Saturday , February 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے علاقہ میں اوسط حد عمر میں بہتری

تلنگانہ کے علاقہ میں اوسط حد عمر میں بہتری

خواتین کی اوسط 61.8 ریکارڈ ، اموات میں نمایاں کمی
حیدرآباد۔15نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں 15تا39 سال کے نوجوانوں کی اموات کی وجوہات خودکشی یا پھر تشدد ہے جبکہ گذشتہ 27برسوں کے دوران تلنگانہ کے علاقوں میں اوسط حد عمر میں کافی بہتری دیکھی گئی ہے۔1990 میں تلنگانہ کے علاقہ میں خواتین کی اوسط عمر 61.8ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ 2016میں اس اوسط عمر میں کافی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ عمر 73.2 تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح مردوں کی اوسط عمر جو کہ 1990میں 60.2 ریکارڈ کی گئی تھی وہ بھی2016میں 69.4 تک پہنچ چکی ہے۔ تلنگانہ میں 15تا39 سال کے نوجوانوں کی اموات میں 20.5 فیصد اموات کی وجہ خودکشی یا تشدد ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ 13.5 فیصد اموات امراض قلب کے سبب ہوتی ہیں۔ 14سال سے کم عمر بچوں کی اموات کے سلسلہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 50 فیصد سے زیادہ اموات بوقت پیدائش ہونے والی بیماریوں کے سبب ہوتی ہیں۔ ہندستانی ریاستوں میں امراض کی رپورٹ اور تکنیکی صورتحال پر تیارکردہ تفصیلات جو کہ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ ‘ پبلک ہیلت فاؤنڈیشن آف انڈیا کے علاوہ انسٹیٹیوٹ فار ہیلت میٹرکس نے مرکزی وزارت صحت کے ساتھ تیار کی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں 15تا39 سال کی عمر کے نوجوانوں کی جملہ اموات میں 10.4 فیصد اموات سڑک حادثات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ 14سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں 42.5 فیصد اموات نوزائیدہ بچوں میں موجود بیماریوں کی وجہ سے ہوا کرتی ہیں جبکہ 30.5 فیصد 14سال سے کم عمر کی اموات کی وجہ ڈائیریا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاست تلنگانہ میں بچوں کی اموات کے سلسلہ میں آج بھی غذائی قلت کا کلیدی کردار ہے اور اس قلت کو دور کرنے کیلئے ریاست میں پالیسی ساز اداروں کو حکمت عملی تیار کرنی چاہئے ۔ قومی سطح پر جاری کردہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 1990 سے 2016کے درمیان صرف 5 غیر وبائی امراض کی شناخت کی گئی ہے جبکہ مجموعی اعتبار سے اموات کی وجوہات میں قلبی امراض کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس پر غذائی عادات کو بہتر بناتے ہوئے کنٹرول کرنے کے اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ مرکزی وزارت صحت اور دیگر اداروں کی جانب سے تیار کردہ اس رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ ریاست تلنگانہ کے علاقوں میں غذائی قلت کے سبب ہونے والی اموات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جو کہ 1990میں 35.1 فیصد تھی لیکن اب 2016یہ مجموعی اعتبار سے 11.4 فیصد ہو کر رہ گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT