Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر ہر سیاسی جماعت غیر سنجیدہ

تلنگانہ کے مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر ہر سیاسی جماعت غیر سنجیدہ

حیدرآباد 18 ڈسمبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 12 فیصد مسلمان بستے ہیں۔ اِس اعتبار سے 4 کروڑ تلنگانہ عوام کی آبادی میں تقریباً 50 لاکھ سے زائد مسلمان موجود ہیں اور ریاست کی ہر سیاسی جماعت کو مسلمانوں کا دم بھرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا لیکن درحقیقت کوئی سیاسی جماعت تلنگانہ کے مسلمانوں کے مفادات کے متعلق سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے معاملات کی عدم یکسوئی پر تقریباً ہر سیاسی جماعت کی جانب سے خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ دفاتر معتمدی جہاں پر مختلف محکمہ جات کے معتمدین حکومت کو مشورے فراہم کرتے ہوئے اپنے محکمہ کی ترقی اور محکمہ سے متعلق افراد کی ترقی کے منصوبے تیار کرتے ہیں، وہاں بھی مسلمانوں کا تناسب نہ کے برابر ہے بلکہ تلنگانہ محکمہ اقلیتی بہبود میں موجود عہدیداروں کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ ریاست کے 10 لاکھ مسلمانوں کے لئے ایک عہدیدار محکمہ اقلیتی بہبود کے دفتر معتمدی میں مامور ہے اور اُس پر 10 لاکھ مسلمانوں ہی نہیں بلکہ دیگر اقلیتی طبقات کے مفادات کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے منصوبے تیار کرنے کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اقلیتی بجٹ کی اجرائی وغیرہ کی ذمہ داری عائد ہے۔ ریاست آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ ریاست کو محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی تقسیم میں جو حصہ میسر آیا ہے اُس کے اعتبار سے محکمہ اقلیتی بہبود کو سکریٹری کے ماتحت اسسٹنٹ سکریٹری

اور 3 سیکشنس کیلئے 3 سیکشن آفیسرس کے علاوہ 5 اسسٹنٹ سیکشن آفیسرس کی منظوری دی گئی ہے لیکن اِس منظوری کے بعد 3 سیکشن آفیسرس میں ایک عہدہ مخلوعہ ہے جبکہ اسسٹنٹ سیکشن آفیسر کے دو عہدوں پر تقررات کیا جانا باقی ہے۔ عموماً پرنسپل سکریٹری یا سکریٹری کے ماتحت ڈپٹی سکریٹری، جوائنٹ سکریٹری یا ایڈیشنل سکریٹری کا عہدہ دیا جاتا ہے لیکن تلنگانہ محکمہ اقلیتی بہبود میں اِس عہدہ کی گنجائش نہیں رکھی گئی ہے۔ موجودہ سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم مکمل اضافی ذمہ داری کے طور پر یہ عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں جبکہ محکمہ میں اسسٹنٹ سکریٹری موجود ہے۔ پرنسپل سکریٹری، اسسٹنٹ سکریٹری کے علاوہ دو سیکشن آفیسر اور تین اسسٹنٹ سیکشن آفیسرس کو یکجا کیا جائے تو صرف 6 عہدیداروں پر مشتمل محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ خدمات انجام دے رہا ہے۔ جبکہ دفاتر معتمدی میں درکار تعداد و منظورہ تعداد کے درمیان اگر تفریق پائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں کنٹراکٹ کی اساس پر ملازمین کا تقرر عمل میں لاتے ہوئے معتمدی اُمور کی بہتر انجام دہی کی کوشش کی جاتی ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کے متعلق اختیار کردہ رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے سلسلہ میں کوئی سنجیدہ نہیں ہے اِسی لئے محکمہ اقلیتی بہبود میں برائے نام عہدیداروں کے تقرر کے ذریعہ اُمور انجام دیئے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT