Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے سرکاری اداروں کے نامزد عہدوں پر تقررات جولائی تک ملتوی

تلنگانہ کے سرکاری اداروں کے نامزد عہدوں پر تقررات جولائی تک ملتوی

امکانی ناراضگیوں سے بچنے چیف منسٹر کے سی آر کی کوشش ، راجیہ سبھا کیلئے ٹی آر ایس کے قائدین کی کامیابی ممکن
حیدرآباد 13 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں سرکاری اداروں کے نامزد عہدوں پر تقررات کا معاملہ کچھ مدت کے لئے ٹل چکا ہے۔ ٹی آر ایس کے باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے پارٹی قائدین میں تقررات سے پیدا ہونے والی امکانی ناراضگی سے بچنے کے لئے اِس معاملہ کو جولائی تک ٹالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ حکومت کے دو سال کی تکمیل کے موقع پر تمام نامزد عہدوں پر تقررات کا عمل مکمل کرلیا جائے گا لیکن صرف چند سرکاری اداروں پر تقررات کئے گئے جبکہ پارٹی کے سینکڑوں قائدین اور کارکن مختلف عہدوں کی آس میں چیف منسٹر اور وزراء کے دفاتر اور گھر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ جیسے ہی یہ اطلاع عام ہوئی کہ چیف منسٹر نے نامزد عہدوں پر تقررات کا عمل ٹالنے کا فیصلہ کیا، قائدین میں مایوسی پھیل گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کی ابتدائی ترجیح آئندہ ماہ ہونے والے راجیہ سبھا کے انتخابات پر ہے۔ تلنگانہ سے دو نشستوں کے لئے رائے دہی ہوگی اور چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ دونوں پر ٹی آر ایس امیدوار کامیاب ہوں۔ کانگریس پارٹی کے پاس راجیہ سبھا کے اپنے امیدوار کو منتخب کرنے کیلئے عددی طاقت نہیں ہے۔ تاہم اگر وہ مقابلہ کرتی ہے تو اندیشہ ہے کہ بعض ارکان کی جانب سے کراس ووٹنگ کی جائے گی۔ وزارت میں عدم شمولیت سے کئی ارکان ناراض ہیں اور اِن میں سے بعض کراس ووٹنگ کے مرتکب ہوسکتے ہیں۔ اِس صورتحال سے بچنے کے لئے چیف منسٹر بلامقابلہ انتخاب کے لئے کوشاں ہیں۔ ٹی آر ایس کے پاس دونوں نشستوں پر کامیابی کے لئے مکمل عددی طاقت نہیں ہے تاہم کانگریس کے عدم مقابلہ کی صورت میں اُس کے دونوں امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوجائیں گے۔ امیدواروں کا انتخاب چیف منسٹر کے لئے درد سر بن چکا ہے۔ پارٹی کے کئی سینئر قائدین اور دیگر جماعتوں سے شامل ہونے والے قائدین کی نظریں راجیہ سبھا کی نشست پر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے شمولیت کے موقع پر کئی قائدین کو راجیہ سبھا کی نشست کا تیقن دیا تھا اور یہ تیقن آج اُن کے لئے درد سر بن چکا ہے۔ دوسری طرف وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹی راما راؤ اور رکن پارلیمنٹ کویتا کی جانب سے راجیہ سبھا کے لئے بعض افراد کے ناموں کی سفارش کی جارہی ہے۔ الغرض دو امیدواروں کا انتخاب چیف منسٹر کے لئے چیلنج سے کم نہیں ہوگا اور اندیشہ ہے کہ انتخاب کے بعد پارٹی میں ناراض سرگرمیاں شروع ہوسکتی ہیں۔ کانگریس کے وی ہنمنت راؤ ٹی آر ایس قائدین سے ربط میں ہیں اور وہ تلنگانہ تحریک کی تائید کا حوالہ دے کر ٹی آر ایس سے تائید حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ دوسری طرف کارپوریشنوں اور بورڈس پر تقررات کا معاملہ جولائی تک آگے بڑھ چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر حکومت کے دو سال کی تکمیل یعنی 2 جون کے بعد کابینہ میں ردوبدل کریں گے۔ 17 رکنی کابینہ میں 5 وزراء کی تبدیلی کی قیاس آرائی کی جارہی ہے جن میں دو کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ کابینہ میں ردوبدل کے بعد مندر اور مارکٹ کمیٹیوں پر تقررات کئے جائیں گے اور آخری مرحلہ کارپوریشنوں کے صدورنشین اور بورڈ آف ڈائرکٹرس کا تقرر ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT