Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کی موٹر گاڑیوں پر ٹیکس سے آندھرا پردیش کو فائدہ

تلنگانہ کی موٹر گاڑیوں پر ٹیکس سے آندھرا پردیش کو فائدہ

سرحد میں داخل ہونے کے ٹیکس سے تلنگانہ کو نقصان ، عوام بھی متاثر
حیدرآباد ۔12جولائی (سیاست نیوز) ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد حکومت تلنگانہ کی جانب سے آندھرائی گاڑیوں کے ریاست کی سرحد میں داخلہ پر ٹیکس عائد کرنے کے فیصلہ سے ریاست تلنگانہ کا نقصان ہوا اور حکومت آندھرا پردیش کو زبردست فائدہ حاصل ہوا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست میں داخل ہونے والی آندھرا پردیش کی تمام گاڑیوں پر ٹیکس کے نفاذ کے فیصلہ کے فوری بعد حکومت آندھرا پردیش نے بھی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کردے لیکن دونوں ریاستوں کی حکومتوں کا یہ فیصلہ حکومت آندھرا پردیش کے حق میں بہتر ثابت ہوا اور تلنگانہ عوام کیلئے تکلیف کا سبب بنا۔ سال 2015-2016کے دوران دونوں ریاستوں کی سرحد پار کرنے والی گاڑیوں کی تفصیلات اور ان کے ذریعہ ہونے والی آمدنی کے متعلق جب قانون حق آگہی کے تحت معلومات اکٹھا کی گئی تو اس بات کا حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ حکومت آندھراپردیش کو مالی سال 2015-16کے دوران تلنگانہ سے آندھرا پردیش میں داخل ہونے والی گاڑیوں سے بطور ٹیکس 300کروڑ 96لاکھ کی آمدنی ہوئی جبکہ ریاست تلنگانہ کو آندھرا پردیش سے تلنگانہ میں داخل ہونے والی گاڑیوں سے 247کروڑ 8لاکھ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ریاست تلنگانہ سے آج بھی آندھرا پردیش کا سفر کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔تفصیلات کے بموجب تلنگانہ سے ریاست آندھرا پردیش میں داخل ہونے والی ٹورسٹ بسوں کے ذریعہ حکومت آندھرا پردیش نے 1کروڑ 26لاکھ 40ہزار روپئے وصول کئے ہیں جبکہ آندھرا پردیش سے تلنگانہ میں داخل ہونے والی ٹورسٹ بسوںکے ذریعہ تلنگانہ کو صرف 3لاکھ 84ہزار کی آمدنی ہوئی ہے۔ مال بردار لاریاں جو تلنگانہ سے آندھرا پردیش میں داخل ہوئی ہیں ان سے حکومت آندھرا پردیش نے اس ایک برس کے دوران 16کروڑ 59لاکھ84ہزار وصول کئے ہیں جبکہ آندھرا پردیش سے تلنگانہ میں داخل ہونے والی مال بردار لاریوں سے حکومت تلنگانہ نے بطور محاصل 10کروڑ 13لاکھ ایک ہزار وصل کئے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے دونوں ریاستوں کی سرحد سے گذرنے والی گاڑیوں پر ٹیکس عائد کئے جانے کے فیصلہ کی ہر گوشے سے مخالفت کی گئی تھی لیکن اب خود حکومت کے عہدیدار اس مسئلہ کے حل کیلئے پریشان نظر آرہے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کی جانب سے ان تفصیلات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مسٹر ایم سرینواس نے کہا کہ ریاستی حکومت کی غیر منصوبہ بند پالیسیوں کے سبب دونوں ریاستوں کی عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور تلنگانہ کے عوام بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اسی لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ اس فیصلہ پر از سر نو غور کرے کیونکہ حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف مسافرین کیلئے مشکلات کا باعث ہے بلکہ ریاست میں مہنگائی میں بھی اضافہ اس ٹیکس کے سبب ممکن ہے اسی لئے دوستانہ ماحول میں سرحد پار کرنے کیلئے لگائے ٹیکس سے دستبرداری کا اعلان کیا جائے تاکہ ریاست کے عوام راحت کی سانس لے سکیں۔ٖ

TOPPOPULARRECENT