Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے 174 بشمول 31 اقلیتی انجینئرنگ کالجس میں داخلوں کی عدم اجازت

تلنگانہ کے 174 بشمول 31 اقلیتی انجینئرنگ کالجس میں داخلوں کی عدم اجازت

حیدرآباد ۔ 10 اکٹوبر ۔ (سیاست نیوز)ریاست تلنگانہ میں انجینئرنگ کالجس میں داخلے کے خواہشمند ہزاروں طلبہ آج بھی داخلے کے حصول کیلئے منتظر ہیں۔ کالجس اور حکومت کے درمیان جاری رسہ کشی کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان طلبہ کا سال ضائع ہونے کے درپہ پہونچ چکا ہے ۔ حکومت تلنگانہ نے 174 انجینئرنگ کالجس کو داخلوں کی اجازت نہیں دی ہے جس میں تقریباً 31 اقلیتی انجینئرنگ کالجس شامل ہیں ، جن کالجس کو داخلوں کی اجازت فراہم کی گئی ہے اُن میں صرف پانچ کالجس ہیں جہاں پر طلبہ کو داخلے حاصل کرنے میں کامیابی ملی ہے جبکہ مابقی اقلیتی کالجس داخلوں کیلئے عدالت میں زیردوراں مقدمہ کے فیصلے پر انحصار کئے ہوئے ہیں۔ فی کالج اگر 300 نشستوں کے اعتبار سے بھی حساب کیا جائے تو ایسی صورت میں 31 کالجس میں تقریباً 9300 طلبہ کو انجینئرنگ میں داخلہ حاصل ہوسکتا ہے ۔ اقلیتی طلبہ جوکہ عمومی اعتبار سے اقلیتی کالجس میں داخلے کے حصول کو ترجیح دیتے ہیں اُن طلبہ کو 31 کالجس میں داخلوں کی اجازت کے عدم حصول کے باعث دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ ان طلبہ نے جوکہ انجینئرنگ میں اپنے مستقبل کو تابناک بنانے کامنصوبہ تیار کیا تھا اُسے وہ پورا کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں ۔ داخلے کے حصول کے خواہشمند طلبہ کے سرپرستوں کا کہنا ہے کہ اقلیتی کالجس کو داخلوں کی اجازت نہ دیئے جانے کے سبب نہ صرف اُن کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں بلکہ وہ دیگر کالجس میں داخلہ دلوانے سے بھی قاصر محسوس کررہے ہیں۔ جن کالجس کو داخلوں کی اجازت حاصل ہوئی ہے اور جو کالجس A زمرے میں داخلہ کررہے ہیں اُن کالجس کی اکثریت عام زمرے کی ہے اور اقلیتی کالجس اس فہرست میں بہت کم رہ گئے ہیں، اس وجہ سے اقلیتی طلبہ ان کالجوں میں داخلے کے متعلق تذبذب کا شکار بنے رہے اور عدالتی رسہ کشی کو دیکھتے ہوئے طلبہ آج بھی کالجس میں داخلوں کی اجازت کے متعلق انتظار کررہے ہیں کہ اگر عدالت کی جانب سے اجازت فراہم کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں اُنھیں راحت حاصل ہوگی ۔ بیشتر انجینئرنگ کالجس کو بی ٹیک میں داخلہ کی اجازت نہیں ملی ہے جبکہ انھیں ایم ٹیک میں داخلے کی اجازت حاصل ہے جوکہ ناقابل فہم ہے جناب محمد علی شبیر سابق ریاستی وزیر نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ ان کالجس کو جے این ٹی یو کے ذریعہ بند کرتے ہوئے حکومت کے تقریباً ایک ہزار کروڑ روپئے بچانے کی کوشش میں ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف اقلیتی نوجوانوں کو بیروزگار بنانے اور تعلیم سے دور کرنے کے مترادف ہے بلکہ دیگر طبقات کو بھی حکومت کے اس اقدام سے کافی نقصان ہوا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ مجموعی اعتبار سے 11,000 مسلم نوجوان جوکہ انجینئرنگ میں داخلے کے اہل ہیں ، حکومت کے فیصلے کے باعث داخلہ حاصل کرنے سے محروم ہورہے ہیں۔اس مرتبہ صرف ایک مرتبہ کونسلنگ کی گئی اور مابقی دو مراحل میں کونسلنگ نہ کئے جانے کے سبب سنگل ونڈو I کے تحت تقریباً 2000 داخلوں سے مسلم نوجوان محروم ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کالجس کو بند کئے جانے سے حکومت کو تقریباً ایک ہزار کروڑ کا فائدہ ہوا ہے ۔ جناب عارف رضوان نے بتایا کہ کالج انتظامیہ برسہا برس سے یونیورسٹی کی جانب سے دیئے گئے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کے ذریعہ کالجس چلا رہے ہیں لیکن ریاست تلنگانہ میں جے این ٹی یو کے ذریعہ حکومت نے جو اقدام کیا ہے اُس سے نہ صرف کالج انتظامیہ کو جھٹکہ لگا ہے ۔ جناب عارف رضوان نے بتایا کہ حکومت نے A زمرے میں داخلوں کی اجازت فراہم نہیں کی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ محسوس کی جارہی ہے کہ حکومت کالجس کو صرف اس لئے نشانہ بنارہی ہے کہ اس زمرے میں جو غریب طلبہ داخلہ حاصل کرتے ہیں انھیں فیس ادا نہ کرنا پڑے ۔ جناب خورشید احمد نے بتایا کہ اب تک یونیورسٹی کی جانب سے کسی قسم کی انتظامیہ میں کمی یا لیاب وغیرہ کے مسائل کی صورت میں یونیورسٹی کالجس سے تحریری طورپر طمانیت حاصل کرتے ہوئے اجازت فراہم کیا کرتی تھی لیکن اس مرتبہ جو کارروائی کی گئی ہے اس سے ریاست تلنگانہ کے ہزاروں طلبہ کانقصان ہوا ہے ۔ جس کی وجہ سے غریب اقلیتی طلبہ داخلہ حاصل کرنے سے محروم ہورہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ کو چاہئے کہ وہ کالجس اور طلبہ دونوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے فوری طورپر اقدامات کرتے ہوئے کالجس کی جانب سے کی گئی نمائندگیوں پر ہمدردانہ غور کریں۔

TOPPOPULARRECENT