Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے اقلیتوں کی ترقی و فلاح کیلئے چیف منسٹر کے وعدوں کا انبار

تلنگانہ کے اقلیتوں کی ترقی و فلاح کیلئے چیف منسٹر کے وعدوں کا انبار

قرض سبسیڈی میں رعایت ، ڈبل بیڈ روم اسکیم میں فیصد محفوظ ، انٹرنیشنل اسلامک سنٹر اور دیگر کئی ایک اعلانات
حیدرآباد۔23 اکٹوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے اقلیتی بہبود کے سلسلہ میں آج اعلی سطحی اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔ اقلیتی نوجوانوں کو خود روزگار اسکیم سے وابستہ کرنے کے لیے ایک تا ڈھائی لاکھ روپئے کی سبسیڈی بینک قرض سے مربوط کیے بغیر ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈبل بیڈروم مکانات میں مسلمانوں کی 10 فیصد حصہ داری، کوکا پیٹ میں 10 ایکڑ اراضی پر انٹرنیشنل اسلامک سنٹر کی تعمیر، تاریخی چارمینار کی گولڈن ٹمپل امرتسر کی طرز پر ترقی مسلمانوں کے لیے انڈسٹریل اسٹیٹ و آئی ٹی کاریڈار کی ترقی، اردو اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات، سرکاری ملازمتوں کے لیے اردو زبان میں انٹرنس امتحان کا انعقاد اور دیہی و شہری علاقوں میں اقلیتوں کی ترقی کے لیے مختلف اسکیمات کی تیاری جیسے فیصلے کیے گئے۔ پرگتی بھون میں منعقدہ اس اجلاس میں چیف منسٹر نے واضح کیا کہ حکومت اقلیتوں کی ترقی کے پروگراموں پر عمل آوری کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اقلیتوں کے معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے پوری سنجیدگی اور تندہی کے ساتھ اقدامات کریں۔ ایس سی، ایس ٹی طبقات کی طرح اقلیتوں کی ترقی پر بھی توجہ مرکوز کیا جائے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تمام ترقیاتی اسکیمات میں اقلیتوں کی مناسب حصہ داری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اقلیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے خصوصی پروگرام تیار کرنے عہدیداروں کو ہدایت دی۔ اعلی سطحی جائزہ اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر نے محمد محمود علی، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹی راما رائو، وزیر فینانس ای راجندر، چیف سکریٹری ایس پی سنگھ، حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خان، پرنسپل سکریٹری فینانس رام کرشنا رائو، پرنسپل سکریٹری بلدی نظم و نسق نوین متل، سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل، کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن جناردھن ریڈی، منیجنگ ڈائرکٹر حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس دانا کشور، کلکٹر حیدرآباد مسرز یوگیتا رانا، چیف منسٹر کے خصوصی سکریٹری بھوپال ریڈی اور دوسروں نے شرکت کی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ایس سی ایس ٹی کی طرح مسلمان اقلیتوں میں آبادی کے اعتبار سے سب سے زیادہ ہیں۔ پسماندہ طبقات کی طرح اقلیتوں میں بھی غربت پائی جاتی ہے۔ ’’علیحدہ تلنگانہ ریاست کی جدوجہد کے دوران میں نے کہا تھا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد اقلیتوں کی زندگی میں روشنی آئے گی۔ ریاست کے قیام کے بعد حکومت نے اقلیتوں کی ترقی و بھلائی کو اولین ترجیح دی ہے اور ہم نے ہر سال بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔ حکومت نے کئی نئے پروگراموں کا آغاز کیا۔ جس طرح ہم ایس سی اور ایس ٹی طبقات کے لیے خرچ کررہے ہیں اقلیتوں کے لیے بھی اسی طرح بجٹ خرچ کیا جانا چاہئے۔‘‘ چیف منسٹر نے کہا کہ اگر تمام طبقات ریاست میں ترقی کریں اور خوشحال زندگی بسر کریں تو اس سے ریاست کی جامع ترقی ہوگی۔ اگر ایک بھی طبقہ ترقی میں پیچھے رہ جائے تو اسے ریاست کی جامع ترقی نہیں کہا جاسکتا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تمام سرکاری اسکیمات پر عمل آوری میں اقلیتوں کو بھی مناسب حصہ داری دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی نوجوانوں کو خود روزگار اسکیم کے تحت ایک تا ڈھائی لاکھ روپئے مالیتی یونٹ کے قیام کے لیے اقلیتی امیدواروں کو بینک سے مربوط کیے بغیر راست طور پر سبسیڈی فراہم کی جائے اور ضلع کلکٹرس اس اسکیم کی نگرانی کریں۔ ڈبل بیڈروم مکانات میں اقلیتوں کو 10 فیصد کوٹا الاٹ کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ اقلیتی اقامتی اسکولوں میں اردو ٹیچر کی جائیدادوں پر تقررات اور مخلوعہ جائیدادوں کی تفصیلات حاصل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن اردو اکیڈیمی اور وقف بورڈ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کی عہدیداروں کو ہدایت دی گئی۔ سرکاری ملازمتوں پر تقررات کے لیے انگلش اور تلگو کے ساتھ اردو میں انٹرنس امتحان کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ کوکاپیٹ میں 10 ایکڑ اراضی پر انٹرنیشنل اسلامک کنونش سنٹر عالمی معیارات کے ساتھ تعمیر کیا جائے اور اندرون تین ہفتے تعمیری کام کا آغاز کیا جانا چاہئے۔ چارمینار کو تاریخی چارمینار اور اس کے اطراف کے علاقوں کو گولڈن ٹمپل امرتسر کی طرح ترقی دی جائے گی کیوں کہ حیدرآباد آنے والا ہر سیاح چارمینار کا مشاہدہ ضرورت کرتا ہے۔ چارمینار کے اطراف پارکنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی اور بہتر سہولتوں کے ذریعہ سیاحوں کو اس تاریخی یادگار کے پاس وقت گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ موسی ندی کے کنارے 42 کیلومیٹر تک گجرات کی سابرمتی ریور فرنٹ کی طرح ترقی دی جائے گی۔ موسی ندی کے کنارے سے میٹرو اور نانو ریل چلانے کے انتظامات کیے جائیں گے۔ موسی ندی کی ترقی کی نگرانی کے لیے اسپیشل آفیسر کا تقرر کیا جائے گا۔ شہر میں شاپنگ کامپلکس، پارکس اور غریبوں کے لیے ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔ حیدرآباد پارلیمانی حلقہ میں مختلف ہنگامی کاموں کی تکمیل کے لیے 40 کروڑ روپئے خصوصی ترقیاتی فنڈس کے تحت منظور کیے گئے۔

TOPPOPULARRECENT