Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے جورالا پراجکٹ کو تین ٹی ایم سی پانی دینے کا تیقن

تلنگانہ کے جورالا پراجکٹ کو تین ٹی ایم سی پانی دینے کا تیقن

اتم کمار ریڈی کے زیرقیادت کانگریس وفد سے چیف منسٹر کرناٹک کی بات چیت
حیدرآباد 10 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ کے کانگریس قائدین نے چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا سے ملاقات کرتے ہوئے راجولی بنڈہ اسکیم کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے نارائن پور سے جورالا کو 3 ٹی ایم سی پانی جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ چیف منسٹر کرناٹک نے دونوں مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنے کا تیقن دیا۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی، قائد اپوزیشن اسمبلی کے جانا ریڈی، قائد اپوزیشن کونسل محمد علی شبیر، کانگریس کے ارکان اسمبلی جی چناریڈی، ڈی کے ارونا، سمپت کمار، سی ومشی چند ریڈی، رکن قانون ساز کونسل پی سدھاکر ریڈی، ضلع محبوب نگر کانگریس کے صدر مسٹر عبداللہ کوتوال، سابق کارپوریٹر محمد غوث کے علاوہ دوسرے قائدین اور کسانوں نے بنگلور پہونچ کر چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا سے ملاقات کی۔ ضلع محبوب نگر آبپاشی پراجکٹس کے تعمیرات سے متعلق کاموں کی بالخصوص پیاکیج نمبر ایک اور دو کے ایاکٹ میں اضافہ کرنے اور کنال کو مارڈنائزیشن کرنے کے لئے فوری اقدامات کرنے پر زور دیا اور کہاکہ اس سے ضلع محبوب نگر کے عالم پور علاقہ میں تقریباً 83,897 خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کو فائدہ ہوگا۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی کو چیف منسٹر کرناٹک کو یادداشت پیش کی اور ساتھ ہی پینے کے پانی کی قلت کو دور کرنے کے لئے نارائن پور سے جورالا کو 3 ٹی ایم سی پانی جاری کرتے ہوئے ضلع محبوب نگر سے نقل مقام کرنے والے عوام کو روکنے میں تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔ چیف منسٹر کرناٹک نے اعلیٰ عہدیداروں سے جائزہ اجلاس طلب کرنے کے بعد دونوں مطالبات پر قطعی فیصلہ کرنے کا تیقن دیا۔ کانگریس قائدین نے بین ریاستی آر ڈی ایس کی دریائے تنگبھدرا ، راجولی بنڈہ پر تعمیر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ نظام کے دور حکومت میں یہ اسکیم منظوری ہوئی تھی۔ 1946 ء میں تعمیری کاموں کا آغاز ہوا اور 1958 ء میں تعمیری کام مکمل ہوئے۔ 143 کیلو میٹر طویل آر ڈی ایس کنال سے کرناٹک کے 15 اور عالم پور ضلع محبوب نگر کے 75 اور ضلع کرنول کے 4 گاؤں کو پانی سربراہ ہوتا ہے۔ 50 سالہ قدیم پراجکٹ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے کہاکہ کانگریس کے دور حکومت میں 8 جولائی 2004 ء کو ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے کئی تجاویز پیش کئے تھے۔ کانگریس حکومت نے آر ڈی ایس کنال کو عصری بنانے کے لئے 72 کروڑ روپئے منظور کئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT