Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے 174 انجینئرنگ کالجس داخلوں کی اجازت سے محروم

تلنگانہ کے 174 انجینئرنگ کالجس داخلوں کی اجازت سے محروم

اقلیتی کالجس کے وجود کو خطرہ، مسلمہ حیثیت دینے سے جے این ٹی یو کا انکار

اقلیتی کالجس کے وجود کو خطرہ، مسلمہ حیثیت دینے سے جے این ٹی یو کا انکار
حیدرآباد۔/24اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں 174 انجینئرنگ کالجس میں داخلوں کی اجازت نہ دیئے جانے کے سبب کئی کالجس بشمول اقلیتی کالجس کے وجود کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ جواہر لال نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی نے 174 کالجس کو جاریہ سال مسلمہ حیثیت دینے سے انکار کردیا جن میں 22تا25کالجس کا تعلق اقلیتی اداروں سے ہے۔ یونیورسٹی کی یہ دلیل ہے کہ ان کالجس میں کمپیوٹرس اور فیکلٹیز دستیاب نہیں ہیں لہذا بنیادی سہولتوں کی کمی کے باعث وہ جاریہ سال داخلوں کی اجازت نہیں دے سکتی۔ اگرچہ یہ معاملہ ہائی کورٹ تک پہنچ چکا ہے تاہم ہائی کورٹ کے فیصلہ پر ان کالجس کے وجود کا انحصار ہے۔ہائی کورٹ نے اس مسئلہ پر فریقین کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کردیا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ عدالت پیر کے دن اپنا فیصلہ سنائے گی۔ یونیورسٹی نے جن بنیادوں پر کالجس کو مسلمہ حیثیت دینے سے انکار کیا اس مسئلہ پر تلنگانہ حکومت کا موقف بھی یونیورسٹی کے عین مطابق ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ حکومت نے خانگی انجینئرنگ کالجس کی جانب سے اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی اسکیمات میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کے انکشاف کے بعد یونیورسٹی کو اس طرح کی کارروائی کا مشورہ دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے خفیہ تحقیقات کے ذریعہ اس بات کا پتہ چلایا کہ بیشتر خانگی انجینئرنگ کالجس بنیادی سہولتوں سے عاری ہیں اور طلبہ کے نام پر لاکھوں روپئے فیس بازادائیگی کے طور پر حاصل کئے جارہے ہیں۔ طلبہ صرف داخلہ لیکر امتحانات میں شرکت کرتے ہیں جبکہ ان کیلئے کلاسیس کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔ اے آئی سی ٹی ای اور یونیورسٹی کے معائنہ کے موقع پر اس طرح کی دھاندلیوں کا پتہ چلا۔ تاہم خانگی کالجس کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کے پاس نہ صرف قابل فیکلٹیز ہیں بلکہ عصری کمپیوٹرس کی سہولت بھی حاصل ہے۔ تلنگانہ حکومت نے تعلیمی فیس سے متعلق نئی اسکیم کا آغاز کرتے ہوئے اسکیم میں دھاندلیوں کے خاتمہ کا فیصلہ کیا ہے۔Fastنامی اسکیم متعارف کی جارہی ہے جس کی شرائط میں یہ لازمی ہے کہ طالب علم 1956 سے تلنگانہ میں قیام سے متعلق ثبوت پیش کرے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق خانگی کالجس کی دھاندلیوں کے خاتمہ کی صورت میں حقیقی مستحق طلبہ تک اسکیم کے فوائد پہنچ پائیں گے اور حکومت پر مالی بوجھ بھی کم ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ سال مسلمہ حیثیت سے محروم 174انجینئرنگ کالجس میں تقریباً 25اقلیتی کالجس ہیں جن میں شاداں گروپ کے 9، انوارالعلوم کے 4 ، آزاد کالجس گروپ کے 2، لارڈز کالجس کے 2 اور دیگر کالجس شامل ہیں۔ یونیورسٹی نے جن 6اقلیتی انجینئرنگ کالجس کو مسلمہ حیثیت دی ہے ان کی نشستوں کی تعداد کو 10فیصد کم کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کالجس میں داخلوں کی اجازت نہ دیئے جانے کے سبب 10تا 12ہزار نشستوں کا اقلیتی طلبہ کو نقصان ہوگا جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 80ہزار نشستیں متاثر ہوں گی۔ حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل نے یونیورسٹی کے فیصلہ کی پرزور مدافعت کی اور خانگی کالجس کی بے قاعدگیوں کو عدالت میں پیش کیا۔ اب کالجس کی نظریں ہائی کورٹ پر ٹکی ہیں کیونکہ اس کا فیصلہ ان کالجس کے مستقبل کو طئے کرے گا۔ اسی دوران خانگی انجینئرنگ کالجس مینجمنٹ اسوسی ایشن نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت تمام کالجس کو جاریہ ویب کونسلنگ میں شامل نہیں کرے گی تو وہ تمام داخلوں کو مسترد کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT