Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی میں کے سی آر کی سرد مہری

تلنگانہ کے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی میں کے سی آر کی سرد مہری

تحصیلدار مشیر آباد سے واجد حسین کے ساتھ وفد کی نمائندگی
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : کانگریس کے سابق فلور لیڈر جی ایچ ایم سی ایس محمد واجد حسین کی قیادت میں کانگریس قائدین کے ایک وفد نے تحصیلدار مشیر آباد مسٹر راملو کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ وفد میں محمد غوث الدین شیخ محمد معین ، سید خالد شاہ چشتی حسینی ، محمد ظفر الدین ، ڈی نصیر الدین ، ٹی مظہر ، شعیب رضا ، محمد عظیم الدین محمد خاں ، مجتبیٰ ، بی ریاض الدین ، محمد خالد حسین شہری ، محمد ذاکر حسین ، جلال الدین ، محمد واجد ، سی نیاز احمد ، محمد علاء الدین ، محمد عبدالطیف ، شیخ مخدوم ، عبدالغنی ، محمد مظہر ، محمد اعجاز کے علاوہ دیگر شامل تھے ۔ بعد ازاں ایس محمد واجد حسین نے کہا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کی عمل آوری میں ٹی آر ایس حکومت سرد مہری کا مظاہرہ کررہی ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر 4 ماہ میں مسلم تحفظات فراہم کرنے کے وعدے کو فراموش کرچکے ہیں ۔ کانگریس ریاست بھر میں مسلم تحفظات کی تحریک چلائی جارہی ہے باوجود اس کے ٹی آر ایس کے پلینری سیشن میں تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے چیف منسٹر نے یہ ثبوت دیا ہے کہ حکومت 12 فیصد مسلم تحفظات کے لیے سنجیدہ نہیں ہے ۔ 6 ماہ کی میعاد کے لیے تشکیل کردہ سدھیر کمیشن کی میعاد میں 2 مرتبہ توسیع دی گئی ہے باوجود اس کے سدھیر کمیشن نے مسلمانوں کی تعلیمی معاشی سماجی صورتحال پر ابھی تک حکومت کو رپورٹ پیش نہیں کی ہے ۔ چیف منسٹر وقت ضائع کرنے کے لیے اس کمیشن کا سہارا لیتے ہوئے مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ اقتدار حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کو ہتھیلی میں جنت دکھانے والے کے سی آر اقتدار کے 23 ماہ مکمل کرنے کے باوجود مسلمانوں سے کئے گئے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں ۔ جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے اور جلد از جلد مسلمانوں کو وعدے کے مطابق تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ حکومت کی ٹال مٹول پالیسی سے تعلیم اور ملازمتوں دونوں میں مسلمانوں کا نقصان ہورہا ہے ۔ مسٹر واجد حسین نے ڈبل بیڈ روم فلیٹس کے علاوہ حکومت کے دوسرے فلاحی اسکیمات ، بورڈ و کارپوریشن کے نامزد عہدوں پر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرتے ہوئے مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کرنے پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ افطار پارٹیاں ، کپڑوں کی تقسیم وغیرہ سے مسلمانوں کی پسماندگی دور نہیں ہوسکتی ہے ۔ مسلمانوں کی ترقی کا واحد راستہ 12 فیصد مسلم تحفظات ہے ۔ اگر حکومت 12 فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی میں مزید تاخیر کرتی ہے تو کانگریس پارٹی اپنے احتجاج میں مزید شدت پیدا کرے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT