Friday , June 22 2018
Home / تلنگانہ کے پہلے بجٹ میں اقلیتی بہبود ، تعلیمی ترقی پر خصوصی توجہ

تلنگانہ کے پہلے بجٹ میں اقلیتی بہبود ، تعلیمی ترقی پر خصوصی توجہ

ضلع کلکٹرس کو معاشی ترقی سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

ضلع کلکٹرس کو معاشی ترقی سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔/5اگسٹ، ( سیاست نیوز) نو قائم شدہ ریاست تلنگانہ کے پہلے بجٹ میں اقلیتی بہبود کی تعلیمی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ مالیاتی سال 2014-15 کے بجٹ کی تیاریوں کے سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود جناب احمد ندیم ( آئی اے ایس) نے مختلف اقلیتی اداروں سے رپورٹ حاصل کرتے ہوئے عبوری طور پر بجٹ تیار کرلیا ہے تاہم تمام ضلع کلکٹرس سے مقامی ضرورتوں کے مطابق رپورٹ کی وصولی کے بعد مزید اضافوں کے ساتھ بجٹ کو قطعیت دے دی جائے گی۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے 1000 کروڑ روپئے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے اور اسی کے مطابق بجٹ تیار کیا جارہا ہے۔ جناب احمد ندیم نے ’سیاست‘ کو بتایا کہ اقلیتی بہبود بجٹ کا 60فیصد حصہ اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کی اسکیمات پر محیط ہوگا جبکہ 30تا40فیصد معاشی ترقی اور روزگار پر مبنی اسکیمات کیلئے الاٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تمام ضلع کلکٹرس کو ضلع میں اقلیتوں کو درکار ضرورتوں کا جامع سروے کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مواضعات کی سطح سے ضلع تک اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی سے متعلق ضرورتوں کے بارے میں حکومت کو کلکٹرس رپورٹ پیش کریں گے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کو ضلع کلکٹرس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ 31جولائی تک تمام کلکٹرس کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی لیکن ابھی تک کسی کلکٹر نے رپورٹ روانہ نہیں کی۔ توقع کی جارہی ہے کہ اندرون ایک ہفتہ کلکٹرس اپنی رپورٹ روانہ کردیں گے۔ جناب احمد ندیم نے بتایا کہ انہوں نے اقلیتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد عبوری طور پر بجٹ کے اہم خدو خال طئے کرلئے ہیں اور کلکٹرس کی رپورٹ کے بعد قطعی بجٹ تجاویز تیار کرلی جائیں گی جنہیں حکومت کو پیش کیا جائے گا۔ حکومت نے تمام محکمہ جات سے بجٹ سفارشات طلب کی ہیں اور ستمبر میں منعقد ہونے والے بجٹ سیشن میں وزیر فینانس ای راجندر تلنگانہ حکومت کا پہلا بجٹ پیش کریں گے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے بتایا کہ ضلع کلکٹرس کو بعض رہنمایانہ خطوط روانہ کئے گئے جس کی بنیاد پر انہیں رپورٹ بھیجنی ہے وہ مواضعات، منڈل اور ضلع سطح پر اقامتی مدارس، آئی ٹی آئی، پالی ٹیکنک اور دیگر اداروں کے قیام کی ضرورت کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے بتایاکہ وہ چاہتے ہیں کہ اقلیتوں کو تعلیمی شعبہ میں ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ تعلیمی ترقی کے سبب اقلیتوں کی معاشی صورتحال بھی بہتر ہوسکتی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود ہر ضلع میں اقلیتوں کیلئے اقامتی مدرسہ، پری اور پوسٹ میٹرک ہاسٹل کے قیام کا منصوبہ رکھتا ہے۔ محکمہ کی یہ کوشش ہوگی کہ یہ اسکولس اور ہاسٹل کیلئے ذاتی عمارت تعمیر کی جائے۔اس کے علاوہ اسکالر شپ اور تعلیمی فیس سے متعلق اسکیمات پر بھی توجہ دی جائے گی۔ جناب احمد ندیم نے کہا کہ اقلیتی فینانس کارپوریشن اور کرسچین فینانس کارپوریشن کے ذریعہ اقلیتوں کو سبسیڈی کی فراہمی اور روزگار سے مربوط اسکیمات کیلئے بھی زائد فنڈز مختص کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔ پری میٹرک، پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کے علاوہ حکومت کی نئی شرائط کے مطابق تعلیمی امداد اسکیم پر عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی امداد سے متعلق حکومت کے رہنمایانہ خطوط وضع ہونے کے بعد ہی عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی سبسیڈی سے متعلق اسکیم کے بارے میں پوچھے جانے پر جناب احمد ندیم نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد تمام اداروں کے پی ڈی اکاؤنٹس منجمد کردیئے گئے تھے تاہم وہ اس اسکیم پر عمل آوری کا بہت جلد کارپوریشن کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ ماہ کے تیسرے ہفتہ میں بجٹ تجاویز کو قطعیت دے دی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT