Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ کے برقی صارفین کو عنقریب فیول سرچارج کا زوردار جھٹکہ

تلنگانہ کے برقی صارفین کو عنقریب فیول سرچارج کا زوردار جھٹکہ

ڈسکامس کے مالی مصارف کا بوجھ صارفین کے کندھوں پر ڈالنے کی کوشش، برقی شرحوں میں اضافہ یقینی
حیدرآباد ۔ /15 مارچ (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے برقی صارفین کو حکومت کی جانب سے بہت جلد فیول سرچارج کا زوردار جھٹکہ دیا جانے والا ہے ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب حکومت نے جاریہ بجٹ سیشن کے سبب فوری طور پر فیول سرچارج نافذ کرنے کے متعلق فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن منصوبہ میں شامل فیصلہ کے مطابق بہت جلد الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن اس سلسلے میں اعلامیہ جاریہ کرتے ہوئے فیول سرچارج نافذ کرنے کا فیصلہ کرے گا ۔ ماہرین کے بموجب ریاست میں برقی پیداوار اور کھپت میں تفاوت اور آمدنی و اخراجات میں یکسانیت پیدا کرنے کیلئے ایف ایس اے فیول سرچارج ایڈجسٹمنٹ کا نفاذ ناگزیر ہے ۔ برقی صارفین پر فیول سرچارج کا بوجھ عائد کئے جانے کے بعد ہی محکمہ برقی کی آمدنی و اخراجات میں یکسانیت پیدا کیا جانا ممکن ہے ۔ فیول سرچارج کے نفاذ کے متعلق حکومت کو الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن سے اجازت حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے ۔ 2016-17 ء کی سالانہ متوقع آمدنی کی رپورٹ میں گمراہ کن اعداد و شمار دکھائے گئے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایف ایس اے کی نفاذ کی ضرورت نہیں ہے لیکن فیول سرچارج درحقیقت اس وقت وصول کیا جاتا ہے جب محکمہ برقی بالخصوص ڈسکامس کی آمدنی و اخراجات میں یکسانیت نہیں ہوتی ۔ ایسی صورت میں اخراجات پر عائد ہونے والے اضافی مالی بوجھ کو عوام سے وصول کرتے ہوئے یکسانیت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں سال 2009-2013 ء برقی صارفین سے فیول سرچارج وصول کیا گیا تھا لیکن تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ایف ایس اے کی برخواستگی سے عوام کو راحت حاصل ہوئی تھی لیکن اب خود حکومت یہ محسوس کرنے لگی ہے کہ ریاست میں برقی سربراہی کو بہتر بنانے کیلئے ایف ایس اے کی ازسرنو شروعات ناگزیر ہے ۔ ریاستی حکومت جو کہ حالیہ دنوں میں مرکزی حکومت کے منصوبے اجول ڈسکام یوجنا میں شمولیت اختیار کی ہے اس منصوبہ کے مطابق ریاست کو ہر تین ماہ کے دوران آمدنی و اخراجات کی تفصیلات پیش کرنی ہوں گی ۔ تلنگانہ نے مرکزی حکومت کی ادئے نامی اسکیم میں اس لئے شمولیت اختیار کی کہ مرکز سے اضافی برقی کے وصول اور کوئلہ کی تخصیص کے ساتھ اضافی فنڈس حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرسکے ۔ ذرائع کے بموجب ساؤتھ اور نارتھ پاور ڈسکامس کیلئے جملہ 30207 کروڑ درکار ہیں لیکن موجودہ آمدنی 21418 کروڑ کی ہے جبکہ مابقی نقصان 8789 کروڑ کا ریکارڈ کیا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈسکامس نے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس کے مطابق 1158 کروڑ کا بوجھ صارفین پر عائد کیا جائے جو کہ برقی شرحوں میں اضافہ کے ساتھ وصول کیا جانا چاہئیے ۔ جبکہ مابقی 6831 کروڑ ریاستی حکومت سے بطور سبسیڈی حاصل کئے جانی چاہئیے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے 4 تا  5 ہزار کروڑ بطور سبسیڈی جاری کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جبکہ تقریباً 2000 کروڑ روپئے ایف ایس اے عائد کرتے ہوئے وصول کرنے کا منصوبہ ہے جس کی گنجائش الیکٹرسٹی ایکٹ 2003ء میں فراہم کی گئی ہے ۔ آمدنی و خرچ کے درمیان موجود تفاوت کو دور کرنے کیلئے ریاستی حکومت سے سبسیڈی حاصل کرنے یا پھر عوام سے بطور فیول سرچارج وصول کرنے کی گنجائش موجود ہے جس کا استعمال کرتے ہوئے ڈسکامس کی جانب سے نقصان کی پابجائی کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے بموجب بہت جلد الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کی جانب سے سماعت مقرر کرتے ہوئے ان منصوبوں پر قطعی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT