Monday , August 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے جنگلات میں جانوروں کے تحفظ اور شکار کو روکنے اقدامات

تلنگانہ کے جنگلات میں جانوروں کے تحفظ اور شکار کو روکنے اقدامات

ہرن کی بین ریاستی اسمگلنگ کی تحقیقات، حکومت کو رپورٹ پیش کرنے محکمہ جنگلات کا فیصلہ
حیدرآباد۔19جنوری(سیاست نیوز) محکمہ جنگلات نے بین ریاستی ہرن کی اسمگلنگ کی تحقیقات کرتے ہوئے حکومت کو اس سلسلہ میں مکمل رپورٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ضلع نظام آبادمیں تین ہرنوں کے ساتھ گرفتار کئے جانے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کے بعد محکمہ جنگلات نے اس سلسلہ میں تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور کہا جار ہا ہے کہ تحقیقات کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ نوی پیٹ اور مہاراشٹر کے سرحدی مواضعات و جنگلاتی علاقوں میں شکاریوں کی سرگرمیو ںمیں کافی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ جنگلات میں جنگلی جانوروں کے تحفظ اور شکاریوں کی سرگرمیو ںمیں ہورہے اضافہ کو روکنے کے سلسلہ میں محکمہ جنگلات نے پڑوسی ریاست مہاراشٹر کے محکمہ جنگلات کے عہدیداروں سے مشاورت کرتے ہوئے سرحدی علاقو ںمیں ہونے والی ان سرگرمیو ںپر قابو پانے کے لئے حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران اس علاقہ میں ہرن کے گوشت کی اسمگلنگ میں کافی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور شاہراہوں پر بھی محکمہ جنگلات نے خصوصی نظر رکھی ہوئی ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق محکمہ جنگلات نے ہرن کے شکار کرنے والوں کے علاوہ جنگلی جانوروں کے شکار اور شوقیہ شکار کرنے والوں پر خصوصی نظر رکھی ہوئی ہے اور کہا جارہاہے کہ نظام آباد کے جنگلاتی علاقوں میں جنگلی جانوروں کو ہونے والے نقصانات کو روکنے کیلئے فوری حکمت عملی کی تیاری کو ناگزیر قرار دیا جارہاہے ۔ بتایاجاتاہے کہ محکمہ جنگلات کی جانب سے کی جانے والی جمع کی گئی اطلاعات کے بعد محکمہ نے حکومت کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے مہاراشٹر اور تلنگانہ کے محکمہ جنگلات کی مشترکہ ٹیم تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ سرحدی علاقہ ہونے کے باعث شکاری دونوں ریاستوں کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے سبب جنگلی جانوروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ نظام آباد فارسٹ رینج آفیسر کے مطابق مہاراشٹر اور تلنگانہ کی سرحد پر واقع جنگلاتی علاقہ میں بڑی تعداد میں ہرن پائے جاتے ہیں اور موسم خوشگوار ہونے کے سبب رات کے وقت ہرن شاہراہوں سے بھی گذرنے لگتے ہیں اسی لئے یہ علاقہ شکاریوں کے لئے دلچسپی کا سبب بنا ہوا ہے اور دونوں سرحدوں پر نگرانی میں اضافہ کیا جانا بیحد ضروری ہوچکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT