Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے سرکاری محکمہ جات میں تقررات ، روسٹر کے تحت مسلمانوں کو چار فیصد تحفظات کی ضرورت

تلنگانہ کے سرکاری محکمہ جات میں تقررات ، روسٹر کے تحت مسلمانوں کو چار فیصد تحفظات کی ضرورت

حکومت کے روسٹر نظام کی بجائے نئی فہرست کی تیاری ، نئے نظام پر احکام کی عدم وصولی : ڈاکٹر جی چکرا پانی
حیدرآباد۔/13اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں مختلف محکمہ جات میں ہونے والے 15000 سے زائد تقررات کے سلسلہ میں روسٹر سسٹم کے تحت مسلمانوں کو 4فیصد تحفظات پر عمل آوری کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت نے مختلف محکمہ جات میں 15522 مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا فیصلہ کیا ہے جو تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے علاوہ مختلف محکمہ جات کے ریکروٹمنٹ بورڈز اور سلیکشن کمیٹیوں کی جانب سے انجام دیئے جائیں گے۔ متحدہ آندھرا پردیش میں طئے شدہ روسٹر سسٹم کے تحت تقررات میں مسلمانوں کو 4فیصد تحفظات کی فراہمی کی گنجائش رکھی گئی ہے تاہم اطلاعات کے مطابق ٹی آر ایس حکومت سابقہ روسٹر سسٹم کے بجائے نئی فہرست تیار کررہی ہے جس میں 25زمرہ جات کی نشاندہی کی گئی اور مسلمانوں کو 4فیصد تحفظات کا کوئی تذکرہ نہیں۔ حکومت کے پاس اگرچہ یہ تجویز زیر غور ہے تاہم ابھی تک اس سلسلہ میں باقاعدہ احکامات جاری نہیں کئے گئے۔ اس سلسلہ میں تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن سے ربط قائم کیا گیا تو کمیشن کے صدرنشین نے وضاحت کی کہ حکومت کی جانب سے نئے روسٹر سسٹم کے بارے میں ابھی تک کوئی احکامات وصول نہیں ہوئے اور پبلک سرویس کمیشن موجودہ روسٹر سسٹم کے تحت ہی تقررات کی تیاری کرچکا ہے۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ 3783 جائیدادوں پر تقررات عمل میں لائے جائیں گے جو 7 محکمہ جات کی جائیدادوں پر محیط ہے۔ محکمہ جات زراعت، میونسپل ایڈمنسٹریشن، ایریگیشن، پبلک ہیلت، گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن، حیدرآباد میٹرو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ، ٹاؤن پلاننگ، پنچایت راج، ایکسائیز، کمرشیل ٹیکسیس، رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس، ٹرانسپورٹ اور عمارات و شوارع کے تحت ان جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے صدرنشین چکراپانی نے بتایا کہ موجودہ روسٹر سسٹم کے تحت تقررات کی تیاری مکمل ہوچکی ہے جس میں مسلمانوں کو بی سی ای زمرہ کے تحت 4فیصد تحفظات کی گنجائش ہے۔ انہوں نے نئے روسٹر سسٹم کے بارے میں بعض اخبارات میں شائع شدہ خبروں کو حقائق سے بعید قرار دیا اور کہا کہ اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی احکامات وصول نہیں ہوئے۔ اسی دوران کمیشن میں واحد اقلیتی رکن متین الدین قادری نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ تقررات کے سلسلہ میں نان ٹیکنیکل پوسٹس کے پرچہ جات اردو زبان میں فراہم کئے جائیں۔ ان کی تجویز پر کمیشن نے اتفاق کرتے ہوئے حکومت سے اجازت طلب کی ہے۔ حکومت کی منظوری کے بعد اردو زبان میں پرچہ جات کی فراہمی عمل میں آئے گی۔ متین الدین قادری کے مطابق ٹیکنیکل پرچہ جات تو انگریزی زبان میں رہیں گے جبکہ گروپ I اور IIکے امتحانی پرچوں کو اردو زبان میں تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اقلیتی طبقہ کے امیدواروں کو سہولت ہو۔ انہوں نے کہا کہ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے 3783 جائیدادوں پر تقررات میں 4فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری سے مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ ہوگا تاہم اس سلسلہ میں اقلیتوں میں شعور بیداری ضروری ہے۔ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ جن عہدوں پر تقررات کئے جائیں گے ان میں اگریکلچر آفیسر، اگریکلچر ایکسٹنشن آفیسر، ہارٹیکلچر آفیسر، اسسٹنٹ انجینئر ( اریگیشن)، اسسٹنٹ ایکزیکیٹو انجینئر، گریڈ II میونسپل کمشنر، گریڈ III میونسپل کمشنر، ہیلت اسسٹنٹ، سنیٹری انسپکٹر، اسسٹنٹ انجینئر پبلک ہیلت، اسسٹنٹ ایکزیکیٹو انجینئر پبلک ہیلت، سی اے ڈی آپریٹر، بل کلکٹر ( جی ایچ ایم سی ) ، اسسٹنٹ ایکزیکیٹو انجینئر پنچایت راج، اسسٹنٹ انجینئر پنچایت راج، منڈل پریشد ڈیولپمنٹ آفیسر، ایکسائیز کانسٹبل، ایکسائیز سب انسپکٹر، اسسٹنٹ کمرشیل ٹیکس آفیسر، سب رجسٹرار گریڈ II، ڈرافٹسمین گریڈ III، اسسٹنٹ انجینئر آراینڈ بی، اسسٹنٹ ایکزیکیٹو انجینئر آر اینڈ بی، ٹرانسپورٹ کانسٹبل، اسسٹنٹ موٹر وہیکل انسپکٹر کے علاوہ حیدرآباد میٹرو واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں اسسٹنٹ فینانس اینڈ اکاؤنٹ آفیسر، ڈپٹی جنرل منیجر فینانس، منیجر انجینئرنگ، ٹیکنیشن جیسے عہدے شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT