Thursday , July 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے اقامتی اسکولوں کی مرکزی حکومت کی جانب سے ستائش

تلنگانہ کے اقامتی اسکولوں کی مرکزی حکومت کی جانب سے ستائش

غریبوں کو معیاری اور مفت تعلیم کی فراہمی حکومت کی مساعی ، ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری کا بیان
حیدرآباد۔16 ۔ جنوری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری نے کہا کہ مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاوڈیکر نے تلنگانہ میں قائم کردہ اقامتی اسکولوں کی ستائش کی ہے۔ مرکزی حکومت کی تعلیم سے متعلق مشاورتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لئے سری ہری نئی دہلی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے علاوہ دیگر ریاستوں نے بھی تلنگانہ میں قائم کردہ اقامتی اسکولوں کو سراہا ہے۔ ان اسکولوں میں غریبوں کو معیاری تعلیم مفت فراہم کی جارہی ہے۔ سری ہری نے بتایا کہ کالجس میں طلبہ کے بوگس داخلوں کو روکنے کیلئے شناحتی کارڈ کو آدھار سے مربوط کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے تعلیمی اداروں میں بوگس اساتذہ موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اجلاس میں کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ قراردادوں پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے محض رسمی انداز میں یہ اجلاس منعقد کیا تھا اور تعلیمی نظام میں تبدیلیوں اور خرابیوں کے خاتمہ کے سلسلہ میں حکومت غیر سنجیدہ ہے۔ انہوں نے ہر تین ماہ میں اجلاس طلب کرنے کی تجویز پیش کی۔ سری ہری نے اجلاس میں کہا کہ ملک میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کیلئے انقلابی قدم اٹھانے چاہئے ۔ پرکاش جاوڈیکر کی صدارت میں سنٹرل اڈوائزری بورڈ آن ایجوکیشن کا دو روزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک میں بنیادی تعلیم کی فراہمی کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کے اقدامات پر کابینی سب کمیٹی کے صدرنشین کی حیثیت سے سری ہری نے تجاویز پیش کی۔ اس سب کمیٹی نے آسام اور جھارکھنڈ کے وزرائے تعلیم ارکان کی حیثیت سے شامل ہیں۔ کابینی سب کمیٹی نے لڑکیوں کی تعلیم کے سلسلہ میں تجاویز پیش کرنے کیلئے چار مرتبہ اجلاس منعقد کیا ۔ مختلف ریاستوں میں لڑکیوں کی تعلیم کی سہولتوں کا جائزہ لیتے ہوئے مرکز کو تجاویز پیش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں غریبوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے چیف منسٹر نے اقامتی اسکولوں کے قیام کا انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ ملک کی کسی بھی ریاست میں اتنی بڑی تعداد میں اقامتی اسکول قائم نہیں کئے گئے مختلف طبقات کیلئے علحدہ اقامتی اسکولس قائم ہے اور لڑکیوں کیلئے تعلیم کے علاوہ خصوصی ہیلت کڈس سربراہ کئے جارہے ہیں۔ کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ میں چھٹویں تا آٹھویں جماعت تک تعلیم کا اہتمام کیا گیا ہے جبکہ تلنگانہ میں دسویں جماعت تک تعلیم دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولوں میں انٹرمیڈیٹ تک تعلیم کے انتظام کی تجویز ہے۔ کڈیم سری ہری نے بتایا کہ ماڈل اسکولوں میں طلبہ کی تعداد 100 سے بڑھاکر 200 کرنے کی تجویز ہے۔ ملک بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کیلئے انتظامات میں تلنگانہ سرفہرست ہے۔

TOPPOPULARRECENT