Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے اردو میڈیم اسکولس کے انتظامات محکمہ اقلیتی بہبود کے سپرد کرنے کا فیصلہ

تلنگانہ کے اردو میڈیم اسکولس کے انتظامات محکمہ اقلیتی بہبود کے سپرد کرنے کا فیصلہ

کارکردگی کو بہتر بنانے ، تقررات اور انفراسٹرکچر کی فراہمی پر توجہ
حیدرآباد۔27 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت سرکاری اردو میڈیم اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے علاوہ اساتذہ کے تقررات اور انفراسٹرکچر کی فراہمی پر توجہ مرکوز کرچکی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت نے اردو میڈیم مدارس کے انتظام کو محکمہ اقلیتی بہبود کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور تجرباتی طور پر چند اسکول پہلے مرحلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے ذمہ کیے جائیں گے۔ ان اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کے مطابق اساتذہ کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا اور ہر اسکول میں بہتر انفراسٹرکچر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ حکومت کی اس تجویز کے مطابق مدارس کی صورتحال کا جائزہ لینے حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خان اور سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے آج چند سرکاری اور ایک خانگی اردو میڈیم اسکول کا دورہ کیا۔ ملے پلی میں واقع سرکاری اردو میڈیم اسکول اور ریڈہلز میں واقع نامپلی گورنمنٹ پرائمری اسکول کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال سے آگہی حاصل کی گئی۔ انہوں نے وجئے نگر کالونی میں خانگی اردو میڈیم صفہ اسکول کا بھی دورہ کیا۔ ملے پلی اسکول کی عمارت میں پرائمری، اپر پرائمری اور ہائی اسکول کے علیحدہ علیحدہ سیکشن موجود ہیں۔ طلبہ کی تعداد کے اعتبار سے ٹیچرس کی تعداد میں کوئی خاص فرق نہیں دیکھا گیا۔ جبکہ انفراسٹرکچر کی کمی سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اے کے خان اور پروفیسر ایس اے شکور نے ٹیچرس سے بات چیت کرتے ہوئے طریقہ تعلیم اور طلبہ کے معیار سے واقفیت حاصل کی۔ انہوں نے اساتذہ کو ہدایت دی کہ وہ طلبہ کے روشن مستقبل کو اپنی ذمہ داری تصور کرتے ہوئے خدمت کے جذبے سے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی میں اساتذہ کی تربیت کا اہم رول ہوتا ہے۔ دونوں عہدیداروں نے طلبہ سے بھی بات چیت کی اور تعلیم اور سہولتوں کے بارے میں استفسار کیا۔ نامپلی گورنمنٹ پرائمری اسکول میں 32 طلبہ ہیں اور ان میں صرف دو ٹیچرس ہیں۔ بنیادی انفراسٹرکچر بھی دستیاب نہیں ہے۔ اسی عمارت میں تلگو میڈیم اسکول کام کررہا ہے جس میں اساتذہ کی تعداد طلبہ کے مطابق ہے۔ اس اسکول میں طلبہ کی جملہ تعداد 94 ہے اور پانچ اساتذہ موجود ہیں۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اے کے خان نے کہا کہ حکومت نے اردو میڈیم مدارس کی کارکردگی بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے جہاں بھی اساتذہ کی کمی ہے وہاں ودیا والنٹرس کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ ضلع کلکٹرس کے ذریعہ ان کا تقرر عمل میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اردو میڈیم اسکولوں کی ضروریات کے بارے میں وہ ڈائرکٹر اسکول ایجوکیشن اور حکومت سے نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو اردو ذریعہ تعلیم کی حوصلہ افزائی کے حق میں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اقلیتی طلبہ کو بہتر سے بہتر تعلیم ان کی مادری زبان میں فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے پاس منعقدہ جائزہ اجلاس میں اردو میڈیم اسکولوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT