Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے 14 وزراء کارکردگی میں ناکام، حکومت کی پالیسیاں ادھوری

تلنگانہ کے 14 وزراء کارکردگی میں ناکام، حکومت کی پالیسیاں ادھوری

قصہ ڈبل بیڈ روم کا …
تلنگانہ کے 14 وزراء کارکردگی میں ناکام، حکومت کی پالیسیاں ادھوری
21 اضلاع میں دو بیڈروم کا ایک بھی مکان تعمیر نہیں ہوا، سرسلہ راجنا سے کے ٹی راما راؤ نمائندگی کرتے ہیں

حیدرآباد ۔ 29 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ کے 14 وزراء کی کارکردگی صفر بتائی جارہی ہے۔ حکومت کی اسکیمات پر عمل آوری کیلئے ان وزراء کو ذمہ داری دی گئی تھی لیکن انہوں نے اپنے حلقوں میں کوئی کام نہیں کیا خاص کر حکومت کی موافق غریب پالیسی ڈبل بیڈروم کے مکانات کی تعمیر کا کام ہی شروع نہیں ہوا ہے۔ وزیرآبپاشی ٹی ہریش راؤ کے سواء کسی بھی وزیر کی کارکردگی نمایاں نہیں ہے۔ جی جگدیش ریڈی اور سی لکشماریڈی بھی ہریش راؤ کی طرح کام کررہے ہیں لیکن دیگر تمام 14 وزراء چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ کی جانب سے انہیں دی گئی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔ چیف منسٹر نے ان کے حلقہ اسمبلی میں ڈبل بیڈروم کے مکانات تعمیر کرنے کی بھی ذمہ داری لی تھی۔ حکومت نے آج اس سال 2.66 لاکھ مکانات الاٹ کئے ہیں۔ جن وزراء کو کم از کم ایک لاکھ مکانات کی تعمیر کی ذمہ داری دی گئی تھی، وہ ابھی تک ٹنڈرس کو قطعیت دینے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ صرف 41,250 مکانات کیلئے ٹنڈرس کی تکمیل بھی نہیں کی گئی ہے۔ ان میں سے 24700 یونٹوں کیلئے کام شروع کیا گیا ہے لیکن یہ صرف 1930 مکانات ہی مکمل ہوئے ہیں۔ ضلع سدی پیٹ جہاں سے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ اور وزیر آبپاشی پی ہریش راؤ نمائندگی کرتے ہیں، ڈبل بیڈ روم کے مکانات کی تعمیر میں سب سے آگے ہیں۔ یہاں پر 588 مکانات تعمیر ہوچکے ہیں اس کے بعد محبوب نگر میں 225 مکانات تعمیر ہوئے جہاں سے وزیرصحت سی لکشماریڈی نمائندگی کرتے ہیں۔ سوریا پیٹ میں 192 مکانات تعمیر ہوئے ہیں۔ یہاں وزیرتوانائی جگدیش ریڈی نمائندگی کرتے ہیں۔ ماباقی اضلاع جیسے کھمم میں وزیرعمارات و شوارع ٹی ناگیشور راؤ کا حلقہ ہے یہاں اب تک صرف 230 مکانات تعمیر کئے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے تیار کردہ 2BHK اسکیم پر اب تک کے موقف کی رپورٹ تیار کی گئی ہے جس کے مطابق 21 اضلاع میں اب تک ایک بھی مکان تعمیر نہیں ہوا ہے۔ ضلع سرسلہ راجنا سے وزیرآئی ٹی اور صنعت کے ٹی راما راؤ نمائندگی کرتے ہیں۔ یہاں پر بھی کوئی مکان تیار نہیں ہوا۔ سب سے حیران کن بات یہ ہیکہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن حدود میں ایک لاکھ مکانات تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن صرف 396 مکانات ہی تعمیر کئے گئے ہیں۔ 42700 مکانات کی تعمیر کیلئے ٹنڈرس کو قطعیت دی گئی تھی لیکن صرف 14700 مکانات کیلئے ہی کام شروع ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے جملہ 2.66 لاکھ مکانات الاٹ کئے گئے ہیں۔ ان میں سے 83900 مکانات کیلئے ٹنڈرس کو قطعیت دی گئی ہے۔ ان میں سے بھی 39400 مکانات کیلئے تعمیری کام شروع ہوا۔ ان پر جملہ تعمیری مصارف 396کروڑ روپئے آئے ہیں۔ ڈبل بیڈروم مکانات کی اسکیم کی نگرانی کرنے والے عہدیداروں نے بتایا کہ تلنگانہ کے 13 وزراء اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اور وقت مقررہ پر مکانات کی تعمیر کو مکمل کرنے سے قاصر رہے۔ ان وزراء کو ان مکانات کی تعمیر کیلئے ٹنڈرس کی اجرائی اور ٹنڈرس کو قطعیت دینے اور اپنے اضلاع میں کاموںکی تکمیل کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ ضلع کلکٹرس کے ساتھ رابطہ کے ذریعہ ان کاموں کو انجام دیا جانا تھا لیکن یہ وزراء اپنی نااہلی اور عدم کارکردگی کا ثبوت دیتے ہوئے حکومت کی اسکیمات کو روبہ عمل نہیں لاسکے۔ ان وزراء کا کہنا ہیکہ کنٹراکٹرس کو ڈبل بیڈروم کے مکانات کی تعمیر میں دلچسپی نہیں ہے۔ اس کی اصل وجہ یہی ہیکہ ہاؤزنگ اسکیم میں تاخیر ہورہی ہے۔ خانگی ایجنسیاں ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کیلئے مقررہ تخمینہ میں اضافہ کا مطالبہ کررہی ہے کیونکہ یہ لوگ پر یونٹ کیلئے 5 تا 6 لاکھ کی لاگت پر کام کرنے سے قاصر ہیں۔ اتنی کم رقم میں مکان تعمیر نہیں کیا جاسکتا۔ عہدیداروں کا کہنا ہیکہ تعمیراتی میٹرئل کی قیمتوں میں اضافہ اور مزدوری میں اضافہ کے باعث لاگت بڑھ رہی ہے۔ اس سلسلہ میں چیف منسٹر بہت جلد وزراء اور عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کریں گے اور ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سال کے ختم تک ہر ضلع میں امکنہ اسکیم کو پورا کرنے کیلئے وزراء پر زور دیا جارہا ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT