Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے ائمہ و موذنین کو اعزازیہ پر عمل میں تاخیر

تلنگانہ کے ائمہ و موذنین کو اعزازیہ پر عمل میں تاخیر

دفتر وقف بورڈ کے لگاتار چکر ، محکمہ اقلیتی بہبود سے درخواستوں کی جانچ نا مکمل
حیدرآباد۔ 18۔ اپریل ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے ائمہ و مؤذنین کو گزشتہ 9 ماہ سے حکومت کی ماہانہ اعزازیہ اسکیم پر عمل آوری کا انتظار ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے آج تک اس اسکیم کیلئے موصولہ تمام درخواستوں کی جانچ کا کام مکمل نہیں کیا ہے جس کے نتیجہ میں درخواست گزار ائمہ اور مؤذنین وقف بورڈ کے دفتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر را ؤ نے گزشتہ سال رمضان المبارک کے موقع پر مساجد میں افطار اور غریبوں میں کپڑوں کی تقسیم کی اسکیم کے ساتھ ساتھ ائمہ اور مؤذنین کو ماہانہ ایک ہزار روپئے اعزازیہ دینے کا اعلان کیا تھا ۔ 10,000 ائمہ اور مؤذنین کیلئے یہ اسکیم تیار کی گئی اور 12 کروڑ روپئے وقف بورڈ کے حوالے کئے گئے ۔ ریاست بھر سے درخواستیں طلب کی گئیں اور ائمہ کی 4901 اور مؤذنین کی 4033 درخواستیں موصول ہوئیں لیکن آج تک ایک بھی امام اور مؤذن کو ماہانہ مشاہرہ کی رقم ادا نہیں کی گئی۔ بتایا جاتاہے کہ اسٹاف کی کمی کے سبب درخواستوں کی جانچ کا کام مکمل نہیں ہوسکا۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ حیدرآباد میں موصولہ 1498 درخواستوں کی جانچ بھی مکمل نہیں کی گئی اور صرف 551 درخواستوں کی جانچ کی گئی۔ جب دارالحکومت حیدرآباد کا یہ حال ہے تو پھر اضلاع میں اسکیم کا پرسان حال کون ہوگا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اندیشہ ہے کہ ائمہ اور مؤذنین کو رمضان المبارک تک انتظار کرنا پڑے گا اور اسکیم کے آغاز کو ایک سال مکمل ہوجائے گا۔ محکمہ اقلیتی بہبود اس اہم اسکیم کے بارے میں آخر سنجیدہ کیوں نہیں ہے جبکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ائمہ اور مؤذنین کی معاشی مشکلات کو دیکھتے ہوئے اعزازیہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر کو اسکیم کی پیشرفت سے لاعلم رکھا گیا ہے۔ حکومت نے منظورہ درخواستوں کو گزشتہ سال جولائی سے رقم ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر رمضان المبارک میں اسکیم پر عمل آوری کی گئی تو ائمہ اور مؤذنین کو فی کس 10 تا 12 ہزار روپئے حاصل ہوں گے۔ اسی دوران وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ حیدرآباد میں 551 درخواستوں کی جانچ مکمل کرلی گئی ہے اور اسے محکمہ اقلیتی بہبود کی منظوری حاصل ہوگئی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے ہاتھوں اسکیم کے آغاز کا منصوبہ ہے ۔ تاہم اقلیتی اقامتی اسکولوں کے قیام کے سلسلہ میں تمام عہدیداروں کی مصروفیت نے تاریخ طئے کرنے میں رکاوٹ پیدا کردی ہے ۔ وقف بورڈ کے پاس اضلاع سے منظور شدہ درخواستوں کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ اضلاع میں درخواستوں کی جانچ کا کام متعلقہ انسپکٹر آڈیٹر کے سپرد کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد میں درخواستوں کی جانچ کے سلسلہ میں بعض بے قاعدگیاں ہوئی ہیں اور مساجد پہنچ کر ائمہ اور مؤذنین کی موجودگی کا پتہ چلانے کے بجائے انہیں حج ہاؤز طلب کیا گیا جس سے ائمہ اور مؤذنین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

TOPPOPULARRECENT