Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے جونیر کالجس اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال

تلنگانہ کے جونیر کالجس اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال

بڑے پیمانے پر اصلاحات، اسکولس فیس کو باقاعدہ بنانے سخت اقدامات
حیدرآباد۔22اکٹوبر(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں پروفیشنل کالجس‘ ڈگری کالجس کے بعد اب جونیئر کالجس اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے قبل ہی خانگی اسکولو ںاو ر حکومت کے محکمہ تعلیم کے درمیان قانونی رسہ کشی شروع ہو سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے خانگی اسکولوں اور کالجس میں معیار تعلیم کو بہتر بنانے کے اقدامات کے سلسلہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کے ساتھ ساتھ اسکولوں کی فیس کوباقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں محکمہ تعلیم کی جانب سے سخت اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے ان اصلاحات کے نفاذ کو ممکن بنایا جائے گا لیکن اس کے برخلاف خانگی اسکولوں کے انتظامیہ کی جانب سے حکومت کی جانب سے روشناس کروائے جانے والے ان اصلاحات کے خلاف مہم شروع کرنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاست میں تعلیم کی صورتحال کو بہتر بنانے میں خانگی اسکولو ںکا کلیدی رول ہے اور اسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے خانگی اسکولوں کے گذشتہ تین برسوں کے حساب طلب کئے جانے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی آمدنی کی جانچ کے بعد سخت فیصلہ کرے گی۔محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اصلاحات میں اسکولی اساتذہ کے بی ۔ایڈ ہونے کے لزوم پر بھی سختی سے عمل آوری اور پرائمری اسکولو ںمیں اساتذہ کی تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ کے تقررات کے سلسلہ میں جائزہ لیا جائے گا۔ خانگی اسکول ٹیچرس جو خانگی اسکولو ں میں خدمات انجام دے رہے ہیں وہ بھی حکومت کے اصلاحات کی تائید کر رہے ہیںکیونکہ ان کا کہنا ہے کہ کئی خانگی اسکولو ںمیں ان کا استحصال کیا جا رہاہے اور تنخواہوں کی کم ادائیگی کے باوجود وہ روزگار کے سبب خاموشی کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT