Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کی یونیورسٹیز میں مختلف زمروں کی جائیدادوں پر تقررات کی ہدایت

تلنگانہ کی یونیورسٹیز میں مختلف زمروں کی جائیدادوں پر تقررات کی ہدایت

عنقریب چیف منسٹر کی منظوری، وزیر تعلیم کا یونیورسٹیز کی ترقی پر وائس چانسلرس کے ساتھ اجلاس
حیدرآباد 7 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ریاست کی مختلف یونیورسٹیز میں مختلف زمروں کی جملہ 1061 جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے کے لئے تیار رہنے کی تمام وائس چانسلروں کو ہدایات دی ہیں اور بتایا کہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی منظوری حاصل ہونے کے ساتھ ہی تقررات کے عمل کا آغاز ہوگا۔ ڈپٹی چیف منسٹر برائے اُمور تعلیم مسٹر کے سری ہری نے یہ بات بتائی۔ اُنھوں نے یونیورسٹیوں کی ترقی کے موضوع پر تلنگانہ کی تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرس کے ساتھ طلب کردہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹیوں میں تمام سہولتوں کی فراہمی و ضروریات کی تکمیل کے ذریعہ مثالی تعلیمی مراکز میں تبدیل کرنے سے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ مسٹر سری ہری نے بتایا کہ تلنگانہ میں پائی جانے والی 9 یونیورسٹیوں میں تمام تر سہولتوں کی فراہمی کے لئے حکومت نے 420 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ یہ رقومات صرف عمارتوں کی تعمیر کے لئے ہی نہیں بلکہ طلباء کی ضروریات کی تکمیل کے لئے بھی استعمال کرنے کا وائس چانسلروں کو مشورہ دیا اور تحقیقاتی سرگرمیوں، لائبریریوں اور طلباء کو رہائشی سہولتوں کی فراہمی پر بھی اولین ترجیح دی جانی چاہئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے مزید کہاکہ ہر یونیورسٹی اپنی انفرادی شناخت بنانے کے لئے کوشش کرنا ہوگا۔ علاوہ ازیں نیاک (NAC) سے مسلمہ حیثیت کے حصول کے لئے بھی وائس چانسلرس کو خصوصی توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ انھوں نے کہاکہ یونیورسٹی کی تمام تر سرویسس کو آن لائن کے تحت لانے کی شدید ضرورت ہے اور نامناسب سہولتیں اور مناسب تدریسی سہولتیں نہ پائے جانے والے کالجوں کو چلانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے اور ایسی صورتحال کسی بھی کالج میں نہیں ہونی چاہئے لہذا وائس چانسلروں کو چاہئے کہ وہ اس صورتحال پر خصوصی توجہ دیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر برائے اُمور تعلیم مسٹر کے سری ہری نے وائس چانسلروں کو مشورہ دیا کہ وہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت کمپنیوں کے ذریعہ بڑے پیمانے پر رقومات حاصل کرنے کے لئے ایک جامع منصوبہ مرتب کریں تاکہ اس منصوبہ کے ذریعہ رقومات کے حصول کے اقدامات کئے جاسکیں۔ انھوں نے یونیورسٹیوں کے ذریعہ معیاری تعلیم و معیاری تحقیقاتی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر اپنی اولین توجہ مرکوز کرنے کا تمام وائس چانسلرس کو مشورہ دیا۔ اجلاس میں اعلیٰ عہدیداران محکمہ تعلیم و وائس چانسلرس شریک تھے۔

TOPPOPULARRECENT