Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے 29 مائناریٹی انجینئرنگ کالجس کیساتھ امتیازی سلوک کا الزام

تلنگانہ کے 29 مائناریٹی انجینئرنگ کالجس کیساتھ امتیازی سلوک کا الزام

30 ہزار طلباء، 6 ہزار اسٹاف، 500 کروڑ کے سرمایہ کا مستقبل غیر یقینی۔ حکومت سے انصاف کا مطالبہ

30 ہزار طلباء، 6 ہزار اسٹاف، 500 کروڑ کے سرمایہ کا مستقبل غیر یقینی۔ حکومت سے انصاف کا مطالبہ
حیدرآباد 22 مارچ (سیاست نیوز) جواہر لال نہرو ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی حیدرآباد کی جانب سے تلنگانہ کے 29 مائناریٹی انجینئرنگ کالجس کے الحاق کو ختم کردینے سے لگ بھگ 30 تا 35 ہزار اقلیتی طلبہ ، چھ ہزار سے زائد تدریسی و غیر تدریسی عملے کا مستقبل غیر یقینی ہوگیا ہے۔ جبکہ اندیشہ ہے کہ ان متاثرہ انجینئرنگ کالجس کا انتظامیہ شدید مالی بحران سے دوچار ہوجائے گا جنھوں نے ایک عام اندازہ کے مطابق پانچ سو کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اقلیتی انجینئرنگ کالجس کے ایک ترجمان نے اخباری نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ تلنگانہ میں تقریباً 300 انجینئرنگ کالجس ہیں جن میں سے 174 کالجس تقریباً بند کردیئے گئے ہیں اور اس سلسلہ میں کالجس کے انتظامیہ کو اپنے موقف کی وضاحت کا کوئی موقع نہیں دیا گیا۔ یہ کالجس عدالت سے رجوع ہوئے۔ سپریم کورٹ نے کونسلنگ کی اجازت دی اور بیٹس پلانی اور این آئی ٹی، آئی آئی ٹی کے نمائندوں پر مشتمل نمائندوں کے ذریعہ کالجس کو انسپکشن کی ہدایت دی۔ اس ٹیم نے ڈسمبر 2014 ء میں ان کالجس کے معائنہ کے بعد رپورٹ دی۔ تاہم جے این ٹی یو ایچ نے اس رپورٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سابقہ رپورٹ کو جو جولائی 2014 ء میں انسپکشن کے بعد تیار کی گئی تھی، اسی کو بنیاد بناکر ان کالجس کے الحاق کو ختم کردیا۔ مائناریٹی انجینئرنگ کالجس کے ترجمان نے بتایا کہ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ ایک طرف یہ وعدے کررہے ہیں کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کے ساتھ انصاف کیا جائے گا اور انھیں ہر شعبہ حیات میں ترقی کے مساوی مواقع دیئے جائیں گے۔ تعلیم اور روزگار کے ہر شعبہ میں ان کو دیگر شہریوں کے شانہ بہ شانہ ترقی دی جائے گی۔ تاہم مائناریٹی انجینئرنگ کالجس کے ساتھ امتیازی رویہ سے یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ چیف منسٹر کے قول اور فعل میں تضاد ہے۔ یہ بھی شبہ پیدا ہوتا ہے کہ فیس ری ایمبرسمنٹ سے بچنے کی خاطر کالجس کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ترجمان نے الزام عائد کیاکہ صرف مائناریٹی کالجس کو نشانہ بنایا گیا۔ 33 میں سے 29 کالجس کے الحاق کو ختم کیا گیا اس طرح 90 فیصد مائناریٹی کالجس متاثر ہوئے۔ اس کے برعکس 123 نان مائناریٹی کالجس کو الحاق دیا گیا۔ جے این ٹی یو کی جانبداری اور امتیازی رویہ کی وجہ سے تلنگانہ کے طلبہ دوسری ریاستوں کا رُخ کرنے پر مجبور ہیں۔ حالانکہ تلنگانہ کی تشکیل سے پہلے دوسری ریاستوں کے اقلیتی طلبہ کی کثیر تعداد انجینئرنگ کی تعلیم کے لئے تلنگانہ کے کالجس میں داخلہ لیتی رہی ہے۔ مائناریٹی انجینئرنگ کالجس کے نمائندوں نے چیف منسٹر کے سی آر سے اپیل کی کہ وہ ہمدردانہ غور کرتے ہوئے متاثرہ مائناریٹی انجینئرنگ کالجس کے سابقہ موقف کو بحال کریں تاکہ طلباء ان کے سرپرستوں اور ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف کے مستقبل کا تحفظ کیا جاسکے۔ مائناریٹی کالجس سیلف فینانسنگ ادارے ہیں، وہ تعلیم کو عام کرنے کی اہم ذمہ داری نبھارہے ہیں۔ اقلیتی اداروں کے ترجمان نے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے اظہار تشکر کیا جنھوں نے ایوان اسمبلی میں اور قانون ساز کونسل میں انجینئرنگ کالجس کے حق میں آواز اُٹھائی اور حکومت سے ان کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کیا۔ ترجمان نے حکومت اور جے این ٹی یو سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی قسم کی خامیاں یا کوتاہیاں ہوں تو ان کو دور کرنے کے لئے متاثرہ کالجس کو ایک سال کا موقع دیا جائے۔ حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ خامیاں پہلے ہی دور کی جاچکی ہیں اور اس کے بعد ہی ڈسمبر میں انسپکشن کیا گیا تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ اقلیتی کالجس حکومت آئی سی ٹی ای اور جے این ٹی یو کی سخت سے سخت شرائط کی پابندی کے لئے تیار ہیں اور وہ اپنے طور پر طلباء کی تعداد میں کمی کے لئے راضی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT