Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے اقلیتی بہبود اسکیمات پر عمل میں رقم کی عدم اجرائی اہم رکاوٹ

تلنگانہ کے اقلیتی بہبود اسکیمات پر عمل میں رقم کی عدم اجرائی اہم رکاوٹ

ائمہ و موذنین بھی رقم سے محروم ، محمود علی کا وعدہ بے فیض ثابت
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری میں تاخیر اور سست رفتاری کیلئے حکومت کی جانب سے بجٹ کی عدم اجرائی اہم وجہ ہے ۔ گزشتہ سال اقلیتی بہبود کیلئے منظورہ بجٹ میں نصف بجٹ ہی جاری کیا گیا اور آخری دو سہ ماہی کا بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جاریہ مالیتی سال پہلے سہ ماہی کا بجٹ ابھی تک مکمل طور پر جاری نہیں ہوا ہے جبکہ اپریل تک مکمل بجٹ جاری ہوجانا چاہئے ۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے 1206 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں اور محکمہ فینانس سے ابھی تک صرف 479 روپئے جاری کئے گئے جس میں 300 کروڑ اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کے بقایہ جاتی کی اجرائی کیلئے ہیں۔ اس طرح اقلیتی اسکیمات کیلئے صرف 179 کر وڑ ہی جاری کئے گئے۔ جس کے نتیجہ میں کئی اہم اسکیمات کا ابھی تک آغاز نہیں ہوسکا۔ سکریٹری فینانس نے دو دن قبل ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کے پاس منعقدہ جائزہ اجلاس میں فوری طور پر 25 کروڑ روپئے کی اجرائی کا وعدہ کیا تھا لیکن آج بھی یہ رقم جاری نہیں ہوئی ۔ محکمہ کے لئے بجٹ کی اجرائی کا جائزہ لیں تو کئی ادارے اسکیمات کے آغاز سے قاصر ہیں۔ کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے 160 سے زائد ملازمین 4 ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ گزشتہ سال رمضان المبارک کے موقع پر ائمہ اور مؤذنین کیلئے اعزازیہ سے متعلق اسکیم پر آج تک عمل نہیں کیا گیا ۔ کسی بھی ضلع میں تمام درخواستوںکی یکسوئی نہیں کی گئی۔ صرف تین اضلاع میں 50 فیصد درخواست گزاروں کو اعزازیہ جاری کیا گیا ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے مطابق آٹو اسکیم پر عمل آوری کیلئے اقلیتی فینانس کارپوریشن کو 8 کر وڑ روپئے درکار ہیں جبکہ ٹریننگ اینڈ ایمپلائیمنٹ اسکیم کیلئے 2.73 کروڑ روپئے کی ضرورت ہے۔ کارپوریشن کے عہدیداروں نے 34 کر وڑ 50 لاکھ روپئے کی فوری اجرائی کی خواہش کی ہے۔ اقلیتی اقامتی اسکولس کیلئے 57 کروڑ کے منجملہ صرف 30 کروڑ روپئے جاری کئے
گئے۔ اردو اکیڈیمی کو 3.25 کروڑ بجٹ مختص کیا گیا لیکن ابھی تک ایک پیسہ بھی جاری نہیں ہوا جس کے سبب تمام اسکیمات ٹھپ ہیں۔ شادی خانوں اور اردو گھر کی تعمیر کیلئے 2.5 کروڑ روپئے کی اجرائی باقی ہے۔ حکومت نے بینکوں سے مربوط قرض کی اسکیم کیلئے 150 کروڑ روپئے مختص کئے تھے لیکن بجٹ جاری نہیں کیا گیا ۔اس اسکیم کے تحت جملہ ایک لاکھ 59 ہزار درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ اگر موجودہ بجٹ کے اعتبار سے درخواستوں کی یکسوئی کی جائے تو 25 فیصد افراد کو سبسیڈی دی جاسکے گی۔ ایک لاکھ روپئے تک کی سبسیڈی کیلئے داخل کی گئی درخواستوں کی تعداد 25143 ہے جبکہ 2 لاکھ تک کی سبسیڈی کیلئے 83718 درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ دو لاکھ روپئے سے زائد سبسیڈی کیلئے 45036 درخواستیں داخل کی گئی ۔ حکومت نے پہلے مرحلہ میں ایک لاکھ روپئے تک کی درخواستوں کی یکسوئی کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT