Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت کے خلاف بغاوت کو بے اثر کرنے کی کوشش

تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت کے خلاف بغاوت کو بے اثر کرنے کی کوشش

دیگر پارٹیوں سے قائدین کی شمولیت پر توجہ ، چیف منسٹر عوامی ردعمل سے فکر مند
حیدرآباد۔/16 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدر نشین پروفیسر کودنڈا رام کی حکومت کے خلاف بغاوت کے اثر کو کم کرنے کیلئے چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ نے دیگر پارٹیوں کے قائدین کی شمولیت پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سکھیندر ریڈی کے علاوہ کئی اہم قائدین کو کل ٹی آر ایس میں شامل کیا گیا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ حکومت کے دو سال کی تکمیل کے موقع پر پروفیسر کودنڈا رام نے جس انداز میں حکومت کی ناکامیوں کا تذکرہ کیا تھا اس سے کے سی آر پریشان ہیں۔ کودنڈا رام نے حکومت پر وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف منسٹر سے کہا تھا کہ اگر وہ تکمیل نہیں کرسکتے تو وہ کرسی چھوڑ دیں۔ کودنڈا رام کے اس بیان کے بعد کے سی آر نے وزراء، ارکان اسمبلی اور قائدین کو جواب دینے کیلئے میدان میں اُتارا لیکن ان کا یہ قدم حکومت کیلئے نقصاندہ ثابت ہوا۔ وزراء اور ٹی آر ایس قائدین نے کودنڈا رام کے خلاف جس سخت گیر لہجہ کا استعمال کیا اس سے عوام میں حکومت کے خلاف ناراضگی اور کودنڈا رام کے حق میں ہمدردی کی لہر پیدا ہوئی۔ کودنڈا رام کے خلاف ہر سطح پر ٹی آر ایس قائدین نے سخت گیر انداز میں بیانات جاری کئے حالانکہ کودنڈا رام نے تلنگانہ تحریک کی کامیابی سے نہ صرف قیادت کی بلکہ انتخابات اور پھر حکومت کی تشکیل کے موقع پر اپنے لئے یا پھر اپنے ساتھیوں کیلئے عہدوں کی کوئی سفارش نہیں کی۔ اس قدر بے لوث شخصیت کے خلاف الزام تراشی سے عوام میں حکومت کے خلاف ناراضگی کا جذبہ پیدا ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک مرحلہ پر چیف منسٹر خود کودنڈا رام کا جواب دینے والے تھے لیکن ان کے مشیروں نے بتایا کہ جس انداز میں وزراء نے بیانات جاری کئے اس سے حکومت کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ اس بارے میں سروے میں رپورٹ ملتے ہی چیف منسٹر نے اپنا منصوبہ ترک کردیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پروفیسر کودنڈا رام اور جے اے سی کے قائدین نے عوامی مسائل کے سلسلہ میں حکومت کے خلاف جدوجہد کا جو اعلان کیا ہے اس کے بعد سے امکان ہے کہ مختلف اپوزیشن جماعتیں جے اے سی کا ساتھ دیں گی۔ اس صورتحال سے نمٹنے اور کودنڈا رام کے بیان کے اثر کو کم کرنے کیلئے اچانک کانگریس اور سی پی آئی کے 5 اہم قائدین کی شمولیت کا اعلان کیا گیا اور ان کے ذریعہ حکومت کی ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کی تائید میں بیانات جاری کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ کودنڈا رام کی تحریک کو سی پی آئی کی جانب سے امکانی تائید کو دیکھتے ہوئے اسمبلی میں پارٹی کے واحد رکن اسمبلی رویندر کمار کو ٹی آر ایس میں شمولیت کی ترغیب دی گئی۔ اسی طرح نلگنڈہ کے کانگریس رکن پارلیمنٹ اور ایک رکن اسمبلی کو بھی ٹی آر ایس میں شامل کیا گیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق چیف منسٹر حکومت کے دو سال کی تکمیل کے بعد عوام میں پائے جانے والے ردعمل سے فکر مند ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مہم کا عوام پر کوئی اثر نہ ہو۔ دیگر جماعتوں کے قائدین کی بڑی تعداد میں پارٹی میں آمد سے پریشان ٹی آر ایس کے قائدین کو یہ تبصرہ کرتے ہوئے سنا گیا کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنے والے دنوں میں بنیادی سطح پر پارٹی کیڈر اور قائدین میں ناراضگی شدت اختیار کرسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT