Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے عازمین کو حیدرآبادی رباط میں قیام کی اجازت

تلنگانہ کے عازمین کو حیدرآبادی رباط میں قیام کی اجازت

تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے عازمین حج رباط حیدرآباد میں قیام کے اہل ہوں گے اور 2015 میں 600 عازمین کے قیام سے تلنگانہ کے عازمین کو تقریباً 30کروڑ کی بچت ہوگی جبکہ 2026ء میں ایک ہزار عازمین کے قیام سے 50کروڑ کی بچت ہوگی

تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے عازمین حج رباط حیدرآباد میں قیام کے اہل ہوں گے اور 2015 میں 600 عازمین کے قیام سے تلنگانہ کے عازمین کو تقریباً 30کروڑ کی بچت ہوگی جبکہ 2026ء میں ایک ہزار عازمین کے قیام سے 50کروڑ کی بچت ہوگی

حیدرآباد۔8۔اکتوبر (سیاست نیوز) مکہ مکرمہ میں واقع حیدرآبادی رباط میں عازمین کے قیام سے متعلق تنازعہ کی آج یکسوئی ہوگئی۔ ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی کی مساعی پر قونصل جنرل جدہ کے دفتر میں اجلاس منعقد ہوا جس میں اس تنازعہ کی یکسوئی کرلی گئی اور آئندہ سال حج سے عازمین حج کے رباط میں قیام کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ حج بیت اللہ کی ادائیگی کیلئے روانگی کے موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر نے رباط میں قیام کے تنازعہ کی یکسوئی کا فیصلہ کیا تھا اور اس سلسلہ میں تمام فریقین سے سعودی عرب میں قیام کے دوران بات چیت بھی کی۔

محمود علی کی مساعی پر قونصل جنرل بی ایس مبارک نے آج اپنے دفتر میں اجلاس منعقد کیا جس میں ناظر رباط جناب حسین شریف کے علاوہ قونصلیٹ کے دیگر عہدیدار شریک تھے۔ ہر سال آندھراپردیش حج کمیٹی سے روانہ ہونے والے تقریباً 350 عازمین رباط میں قیام کرتے رہے اور انہیں بھاری رقم کی بچت ہوتی رہی۔ تاہم گزشتہ دو برسوں سے اوقاف کمیٹی نظام اور ناظر رباط کے درمیان الاٹمنٹ کے مسئلہ پر تعطل کے سبب عازمین رباط میں قیام سے محروم تھے۔ آج کے اجلاس میں جناب محمود علی نے ناظر رباط کو مشورہ دیا کہ وہ عازمین حج کی بھلائی میں تعطل کو ختم کریں۔

اجلاس میں طئے پایا گیا کہ رباط میں قیام کیلئے عازمین حج کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعہ ہوگا جو جدہ میں واقع انڈین قونصلیٹ کے دفتر میں ہوگی۔ قونصل جنرل اور تلنگانہ حکومت کے نمائندہ کی موجودگی قرعہ اندازی عمل میں آئے گی۔ قیام سے متعلق عازمین کی درخواستیں قونصلیٹ سے رجوع کردی جائیں گی اور شفافیت کے ساتھ قرعہ اندازی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ ناظر رباط میں آئندہ سال حج کے موقع پر 600 عازمین کے قیام کے انتظام سے اتفاق کیا۔ انہوں نے تمام عازمین کو طعام کی سہولت فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی۔ ناظر رباط نے کہا کہ وہ ضرورت پڑنے پر اپنے خرچ سے علحدہ عمارت یا ہوٹل حاصل کرتے ہوئے حج 2015میں 600 عازمین کے قیام کا انتظام کریں گے۔ انہوں نے حج 2016 کے موقع پر 1000 عازمین کی رہائش کا انتظام کرنے کا وعدہ کیا۔ جناب محمود علی نے ناظر رباط کے اس جذبہ خیر سگالی کی ستائش کی اور قونصل جنرل جدہ نے بھی اس تجویز سے اتفاق کرلیا۔ اس طرح گزشتہ دو برسوں سے جاری تعطل ختم ہوچکا ہے۔

جناب محمود علی نے انڈین قونصلیٹ اور ایمبسی اسکول کے عہدیداروں سے بھی بات چیت کی اور جدہ میں ایمبسی اسکول کی ایک اور شاخ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ غیر مقیم ہندوستانیوں کی جانب سے اس سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر سے نمائندگی کی گئی تھی۔ قونصل جنرل جدہ بی ایس مبارک نے جدہ میں علحدہ عمارت حاصل کرتے ہوئے انڈین ایمبسی اسکول کی نئی شاخ قائم کرنے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ایمبسی اسکول کے پرائمری برانچ کے قیام سے اتفاق کرلیا۔ توقع ہے کہ آئندہ تعلیمی سال سے نئے برانچس میں تعلیم کا آغاز ہوجائے گا۔ جناب محمود علی نے سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کے ساتھ بھی اجلاس منعقد کیا اور انہیں تلنگانہ میں برقی شعبہ میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی۔ سعودی سرمایہ کاروں نے بہت جلد حیدرآباد کے دورہ کا فیصلہ کیا ہے جہاں حکومت تلنگانہ سے معاہدہ کو قطعیت دی جائے گی۔ جناب محمود علی 11 اکتوبر کی صبح حیدرآباد واپس ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT