Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے 250 طلبہ کو ہر سال بیرون ملک تعلیم کا قرض

تلنگانہ کے 250 طلبہ کو ہر سال بیرون ملک تعلیم کا قرض

غریب و مستحق طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کا موقع ، جناب سید عمر جلیل اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبودکا ادعا

غریب و مستحق طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کا موقع ، جناب سید عمر جلیل اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبودکا ادعا
حیدرآباد۔/12مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اقلیتی بہبود کے سلسلہ میں مالیاتی سال 2015-16کیلئے 1105 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں تاہم محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے حکومت کو 1179 کروڑ 54لاکھ 35ہزار کے بجٹ کی سفارشات پیش کی گئی تھیں۔ حکومت نے بعض اسکیمات اور اداروں کے بجٹ میں کمی کرتے ہوئے 1105 کروڑ روپئے کی منظوری دی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے منصوبہ جاتی مصارف کے تحت1168 کروڑ 23لاکھ کی بجٹ سفارشات پیش کی گئی تھیں جبکہ نان پلان بجٹ کے تحت 8کروڑ 56لاکھ کی سفارشات پیش کی گئی تھیں تاہم حکومت نے1100 کروڑ پلان اور 5کروڑ نان پلان کے تحت مختص کئے ہیں۔ بجٹ کی منظوری کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار کافی مطمئن نظر آئے کیونکہ حکومت نے تعلیمی ترقی سے متعلق سفارشات کو منظوری دی ہے۔ بجٹ سفارشات میں فیس بازادائیگی پر مشتمل فاسٹ اسکیم کیلئے 450کروڑ کی سفارش کی گئی تھی تاہم حکومت نے425کروڑ کو منظوری دی ہے جبکہ 25کروڑ روپئے اقلیتی طلبہ کو بیرون ملک تعلیم کیلئے قرض کی فراہمی کی اسکیم کیلئے الاٹ کئے گئے۔ اس اسکیم کے تحت محکمہ اقلیتی بہبود 10لاکھ روپئے تک خرچ فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ ریاست میں ایس سی، ایس ٹی طلبہ کیلئے اس طرح کی سہولت موجود ہے اور پہلی مرتبہ اقلیتی طلبہ اس اسکیم سے استفادہ کرپائیں گے۔ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے بتایا کہ جاریہ سال اس اسکیم سے 250اقلیتی طلبہ کو قرض فراہم کیا جاسکتا ہے۔ اس منفرد اسکیم کے آغاز سے غریب اور مستحق طلبہ بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود بہت جلد اس اسکیم کے قواعد طئے کرتے ہوئے احکامات جاری کردے گا۔ تلنگانہ حکومت نے فیس بازادائیگی، شادی مبارک، اسکالر شپ ، اردو گھر شادی خانوں کی تعمیر، سبسیڈی کی فراہمی، اقلیتی طلبہ کیلئے ہاسٹلس اور اقامتی اسکولس کی تعمیر جیسی اسکیمات پر زائد بجٹ مختص کیا ہے۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ وہ محکمہ اقلیتی بہبود بجٹ کے مکمل خرچ پر خصوصی توجہ مرکوز کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر فلاحی اور تعلیمی اسکیمات پر تیزی سے عمل آوری کے خواہاں ہیں اور وہ وقتاً فوقتاً مختلف اسکیمات کے بارے میں محکمہ سے رپورٹ طلب کررہے ہیں۔ اکٹوبر میں شروع کی گئی شادی مبارک اسکیم پر عمل آوری کا نومبر سے آغاز ہوا اور گزشتہ چار ماہ میں محکمہ اقلیتی بہبود میں اسٹاف کی کمی کے باوجود اس اسکیم پر عمل آوری میں ایس سی، ایس ٹی محکمہ جات سے بہتر مظاہرہ کیا ہے۔ ایس سی، ایس ٹی کیلئے شروع کی گئی کلیان لکشمی اسکیم سے زیادہ شادی مبارک اسکیم کیلئے رقمی منظوری دی گئی۔ ابھی تک 18کروڑ روپئے غریب اقلیتی لڑکیوں کی شادی پر امداد کیلئے جاری کئے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ مالیاتی سال کے اختتام تک محکمہ اس بات کی کوشش کرے گا کہ حکومت کے جاری کردہ بجٹ کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہو۔ انہوں نے 1105 کروڑ روپئے کی منظوری پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ اقلیتی اداروں میں عہدیداروں اور اسٹاف کی کمی کو دور کرتے ہوئے وہ اسکیمات پر موثر عمل آوری کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ نہ صرف بجٹ کا موثر استعمال ہو بلکہ اسکیمات کے فوائد حقیقی مستحقین تک پہنچ سکیں۔

TOPPOPULARRECENT