Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کی 7 یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرس کے عدم تقررات

تلنگانہ کی 7 یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرس کے عدم تقررات

کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا وعدہ وفا نہ ہوسکا، محمد علی شبیر کا بیان

کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا وعدہ وفا نہ ہوسکا، محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد /19 فروری (سیاست نیوز) ڈپٹی فلور لیڈر تلنگانہ کونسل محمد علی شبیر نے ٹی آر ایس حکومت میں تعلیم کو یکسر نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں 9 کے منجملہ 7 یونیورسٹیوں بشمول عثمانیہ یونیورسٹی میں وائس چانسلرس کا تقرر نہیں کیا گیا۔ آج احاطہ اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کسی بھی ریاست اور ملک کی ترقی کے لئے تین امور تعلیم، زراعت اور صحت پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے، تاہم ٹی آر ایس حکومت نے ان تینوں محکمہ جات کو یکسر نظرانداز کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کو نظرانداز کرنے سے کسان خودکشی کر رہے ہیں، صحت پر توجہ نہ دینے کے سبب سوائن فلو اور دیگر بیماریوں سے سیکڑوں افراد فوت ہو چکے ہیں، جب کہ تلنگانہ تحریک میں عثمانیہ یونیورسٹی، کاکتیہ یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں کے طلبہ نے اہم رول ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ طلبہ نے علحدہ ریاست کے لئے خودکشیاں کی ہیں، لیکن تشکیل ریاست کے بعد ان کی زندگیوں میں کوئی خوشی نہیں آئی اور نہ ہی انھیں ملازمتیں حاصل ہو رہی ہیں، تاہم چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے ارکان خاندان کو وزارتیں اور ایوانوں میں نمائندگیاں ضرور ملی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کے جی تا پی جی مفت تعلیم کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں پروفیسرس کے علاوہ جملہ 1223 منظورہ جائدادیں ہیں، جن میں 554 جائدادیں مخلوعہ ہیں۔ جنوری 2014ء سے اب تک عثمانیہ یونیورسٹی کے 150 ملازمین ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور کاکتیہ یونیورسٹی میں ریٹائرمنٹ کے فوائد مثلاً گریجویٹی وغیرہ روک دیئے گئے ہیں، اس طرح عثمانیہ یونیورسٹی میں 16 کروڑ اور کاکتیہ یونیورسٹی میں 4 کروڑ روپئے کے بقایہ جات ادا نہیں کئے گئے۔ انھوں نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کو 321.55 کروڑ کی ضرورت ہے، مگر صرف 170.12 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ اسی طرح کاکتیہ یونیورسٹی کے لئے 124.53 کروڑ روپئے درکار ہیں، مگر صرف 47.89 کروڑ روپئے مختص کئے گئے، جب کہ ریسرچ اور ڈیولپمنٹ کے لئے یو جی سی سے جاری ہونے والے 12 تا 15 کروڑ روپئے تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کئے گئے۔ مسٹر شبیر نے تلنگانہ تحریک کی قیادت کرنے والے پروفیسر کودنڈا رام سے خواہش کی کہ وہ اب تعلیم، یونیورسٹیوں کے مسائل اور طلبہ کے مستقبل کو پیش نظر رکھ کر حکومت کے خلاف تحریک شروع کریں، جس کی کانگریس پارٹی تائید کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT