Wednesday , December 19 2018

تلنگانہ کے یونیورسٹیز میں مستقل وائس چانسلروں کیلئے مزید وقت درکار

تعلیمی معیارات کو بہتر بنانے پر حکومت کی توجہ، کڈیم سری ہری ڈپٹی چیف منسٹر کا بیان

تعلیمی معیارات کو بہتر بنانے پر حکومت کی توجہ، کڈیم سری ہری ڈپٹی چیف منسٹر کا بیان
حیدرآباد 23 اپریل (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کی یونیورسٹیز کو مستقل وائس چانسلرس کے لئے مزید 3 ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔ ریاست تلنگانہ میں موجود یونیورسٹیز کے مسائل کے حل کے لئے حکومت کی جانب سے انچارج وائس چانسلرس کا تقرر عمل میں لایا گیا ہے اور بحیثیت انچارج وائس چانسلرس آئی اے ایس عہدیدار اضافی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر ریاست تلنگانہ و وزیر اعلیٰ تعلیم مسٹر کڈیم سری ہری نے اِس بات کی توثیق کی ہے کہ مستقل وائس چانسلرس کے تقرر کے لئے مزید تین ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔ اُنھوں نے بتایا کہ ریاست کی تقسیم اور دیگر اُمور کے پیش نظر یہ تاخیر ہورہی ہے۔ اِس تاخیر سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے مسائل کے حل کے لئے حکومت نے عارضی طور پر انچارج وائس چانسلرس کے تقرر کو یقینی بنایا ہے۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ حکومت تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے اقدامات مستقل وائس چانسلرس کے تقرر کے بعد ہی کرے گی۔ ریاست تلنگانہ میں انجینئرنگ کالجس کے الحاق کو ختم کرنے کی کارروائیوں کے متعلق مسٹر کے سری ہری نے کہاکہ ریاست میں انجینئرنگ کی تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے یہ کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ اُنھوں نے واضح طور پر کہاکہ حکومت کسی سے بغض یا عناد کے سبب اِس طرح کی کارروائیاں انجام نہیں دے رہی ہے۔ مسٹر کڈیم سری ہری نے بتایا کہ ریاست میں 288 انجینئرنگ کالجس ہیں جن میں ایک لاکھ 70 ہزار نشستیں موجود ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ سال گزشتہ ایک لاکھ 10 ہزار طلباء نے انٹر سیکنڈ ایئر میں کامیابی حاصل کی تھی تو ایسی صورت میں مسائل پیدا ہونے کے خدشات کا اظہار درست نہیں ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں درحقیقت طلباء کے مفاد میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے اِس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ریاست میں مزید انجینئرنگ کالجس جن میں داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کو کسی دشواری کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا اُن کی مکمل فہرست جے این ٹی یو حیدرآباد کی ویب سائیٹ پر موجود رہے گی تاکہ طلبہ کو دشواریاں نہ ہونے پائیں۔ ریاست تلنگانہ کی یونیورسٹیز میں مستقل وائس چانسلرس کی عدم موجودگی کے سبب پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ ریاستی حکومت یونیورسٹی میں اپنی مرضی سے اقدامات کے لئے آئی اے ایس عہدیداروں کو عارضی طور پر تقرر بحیثیت وائس چانسلر کررہی ہے جبکہ ریاست میں سیول سرویس عہدیداروں کی کمی کے سبب انتظامیہ مفلوج ہونے کی شکایات بھی سرکاری سطح پر کی جارہی ہیں۔ اِن شکایات کے باوجود یونیورسٹیز میں مستقل وائس چانسلرس کے تقرر کے بجائے آئی اے ایس عہدیداروں کو اضافی ذمہ داریاں تفویض کرنا ریاستی انتظامیہ کو مزید پریشان کرنے کے مترادف ہے۔

TOPPOPULARRECENT