Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے پہلے چیف منسٹر اور وزراء کی تقریب حلف برداری کی جھلکیاں

تلنگانہ کے پہلے چیف منسٹر اور وزراء کی تقریب حلف برداری کی جھلکیاں

حیدرآباد 2 جون ( سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست کی پہلی حکومت کی حلف برداری کے موقع پر راج بھون میں آج کئی دلچسپ مناظر دیکھے گئے۔ ایک طرف وزارت میں شامل کئے گئے ارکان حلف برداری کیلئے بے چین تھے تو دوسری طرف کابینہ میں شمولیت سے محروم ارکان اسمبلی اپنی مایوسی کو بناوٹی مسکراہٹ کے ذریعہ چھپانے کی کوشش کررہے تھے۔ سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے بعض قائدین نے تقریب حلف برداری میں شرکت کرتے ہوئے ماحول کو اور بھی خوشگوار بنادیا۔ سابق چیف منسٹر این بھاسکر راو اور ان کے فرزند سابق اسپیکر این منوہر ان شخصیتوں میں شامل تھے جو اس تقریب میں توجہ کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ ان قائدین نے ٹی آر ایس کے وزراء کو مبارکباد پیش کی ۔

٭ ٹھیک 8.13 بجے صبح گورنر ای ایس ایل نرسمہن اور چندرا شیکھر راو حلف برداری تقریب میں شریک ہوئے اور چیف سکریٹری راجیو شرما نے تقریب حلف برداری کے آغاز کی اجازت حاصل کی۔

٭ ٹھیک 8.15 بجے چندرا شیکھر راو نے تلگو زبان میں خدا کے نام پر چیف منسٹر کے عہدہ اور رازداری کا حلف لیا۔ان کے بعد کابینی وزراء کی حلف برداری کا آغاز ہوا اور سب سے پہلے اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے رکن قانون ساز کونسل محمد محمود علی نے حلف لیا۔ انہوں نے اردو زبان میں ’’اللہ سبحانہ تعالی‘‘ کے نام پر حلف لیا اور ساتھ ہی انہوں نے اقرار صالح بھی کیا۔ ان کے بعد ڈاکٹر ٹی راجیہ نے تلگو میں عہد واثق کرتے ہوئے حلف لیا۔ بعد میں ان دونوں کو چندر شیکھر راو نے ڈپٹی چیف منسٹر نامزد کیا ۔
٭ 11 وزراء میں سوائے محمود علی کے باقی 10 نے تلگو میں حلف لیا جبکہ 6 نے خدا کے نام پر اور 5 نے عہد واثق کیا۔

٭ کے سی آر کی کابینہ میں 7 وزراء کا تعلق او سی ، 3 بی سی ، اور ایک ، ایک کا تعلق ایس سی اور اقلیت سے ہے۔11 رکنی کابینہ میں اعلی طبقات سے تعلق رکھنے والے وزراء کی تعداد 7 ہیں ۔ جن میں 4 ریڈی ، اور 3 ویلما طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔کے سی آر ، تارک راما راو اور ہریش راو ویلما طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بی سی طبقہ کے 3 وزراء شامل کئے گئے ۔ کابینہ میں ایس ٹی طبقہ اور خواتین کو کوئی نمائندگی نہیں دی گئی جبکہ ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر 6 خواتین منتخب ہوئی ہیں۔

٭ کابینہ میں سب سے زیادہ وزراء کا تعلق حیدرآباد سے ہے جن کی تعداد 3 ہیں ۔ جن میں این نرسمہا ریڈی ، محمود علی اور پدما راو شامل ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈسمبر میں بلدی انتخابات کے پیش نظر حیدرآباد کو زائد نمائندگی دی گئی ۔ کریم نگر سے دو زراء شامل کئے گئے جن میں ای راجندر اور تارک راما راو شامل ہے۔ کابینہ میں محبوب نگر اور کھمم اضلاع کو نمائندگی نہیں مل سکی۔

٭ چندر شیکھر راو اور ان کے دو افراد خاندان نے حلف لیا۔ اس طرح کابینہ میں تین افراد کا تعلق ایک ہی گھرانے سے ہے۔ کے سی آر کے علاوہ ان کے فرزند تارک راما راو اور بھانجے ہریش راو کو کابینہ میں شامل کیاگیا۔
٭11 رکنی کابینہ میں محمود علی واحد ایم ایل سی ہیں جبکہ این نرسمہا ریڈی کسی بھی ایوان کے رکن نہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ بہت جلد انہیں قانون ساز کونسل کی رکنیت دی جائے گی۔
٭ نئے وزراء جوگو رامنا اور مہیندر ریڈی نے انتخابات سے قبل تلگودیشم سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی اور انہیں کابینہ میں شامل کرلیا گیا۔
٭ حلف برداری کے سلسلہ میں چندر شیکھر راو نے اپنے لکی نمبر 6 کی خلاف ورزی کی اور اسے ان کی مجبوری کہا جارہا ہے۔ ابتداء میں انہوں نے 5 وزراء کے ساتھ حلف لینے کا فیصلہ کیا تھا تا کہ مجموعی تعداد 6 ہو تاہم پارٹی میں قائدین کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے لمحہ آخر میں وزراء کی فہرست میں اضافہ کیا گیا۔ کے سی آر نے وزراء کے ناموں کو اس قدر راز میں رکھا کہ خود ٹی آر ایس کا ٹی وی چیانل بھی حلف برداری سے قبل صحیح تعداد اور ناموں کا درست طور پر انکشاف نہ کرسکا ۔ کے ٹی راما راؤ اور ہریش راؤ میں سے کسی ایک کو شامل کرنے کی تجویز تھی تاہم لمحہ آخر میں دونوں کو شامل کرلیا گیا ۔

٭ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے لمحہ آخر تک بھی پارٹی کے سینئر قائد کے ایشور کا نام سرفہرست تھا جن کا تعلق ایس سی طبقہ سے ہے تاہم لمحہ آخر میں اسی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ٹی راجیا کو اس عہدہ کیلئے چُن لیا گیا جس پر خود پارٹی قائدین حیرت کا اظہار کررہے ہیں بتایا جاتا ہے کہ راجیا کا تعلق مادیگا طبقہ سے ہے جبکہ کے ایشور مالا طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ تلنگانہ میں مادیگا طبقہ کی زائد آبادی کو پیش نظر رکھتے ہوئے کے سی آر نے کے ایشور پر راجیا کو ترجیح دی۔

٭ تلنگانہ این جی اوز قائدین سرینواس گوڑ اور سوامی گوڑ کی کابینہ میں عدم شمولیت پر سرکاری ملازمین حیرت زدہ ہیں۔ کے سی آر نے انتخابات سے قبل عوامی جلسوں میں انہیں کابینہ میں شامل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ایم ایل سی سوامی گوڑ کو سرکاری ملازمین کے امور کی وزارت کی ذمہ داری دینے کا کے سی آر نے اعلان کیا تھا جبکہ سرینواس گوڑ تلنگانہ گزیٹیڈ آفیسرس اسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے سرکاری ملازمت ترک کر کے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے اور انہوں نے محبوب نگر اسمبلی حلقہ سے کامیابی حاصل کی۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر آئندہ وزارت میں توسیع کے موقع پر کسی ایک کو وزارت میں موقع دیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT