Sunday , October 21 2018
Home / اے پی ڈائری / تلنگانہ کی نو خیز حکمرانی کو عوام کی پناہ ضروری

تلنگانہ کی نو خیز حکمرانی کو عوام کی پناہ ضروری

 

تلنگانہ / اے پی ڈائری خیر اللہ بیگ
چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو ریاست میں بے روزگاری کے مسئلہ پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر چراغ پا ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اپوزیشن کو لے کر پروفیسر کودنڈا رام نے روزگار کے مسئلہ پر جدوجہد کرنے کا عزم کرلیا ہے ۔ سرور نگر کے جلسہ میں ان کی تقریر میں جو بات نظر آئی اس کے مطابق چیف منسٹر کو بیدخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ چیف منسٹر کے تعلق سے یہ عام ہے کہ وہ اتنے خوش قسمت لیڈر ہیں کہ انہیں تلنگانہ عوام کی بھاری اکثریت کی حمایت حاصل ہے ۔ اس حقیقت کے باوجود آخر وہ کیا بلا ہے کہ ان کے خلاف مورچے سجائے جارہے ہیں اور ریاست میں نوجوانوں کی بیروزگاری کے مسئلہ پر احتجاج ہورہے ہیں ۔ حکومت کے سر پر یہی بلا ٹوٹ رہی ہے کہ اس نے تلنگانہ کے قیام کے بعد روزگار فراہم کرنے کا دعویٰ کرنے والے کے چندر شیکھر راؤ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ۔ تلنگانہ میں روزگار کے مسئلہ کے علاوہ سطح سے ذرا نیچے بہت سے مسائل ہیں ۔ عام آدمی جن سے متاثر ہوتا ہے اور توجہ جس طرف بالکل نہیں جارہی ہے وہ حکومت کی ناکامیاں ہیں ۔ حکومت اس طرف دھیان ہی نہیں دے رہی ہے وہ ہے نوجوانوں میں بیروزگاری کا بڑھتا گراف ، ہندوستان میں گریجویٹ کے اندر بیروزگاری کی سطح میں تلنگانہ کو تیسرا مقام حاصل ہے ۔ حال ہی میں ممبئی اسٹاک ایکسچینج (BSE) اور سنٹر برائے مانیٹرنگ انڈین اکنامی (CMIE) کی جانب سے تیار کردہ اعداد و شمار کے لیے ریاست تلنگانہ میں مئی اور اگست 2017 کے دوران بیروزگاری کی شرح 18.59 فیصد ریکارڈ کی گئی جب کہ جموں و کشمیر میں26.28 فیصد بیروزگاری پائی جاتی ہے اور آسام میں 23.55 فیصد بیروزگاری ہے تلنگانہ کی پڑوسی ریاست کرناٹک میں بیروزگاری شرح 4.19 فیصد ہے ۔ تلنگانہ میں ہی 18.59 فیصد نوجوان بیروزگار کیوں ہیں جب کہ حکومت نے تلنگانہ کے قیام کے لیے اس لیے جدوجہد کیا تھا کہ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار ملے اور گریجویٹ نوجوانوں کو ایک بہتر مستقبل دیا جاسکے جب حکومت کے 3 سال گذر گئے اور کئی گریجویٹ نوجوانوں کو روزگار نہیں ملا تو عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں پھر ایک بار طلباء نے احتجاجی مظاہرہ شروع کیا ۔ بیروزگاری کے خلاف ناراضگیوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ تلنگانہ تحریک کا اہم مرکزی مقام کی حیثیت رکھنے والے عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں 3 سال بعد کشیدگی پیدا ہوئی ہے ۔ طلباء نے کلاسوں کا بائیکاٹ کردیا ۔ تلنگانہ بھر میں بیروزگار گریجویٹس میں مایوسی بڑھتے جارہی ہے ۔ اس مایوسی کے اثر کے ساتھ نرمل میں ایک طالب علم نے خود کشی کرلی ۔ 3 لاکھ خالی جائیدادوں کو مکمل کرنے کے لیے حکومت کو جنگی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ کودنڈا رام اور ان کے گروپ نے حکومت کی خرابیوں کی جانب نشاندہی کی تو انہیں اور ان کے حامیوں کو سیاسی بیروزگار قرار دے کر حکومت اپنا دامن چھڑانے کی کوشش کررہی ہے ۔ جس تلنگانہ کے حصول کے لیے طلباء نے احتجاج کیا تھا اور اپنی قیمتی جانوں کی قربانی دی تھی اس کے عوض نوجوان گریجویٹس کو روزگار نہیں دیا گیا ۔ طلباء اور بیروزگار نوجوانوں کے حقوق کے لیے لڑنے والی تنظیموں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے ٹی آر ایس حکومت کو ہی نقصان ہوگا ۔ 2009 میں تلنگانہ تحریک کے دوران طلباء کو بھوک ہڑتال جاری رکھنے کے لیے مجبور کرنے والے سربراہ حکومت پر اب ان کے ساتھ انتقامی کارروائی کرنے کا بھی الزام عائد کیا جارہا ہے ۔ طلباء کے غم و غصہ کو کچلنے کی کوشش ٹھیک نہیں معلوم ہوتی ۔ کے سی آر کی حکومت کو ایمرجنسی کے دور سے زیادہ ابتر بھی قرار دیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر نے اپنی تمام حدوں کا پار کر لیا ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ریاست کے عوام اُٹھ کھڑے ہو کر کے سی آر کو سبق سکھائیں ۔ نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے اعلامیہ جاری کرنے کے بجائے کے سی آر حکومت ریاست میں شراب کے دوکانات قائم کرنے کے لیے لائسنس جاری کررہی ہے اور کنٹراکٹرس کو فائدہ پہونچانے والے کام کررہی ہے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے زیادہ تر طلباء میں وہ طلباء بھی شامل تھے جنہوں نے علحدہ ریاست تلنگانہ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا ۔ ان کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات، حکومت سے جواب مانگ رہے ہیں اور جن نکات کو سامنے لایا جارہا ہے اس پر غور کرنا چاہئے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس سے احتجاج شروع ہوتا ہے تو یہ حکومت کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی سمجھنا چاہئے ۔ کے سی آر کے تعلق سے ان طلباء کا خیال ہے کہ اب وہ بڑے آدمی ہوگئے ہیں ۔ وہ بڑے قائدین جیسے مرکز کے حکمرانوں کے ساتھ میل جل بڑھاکر ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بڑھاتے ہوئے سمجھ رہے ہیں کہ وہ ریاست تلنگانہ کے گریجویٹ نوجوانوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوں گے ۔ مرکز کے قائدین کے ساتھ صف اول کی نشستوں پر بیٹھنے کی کوشش اورحال ہی میں صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی دختر ایوانکا ٹرمپ کے لیے بے تحاشہ روپیہ خرچ کرنے کی حماقت نے عوام کی آنکھیں کھول دی ہوں گی ۔ اس کے باوجود کوئی بھونچال نہیں آرہا ہے ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اپوزیشن کے جلسے اور حکومت کے خلاف تقریریں کرنے کے باوجود شہریوں کی سیاسی اور اخلاقی تربیت نہیں ہورہی ہے ۔ ہر آن حکومت کی وعدہ خلافیوں کا ایک دھڑکا سا لگا رہتا ہے ۔ اگر چیف منسٹر لگاتار تلنگانہ کے طلباء خاص کر بیروزگار گریجویٹس سے ناشکری کرتے رہیں گے تو حالات کروٹ لے سکتے ہیں ۔ کے سی آر کو اپنی حکومت ایک مستحکم اور ناقابل تسخیر بنانا ہے تو عوام کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے ۔ ورنہ حکومت کو انٹینسیو کیر یونٹ تک پہونچانے میں عوام کا رول اہم ہوگا ۔ چیف منسٹر کو طلباء کے مطالبہ کی شدت محسوس کرتے ہوئے ان سے شکر بجالانے کی ضرورت ہے ۔ اس کے بجائے حکومت اور حکمراں پارٹی ٹی آر ایس اپوزیشن پارٹیوں کو ہی نشانہ بنا رہی ہے کہ وہ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیرمین کودنڈا رام کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے حکومت کے خلاف بھڑکارہی ہے ۔ اپنے خود غرضانہ مفاد پرستانہ پالیسیوں کی خاطر ایک ہنگامہ سا برپا کررہی ہیں ۔ حکومت کو یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب اس کے خلاف کوئی بڑا گروپ یا احتجاج ہورہا ہے تو اس کے لیے بڑا خطرہ لاحق ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر اپنی دانش میں بڑی فرض شناسی اور سادگی سے کارساز حکومت چلا رہے ہوں گے ۔ مگر ان کے مخالفین کی بات کو نظر انداز کرنے کا مطلب انہیں سامنے کی چیزیں دکھائی نہیں دے رہی ہیں ۔ اگر وہ ناک کے آگے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہورہے ہیں تو آنے والے انتخابات میں ان کی بے خیالی کی حکومت کے خلاف ووٹ ڈالے جائیں گے اور انہیں اس امر کا ہوش بھی نہیں رہے گا کہ انتخابات کے نتائج ایسے بھی نکل سکتے ہیں ۔ موجودہ حالات کی نزاکت کو اگر محسوس کرلیا جائے تو چیف منسٹر فوری ملازمتوں کا اعلان کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کردیں تاکہ احتجاجی طلباء کا غصہ ختم کیا جاسکے ۔ وہ مسائل جن کا گریجویٹ نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے ہیں ان کی یکسوئی بھی ضروری ہے ۔ چیف منسٹر کو پہلے کی طرح پھول کی طرح ہنس کر سب کی نگاہوں میں رہنا چاہئے ۔ اپنی نو خیز حکمرانی کو عوام کی پناہوں میں ہی رہنے دینا چاہئے ۔۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT