Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے 65 فیصد اسکولس میں کلاس رومس کی کمی

تلنگانہ کے 65 فیصد اسکولس میں کلاس رومس کی کمی

ون کلاس ون روم قاعدہ پامال
تلنگانہ کے 65 فیصد اسکولس میں کلاس رومس کی کمی
175 اسکولس میں تو ایک بھی کلاس روم موجود نہیں،3 ہزار سے زائد اسکولس میں صرف سنگل کلاس روم
حیدرآباد 26 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست میں موجود جملہ 42 ہزار 632 اسکولس ہیں اور 65 فیصد اسکولس محض 6 یا اس سے بھی کم کلاس رومس کے ساتھ کام کررہے ہیں حالانکہ ون کلاس ون روم کا قاعدہ مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری اور خانگی شعبہ میں 27 ہزار 294 اسکولس ایسے ہیں جو ناکافی کلاس رومس کے ساتھ چلائے جارہے ہیں۔ تلنگانہ سروا سکشا ابھیان کی رپورٹ کے مطابق تلنگانہ ریاست میں 175 اسکولس بغیر کلاس روم کے چلائے جارہے ہیں اور 3 ہزار 745 اسکولس ایسے ہیں جہاں تمام طلبہ کے لئے ایک ہی کلاس روم ہے۔ 27 ہزار 294 اسکولس میں سے 7 ہزار375  اسکولس ایسے ہیں جہاں صرف دو کلاس رومس ہیں۔ اسی طرح 3 ہزار 596 اسکولس ایسے ہیں جہاں صرف 3 کلاس رومس ہیں باقی 12 ہزار 578 اسکولس چار تا چھ کلاس رومس کے ساتھ چلائے جارہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اضلاع عادل آباد، کریم نگر، محبوب نگر ، نلگنڈہ اور ورنگل میں ایسے اسکولس کی تعداد زیادہ ہے جو ناکافی کلاس رومس کے ساتھ چلائے جارہے ہیں۔ دو اربن ڈسٹرکٹس حیدرآباد اور رنگاریڈی میں 51 فیصد اسکولس میں کلاس رومس کی تعداد 6 سے کم ہے۔ ان دو اضلاع میں جملہ 8 ہزار 3 سو 64 اسکولس میں کم و بیش 4 ہزار 275 اسکولس میں ناکافی کلاس رومس ہیں۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ کلاس رومس کی تعداد میں اضافہ کے لئے مالیہ درکار ہے۔ حکومت کلاس رومس کی تعداد میں اضافہ کے راستے تلاش کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT