوز پر کالعدم قرار دیا لہذا کانگریس حکومت نے 4فیصد تحفظات فراہم کئے۔ ابھی بھی یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے۔ جانا ریڈی نے حکومت سے وضاحت طلب کی کہ وہ 12فیصد تحفظات پر کس طرح عمل کرے گی آیا اس سلسلہ میں ایڈوکیٹ جنرل اور ماہرین قانون سے مشاورت کی گئی؟۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات پر عمل آوری کے سلسلہ میں بی سی طبقہ کیلئے موجودہ تحفظات میں کوئی کمی نہ ہونے پائے۔ انہوں نے کہا کہ 12فیصد کے حساب سے ایس ٹی طبقہ کے تحفظات ان کی آبادی سے زائد ہوجائیں گے لہذا اس پر عمل آوری میں کئی قانونی رکاوٹیں ہیں۔ جانا ریڈی نے سیاسی کرپشن کے خاتمہ کے عہد کا خیرمقدم کیا اور تجویز پیش کی کہ سیاسی کرپشن کے ساتھ ساتھ ہر شعبہ میں کرپشن کا خاتمہ ہونا چاہیئے۔ انہوں نے حیدرآباد کی تہذیب و روایات کے تحفظ اور اس کے برانڈ امیج کی برقراری کا مشورہ دیا اور کہا کہ امن و امان اور مذہبی رواداری کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شہر میں امن کی برقراری کیلئے نئی صنعتوں کے قیام کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وعدوں پر عمل آوری کے ساتھ ساتھ جاریہ اسکیمات کو بھی برقرار رکھے۔ ٹی سرینواس یادو ( تلگودیشم ) نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے حیدرآباد کو پینے کے پانی کی سربراہی کیلئے نئی اسکیم کے آغاز اور اقلیتوں کو تحفظات کی فراہمی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتیں تعلیمی اور معاشی اعتبار سے کافی پسماندہ ہیں اور پرانے شہر میں اقلیتوں کی حالت دگرگوں ہے۔ ڈاکٹر جے گیتا ریڈی ( کانگریس) نے بھی مباحث میں حصہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT