Tuesday , June 19 2018
Home / مضامین / تلنگانہ کے ڈاکٹروں کیلئے نیا ضابطۂ اخلاق

تلنگانہ کے ڈاکٹروں کیلئے نیا ضابطۂ اخلاق

ڈاکٹر مجید خان

ڈاکٹر مجید خان

ریاست حیدرآباد تلنگانہ کی تشکیل میں اب ایک نیا روپ لے رہی ہے ۔ ریاستی نظم و نسق میں آیندہ چند سالوں میں آندھرا اور تلنگانہ کے تعلق سے صرف شکایتیں ہی سننے میں آئیں گی ۔ مگر ہم یہ بھول نہیں سکتے کہ آندھرا کے لوگ ہمارے اوپر زبردستی حکمرانی شروع کردئے تھے مگر ساتھ ہی ساتھ ہم کو بھی چاہئے تھا کہ ان کی تجارتی حکمت عملی سے اچھے سبق سیکھیں اور عوامی استحصال سے احتراز کریں۔ اس موضوع کو سمجھانے کے لئے میں حیدرآباد کے دواخانوں کی تاریخ آندھرا کے قیام سے پہلے اور بعد کی پیش کرنا چاہوں گا ۔ نوجوان نہ تو اس تاریخ سے واقف ہیں نہ ان کو اس میں دلچسپی ہوگی مگر واقف کار حضرات کا فرض ہوتا ہیکہ وہ اپنے 50 سالہ تجربات کی بنا پر ان تاثرات کو قلمبند کریں ۔

میں نے اپنے طرف سے پہل کی ہے ۔ مجھے امید ہیکہ مبہم ہی سہی میرے ہم عمر ساتھی اس ضمن میں قلم اٹھائیں گے ۔ 1952 میں عثمانیہ میڈیکل کالج کا طالبعلم تھا ۔ پولیس ایکشن کے بعد بی رام کشن راؤ کی پہلی حکومت قائم ہوئی تھی اور پہلا ہیلتھ منسٹر پھول چند گاندھی تھا اور بندو وزیر داخلہ تھے اور دونوں انتہائی فرقہ پرست تھے ۔ مسلمان سرکاری ملازمتوں میں سہمے ہوئے تھے ۔ غیر ضروری تبادلے کئے جارہے تھے اور ہمارا موقف ایک شکست خوردہ قوم کا تھا ۔ چونکہ ہم نے حکومت ہندوستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے تھے اس لئے ہمارے ساتھ معاندانہ سلوک کرنا واجبی سمجھا جاتا تھا ۔ دہلی میں پنڈت نہرو کی وجہ سے پھر بھی پولیس ایکشن کے وقت جو خونریزی ہوئی تھی وہ ختم ہوگئی ۔ دو مسلمان وزیر بھی تھے ۔ زین یار جنگ اور بعد میں مہدی نواز جنگ ۔ حیدرآبادی مسلمانوں پر پولیس ایکشن کے بعد قتل و غارتگری تو بہت ہوئی مگر ہم لوگ ہر قسم کے تعصب کا شکار ہوتے رہے ۔ راتوں رات عثمانیہ یونیورسٹی کا اردو ذریعہ تعلیم انگریزی کردیا گیا ۔ تلگو یا ہندی کیوں نہیں کیا گیا ؟ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ دوسری زبانوں میں اتنا منظم نظام تعلیم نہیں تھا ۔ معاشی اور تعلیمی طور پر مسلمان پسپا ہونے لگے تھے ۔ان میں اوسط طبقے سے لیکر دیوڑھی کے نوابوں کی حالت بھی قابل رحم تھی ۔

سارے پرانے حیدرآباد میں ایک مضبوط اخلاقی ڈھانچہ تو تھا ۔ میں یہاں پر دواخانوں کی تاریخ پر روشنی ڈالوں گا ۔ 50 ویں دہے میں ایک بہترین عثمانیہ دواخانہ حیدرآباد میں تھا بلکہ ساری ریاست کیلئے یہ سب سے بڑا دواخانہ تھا ۔ حیدرآباد کے نامور ڈاکٹرس جن میں اکثر ولایت سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آئے تھے ، ان میں قابل ذکر ڈاکٹر شاہنواز ، ڈاکٹر بہادر خان ، ڈاکٹر بنکٹ چندرا ، ڈاکٹر ایس اے منان ، ڈاکٹر قاری عبدالباری بعد میں ڈاکٹر ابوالحسن صدیقی ، ڈاکٹر یوسف الدین انصاری ، آنکھوں کے ڈاکٹر رامچندر اور حلق ناک کان کے ڈاکٹر اے پی این راؤ تھے ۔ ڈاکٹر منان شروع ہی سے خانگی مطب چلایا کرتے تھے اور نظام کے خصوصی معالج تھے ۔ حیدرآبادی تہذیب کا ایک نمونہ تھے ۔ شہر کے چند علاقوں میں چھوٹے سرکاری دواخانے تھے ۔ مثلاً دودھ باولی ، سلطان بازار وغیرہ ۔ عثمانیہ دواخانے کے مدمقابل شفاخانہ آصفیہ تھا جو اپنی شہرت میں عثمانیہ سے کم نہیں تھا اور اسے نظام حکومت کی پوری سرپرستی حاصل تھی ۔ گاندھی ہاسپٹل ، سروجنی دیوی ، نظام آرتھوپیڈک ، بہت بعد میں شروع کئے گئے ۔

دونوں شہروں سکندرآباد اور حیدرآباد کیلئے صرف عثمانیہ دواخانہ ہی تھا جہاں پر عصری ایلوپیتھک علاج کی سہولتیں تھیں ۔ چاہے مریض کوئی چپراسی ہو یا پھر منسٹر سب کے سب عثمانیہ دواخانے ہی میں شریک کروائے جاتے تھے ۔ اسکے علاوہ متعدی امراض کا دواخانہ شہر سے باہر تھا اور اس کو کورنٹی دواخانہ کہا جاتا تھا ۔ مگر مریضوں کا استحصال اس حد تک ہوا کرتا تھا کہ ڈاکٹروں کو خانگی پریکٹس کی اجازت تھی اور زیادہ تر سرکاری ڈاکٹر اپنے خانگی مریضوں کو عثمانیہ دواخانے میں شریک کرواتے تھے ۔ 1956 آیا اور حیدرآباد کا حلیہ ہی بدلتا گیا ۔ پرانی ریاست حیدرآباد کی لسانی اساس پر تقسیم ہوئی اور موجودہ تلنگانہ کے اضلاع آندھرا میں جوڑ دئے گئے اور پہلے چیف منسٹر سنجیوا ریڈی دارالحکومت حیدرآباد سے حکومت کرنے لگے ۔

گو کہ آندھرا کے عہدے دار فرقہ پرست ذہنیت کے حامل نہیں تھے مگر وہ حیدرآباد کے شائستہ عہدے داروں کو مرعوب کرتے گئے ۔ ہر شعبے میں وہ لوگ اپنی برتری کا اظہار کرنے لگے ۔ اور بے حساب تبادلے آندھرا سے حیدرآباد ہوتے گئے ۔ اچھے عہدوں پر آندھرا والوں کو لایا گیا ۔ غالباً یہ پہلی نفسیاتی شکست ہمارے عہدہ داروں کی ہوئی اور نہ ہوتے ہوتے بھی ہمارے لوگ انکی برتری قبول کرنے لگے بلکہ ہتھیار ڈالنے لگے ۔ یہی صورتحال میں نے قریب سے عثمانیہ دواخانہ میں بھی دیکھی ہے۔ تبادلے ہوتے رہے اور سیاسی طور پر جو مضبوط لوگ تھے نہ صرف آئے بلکہ اپنا رعب اور دبدبہ بھی دکھانے لگے ۔ بے حساب ناانصافیاں سرکاری ملازمتوں میں ہوتی رہیں ۔ تلنگانہ کے عہدہ داروں کی سینیارٹی کو نظر انداز کیا گیا ۔ اور کئی سالوں تک اس کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمات چلتے رہے مگر ان لوگوںکی دیدہ دلیری مجھے دنگ کرتی رہی گو کہ میں راست طور پر متاثر نہیں ہوا تھا ۔ نفسیات کے طالبعلم ہونے کے ناطے ممکن ہے میری حس ذرا زیادہ سے کارفرما تھی ۔ یہ احساس تلنگانہ کے ملازمین میں بڑھتا گیا اور بہرحال علحدہ تلنگانہ کی شکل میں اس کا ازالہ ہوجائے گا ۔ مگر گذشتہ پچاس سالوں میں نئی پود میں چاہے وہ آندھرا کے ہوں یا تلنگانہ کے جو اخلاقی گراوٹ آئی ہے اس کا تاریخی خاکہ میں کھینچنا چاہوں گا ۔ خاص طور سے میڈیکل پریکٹس کے تناظر میں۔ ڈاکٹری پیشہ کو رئیسوں کا پیشہ سمجھا جاتا تھا ۔ ڈاکٹروں کا ایک اخلاقی معیار ہوا کرتا تھا ۔ اس میں کسی قسم کی تجارت کو دخل نہیں تھا ۔ لوگ مشورے کیلئے ڈاکٹروں کے پاس جایا کرتے تھے اور نسخہ لیکر دواساز کے پاس سے دوا خرید لیا کرتے تھے ۔ ڈاکٹروں کی اپنی کوئی دواؤں کی دکانیں نہیں تھیں اس لئے منافع خوری کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔

یہ طریقہ آندھرا میں نہیں تھا ۔ وہاں پر ہر شعبہ میں مشقت کو بہت اہمیت تھی ۔ وہاں کے لوگ نسبتاً متمول تھے اور وہ لوگ خود بھی کمانا چاہتے تھے اور کسی کی بھی خدمات کس طرح سے خریدی جائیں اس ہنر میں وہ یکتا تھے اور یکتا ہیں ۔ تجارتی اصولوں پر خانگی دواخانے چلانے کا نظام آندھرا میں عام تھا اور یہی جال یہ لوگ حیدرآباد میں بھی پھیلانے لگے ۔ یہاں پر علاج و معالجہ ایک الگ سوچ ہے اور کامیاب کاروبار اس کا اصل مطمح نظر ہوگیا ہے ۔ پھر بھی حیدرآباد میں شاید ہی کوئی قابل الذکر خانگی دواخانہ تھا۔ عیسائی مشنری کے کچھ دواخانے تھے اور سنگین بیماریوں کے علاج کیلئے لوگ ویلور ، بمبئی وغیرہ جایا کرتے تھے ۔ جب برہمانندا ریڈی نے ڈاکٹروں کی خانگی پریکٹس پر پابندی لگادی تو میں نے بھی سرکاری ملازمت سے استعفی دے کر خانگی پریکٹس شروع کردی ۔ ڈاکٹر حیدر علی چراغ علی لین میں نجانی دواخانہ Najani بڑی کامیابی سے چلاتے ۔ اسکے بعد حیدرآباد نرسنگ ہوم اور کئی چھوٹے چھوٹے دواخانے کھلنے لگے ۔ شروع ہی سے امراض نسوان اور زچگیوں کیلئے کئی دواخانے چل رہے تھے جہاں پر میں نے کبھی نہیں سنا کہ علاج مریض کی استطاعت کے باہر ہے ۔

آندھرا کے حکمران جو ہم پر زبردست مسلط ہوگئے تھے وہ اس مغالطے میں تھے کہ ہم ہمیشہ دبے رہیں گے چنانچہ یہ لوگ اپنی پونجی ہر شعبہ حیات میں مصروف کرنے لگے اور دواخانوں کو بھی اپنا نشانہ بنانے لگے ۔ علاج مہنگا ہوتا گیا ۔ دواؤں کی کمپنیوں اور ڈاکٹروں میں تجارتی ساز باز ہونا شروع ہوا ۔ یہ لوگ کارپوریٹ کلچر پر عمل کرنے لگے ۔ اس میں کارپوریٹ کلچر میں اخلاقی قدروں کو اصلی قدریں کہا جاتا ہے اور یہ ڈھنگ بزنس مینجمنٹ اسکولس میں سکھائے جاتے ہیں ۔ امریکہ میں یہ ممکن ہے ٹھیک ہو مگر ہندوستانی عوام اسکے متحمل نہیں ہورہے ہیں ۔ حیدرآباد میں اخلاقی اقدار پر قائم کیا ہوا آخری دواخانہ تھا نظام آرتھوپیڈک ہاسپٹل ۔ جب وہ دواخانہ حکومت کے زیر نگرانی آگیا تو وہاں بھی مریض کی استطاعت ہی کی بنا پر علاج ہونے لگا تھا ۔ مگر حالات بگڑتے گئے ۔

مجھے یہ لکھتے ہوئے کوئی تامل نہیں ہورہا ہے کہ NIMS ضرورت مند عوام کے تجارتی استحصال کی علت میں نہ صرف ایک سنگ میل ثابت ہوا ہے بلکہ طب کی تاریخ میں اخلاقی گراوٹ کا سرچشمہ ثابت ہوا ہے ۔ شخصیات کا تذکرہ کئے بغیر میں تاریخی پہلو پر نظر ڈالتے ہوئے یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہاں کے نکلے ہوئے تجارتی نشے میں سرشار ماہرین ایک بار عوام میں اپنی مقبولیت کا لوہا منوانے کے بعد اپنے اپنے کارپوریٹ ادارے قائم کرتے گئے ۔ جب حیدرآباد کے مشہور خانگی پانچ ستارہ دواخانوں پر ہم نظر ڈالتے ہیں تو ان کے پیچھے ڈاکٹر کم اور ملک التجار ایک سے بڑھ کرایک نظر آتے ہیں ۔ تلنگانہ قائم ہونے کے بعد سب سے پہلے ہم کو چاہئے کہ عثمانیہ اور گاندھی ہاسپٹلس کی عظمت کو بحال کیا جائے ۔ گاندھی ہاسپٹل تو نئی سہولیات کی عصری عمارت میں منتقل ہوچکا ہے ۔ عثمانیہ ہاسپٹل میں عصری سہولیات فراہم کرنا مناسب نہیں ہوگا لہذا وہ ایک میوزیم بن سکتا ہے ۔ شہر حیدرآباد کیلئے ریاست میں سب سے بڑا دواخانہ بنانا ضروری ہے ۔

میں جب ڈاکٹروں میں اخلاقی گراوٹ کے تعلق سے اپنے آندھرا کے ساتھیوں سے بات کرتا ہوں تو وہ کہیے ہیں کہ اگر آپ گھر بیٹھے امریکہ کے طرز کا علاج کروانا چاہتے ہیں تو اخراجات ہونا لازمی ہے ۔ میں اس بات سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں اور مریض کے لوگ یہ خرچہ برداشت کرنے تیار رہتے ہیں مگر میرا اشارہ ڈاکٹروں کے اخلاق سے ہے ۔

اخراجات میں شفافیت اور اسی معیار کے دوسرے دواخانوں میں زمین آسمان کا فرق نہیں ہونا چاہئے ۔ پوشیدہ طور پر معصوم انجانے مریضوں سے جو زائد خطیر رقم کھسوٹنے کا عام آندھرائی رواج ایک وطیرہ بن چکا ہے اس کو تلنگانہ سے نکال باہر کرنا پڑے گا ۔ مثال کے طور پر ایک ہی علاج کی قیمت میں دو یا تین لاکھ کا فرق دیکھا جارہا ہے اور دواخانے کے ڈاکٹروں میں مشہور ہیکہ یہ ڈسکاونٹ اس ڈاکٹر کو دیا جاتا ہے جسے اپنے مریض جن کو ان پر پورا اعتماد ہو بھجواتا ہے اور مریض سے ان کا ذکر بھی نہیں کرتا ۔ اس کے علاوہ تشخیصی امتحانات میں جو فرق دیکھا جارہا ہے اس میں بھی یہی پوشیدہ لوٹ کھسوٹ کارفرما ہے ۔ ہم اس علت کو عوام کے علم میں لانا چاہتے ہیں ۔ یہ کام عصری ذرائع ابلاغ کی بہترین عوامی خدمت سے ہوسکتا ہے ۔نئی ریاست کی بنیاد کھوئے ہوئے اخلاقی کردار کی بحالی سے شروع ہونی چاہئے ۔ قیمتی علاج اگر ناگزیر ہو تو کسی کو شکایت نہیں ہوگی مگر خفیہ معاہدات طمع کی خاطر لینے سے گریز کیجئے ۔ ڈاکٹروں کو چاہئے کہ پھر سے قسم کھائیں کہ جو بھی ہم کریں گے وہ مریضوں کی بھلائی ہی کیلئے ہوگا ۔ نئی تلنگانہ ریاست میں نیا ضابطۂ اخلاق بنایئے اور اس پر عمل پیرا ہوجایئے ورنہ ہماری نوجوان پود تو اپنی پیشہ ورانہ زندگی پرانے اقدار سے ہی شروع کرے گی ۔

TOPPOPULARRECENT