Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے 400 اِسکولس میں ’’صفر داخلے‘‘

تلنگانہ کے 400 اِسکولس میں ’’صفر داخلے‘‘

طلبہ کے بغیر اسکول ’’ایک بیمار شخص اور بے مقصد زندگی ‘‘کی طرح ،سپریم کورٹ برہم
نئی دہلی۔ 14 اپریل (پی ٹی آئی) سپریم کورٹ نے نئی ریاست تلنگانہ کے تقریباً 400 سرکاری اسکولس میں طلبہ کے ’’صفر داخلے‘‘ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے ماہرین کے پیانل کی رپورٹ طلب کی ہے تاکہ بچوں کی اسکولی تعلیم سے دُوری کی وجوہات معلوم کی جاسکیں۔ عدالت نے اپنی تشویش کا آج اس وقت اظہار کیا جب حکومت ِ تلنگانہ نے مطلع کیا کہ سال2015-16ء میں 18,139 پرائمری اسکولس کے منجملہ 398 اسکولس میں ایک بھی طالب علم نے داخلہ نہیں لیا۔ 980 اسکولس میں طلبہ کی تعداد  ایک تا 10 اور 2,333 اسکولس میں طلبہ کی تعداد 11 تا 20 رہی۔ جسٹس دیپک مشرا کی زیرقیادت بینچ نے کہا کہ کوئی تعلیمی ادارہ جہاں طلبہ نہ ہوں، بالکل صحت سے عاری شخص کے وجود کی طرح ہے یا پھر بے مقصد زندگی گذارنے کے مماثل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق تعلیم ایک بنیادی حق ہے۔ ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک تا 14 سال کے بچوں کو لازمی طور پر تعلیم فراہم کرے اور اس پر خصوصی توجہ دے۔ بینچ میں جسٹس شیوا کیرتی سنگھ بھی شامل ہیں۔ بینچ نے کہا کہ اسکولس میں تمام تر انفراسٹرکچر ہونا چاہئے اور حق مفت و لازمی تعلیم ایکٹ پر موثر عمل یقینی بنانا چاہئے۔ عوام میں جوش و خروش پیدا کیا جائے اور بچوں کو اسکول بھیجنے کے رواج کو عام کرنے کیلئے ان میں دلچسپی پیدا کی جائے۔ والدین کی بھی یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں لیکن ریاستی حکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو یہ یقین ہو کہ ان کے بچوں کی موثر تعلیم کا انتظام ہورہا ہے۔ اس ضمن میں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے اور یہ انتہائی افسوسناک پہلو ہے کہ موجودہ صورتحال ایسی ہے جہاں 398 اسکولس میں ایک بھی طالب علم نے داخلہ نہیں لیا۔عدالت نے اندرون 4 ہفتہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے اور آئندہ سماعت 10 مئی کو مقرر کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT