Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے کسان برقی اور پانی کی قلت سے خودکشی پر مجبور

تلنگانہ کے کسان برقی اور پانی کی قلت سے خودکشی پر مجبور

حیدرآباد۔ 3؍ڈسمبر (سیاست نیوز)۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کسانوں کی اموات کو روکنے اور کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کے لئے اقدامات کے طور پر 4,250 کروڑ روپئے جاری کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ ریاست تلنگانہ کے پریشان حال کسانوں کی حالت کو بہتر بنانے اور بینکوں سے مربوط 17 ہزار کروڑ روپئے کے قرضہ جات کی معافی کے اعلان کو قابل عمل بنایا جاس

حیدرآباد۔ 3؍ڈسمبر (سیاست نیوز)۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کسانوں کی اموات کو روکنے اور کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کے لئے اقدامات کے طور پر 4,250 کروڑ روپئے جاری کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ ریاست تلنگانہ کے پریشان حال کسانوں کی حالت کو بہتر بنانے اور بینکوں سے مربوط 17 ہزار کروڑ روپئے کے قرضہ جات کی معافی کے اعلان کو قابل عمل بنایا جاسکے۔

ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد تلنگانہ کے کسانوں کی ابتر صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لئے حکومت تلنگانہ کی جانب سے کئی اعلانات کئے جارہے ہیں، لیکن برقی و پانی کی قلت کے باعث تلنگانہ کے کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ ریاست کی تقسیم کے بعد اعداد و شمار کے مطابق 350 کسانوں نے خودکشی کی ہے جس کی خود حکومت کی جانب سے توثیق کی جارہی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے کسانوں کی خودکشی کے واقعات کے تدارک کے لئے متعدد اسکیمات کا اعلان کرتے ہوئے کسانوں سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ انتہائی اقدام سے گریز کریں، کیونکہ حکومت تمام طبقات کی مساوی ترقی کے عہد کی پابند ہے۔ حکومت تلنگانہ کسانوں کی خودکشی اور انھیں درپیش مسائل کے لئے بھی پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کے حکمراں طبقہ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کررہی ہے کہ حکومت آندھرا پردیش کی جانب سے برقی کے حصہ کی عدم ادائیگی کے سبب حکومت تلنگانہ کسانوں کو زرعی ترقی کے لئے برقی فراہم کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ جوکہ ’سنہرے تلنگانہ‘ کی تعمیر کے لئے ریاست کے برقی و آبرسانی کے مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کے منصوبوں کا اعلان کررہے ہیں اور حکومت کی جانب سے کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کے سلسلہ میں 4,250 کروڑ روپئے کی اجرائی کے ذریعہ کسانوں کی اموات کو روکنے کی کوشش کی ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کئے گئے دعوؤں کے مطابق فی الحال فوری طور پر عہدیداروں کو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسانوں کو برسرموقع راحت پہنچانے کے اقدامات کے طور پر 25 فیصد قرضہ جات کی ادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ ان پر عائد بوجھ میں بتدریج تخفیف کے ذریعہ مکمل قرضہ جات کی معافی کے وعدے پر عمل کیا جاسکے۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کا اعلان کرتے ہوئے ریاست کے کسانوں کو حوصلہ دینے کی کوشش کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT