Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے نوجوان حکومت سے ناراض ، بیروزگاری برقرار

تلنگانہ کے نوجوان حکومت سے ناراض ، بیروزگاری برقرار

ریاست کی تشکیل کے بعد بھی وعدے پورے نہیں کئے گئے ، مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات بھی مشکل
حیدرآباد۔/8نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی نوجوانوں میں امید پیدا ہوئی تھی کہ روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے۔ ٹی آر ایس حکومت نے مختلف محکمہ جات کی مخلوعہ ایک لاکھ سے زائد جائیدادوں پر اندرون ایک سال تقررات کا اعلان کیا تھا لیکن ڈھائی سال گذرنے کے باوجود مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا باقاعدہ آغاز نہیں ہوسکا اور بعض محکمہ جات کے اُمور ابھی امتحانات کے مرحلہ میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں حکومت کو کئی ایک دشواریوں کا سامنا ہے جن میں ایک مالیاتی کمزور موقف بھی شامل ہے۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے وقت مختلف محکمہ جات میں مخلوعہ جائیدادوں کی تعداد ایک لاکھ 7 ہزار تھی جو اب بڑھ کر ایک لاکھ 40ہزار ہوچکی ہے کیونکہ مختلف محکمہ جات میں عہدیدار اور ملازمین وظیفہ پر سبکدوش ہوئے ہیں۔ حکومت نے بعض محکمہ جات میں 4000 جائیدادوں پر تقررات کا عمل شروع کیا ہے تاہم یہ تقررات ابھی پبلک سرویس کمیشن اور ریکروٹمنٹ بورڈ کے امتحانات کے مرحلہ میں ہیں۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن نے ابھی تک 6000 جائیدداوں پر تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کیا ہے جن میں مجوزہ گروپ II امتحانات بھی شامل ہیں۔ محکمہ برقی اور سنگارینی کالریز نے 6000 جائیدادوں پر تقررات کئے ہیں۔ پولیس ریکروٹمنٹ بورڈ 10 ہزار پولیس کانسٹبلس کی جائیدادوں پر تقررات کے مرحلہ میں ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ تعلیم میں اقامتی اسکولس کیلئے 6000 ٹیچرس کی جائیدادوں پر تقررات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں عنقریب سرکاری اعلامیہ کی اجرائی متوقع ہے۔ تلنگانہ این جی اوز اور طلباء تنظیموں نے جائیدادوں کے تقررات میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ طلباء تنظیموں کی جانب سے کئی بار احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور سابق میں تقررات سے متعلق امتحانات کیلئے منتخب طلباء نے اندیشے ظاہر کئے کہ تقررات میں تاخیر کی صورت میں وہ نااہل قرار پاسکتے ہیں۔ اسی دوران تلنگانہ این جی اوز کے صدر دیوی پرساد نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے 30ہزار کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا معاملہ قانونی کشاکش کا شکار ہوچکا ہے۔ مرکز کی جانب سے مقررہ کمل نادھن کمیٹی نے ملازمین کی تقسیم کا عمل مکمل کرنے میں تاخیر کی جس کے نتیجہ میں حقیقی تعداد میں مخلوعہ جائیدادوں کا اندازہ مشکل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 10 ہزار ملازمین نے انہیں الاٹ کردہ ریاست میں خدمات انجام دینے پر اعتراض جتایا ہے اور کمیٹی سے نمائندگی کی ہے۔ یہ ملازمین ابھی یہ طئے نہیں کرپارہے ہیں کہ انہیں کس ریاست میں خدمات انجام دینی ہے۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن ایک لاکھ مخلوعہ  جائیدادوں پر اپنی 6 سالہ میعاد میں تقررات مکمل کرنے کا  عزم رکھتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT