Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے 85 لاکھ خاندانوں کو فوڈ سیکوریٹی کارڈ

تلنگانہ کے 85 لاکھ خاندانوں کو فوڈ سیکوریٹی کارڈ

دسمبر تک کارڈس کی تقسیم متوقع ، محکمہ سیول سپلائز کی جانب سے تیاریاں
حیدرآباد۔8 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کے 85لاکھ گھروں میں چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی تصویر پہنچے گی اور ان خاندانوں کیلئے اس تصویر کی حفاظت لازمی ہو گی کیونکہ یہ تصویر ریاست میں موجود 85لاکھ سطح غربت سے نیچے زندگی گذارنے والے خاندانوں کو فراہم کئے جانے والے فوڈ سیکیوریٹی کارڈس پر ہوگی اور یہ کارڈ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے رنگ یعنی گلابی ہوں گے۔حکومت نے ریاست تلنگانہ میں تمام راشن کارڈ منسوخ کرتے ہوئے ان کی جگہ فوڈ سیکیوریٹی کارڈس کی فراہمی کا اعلان کیا تھا اس اعلان کے بعد حکومت نے فرضی راشن کارڈ گیرندوں کی برخواستگی کی مہم چلائی اور اب ریاست میں حکومت کے مطابق صرف 85لاکھ ایسے خاندان ہیں جنہیں فوڈ سیکیوریٹی کارڈ کی ضرورت ہے۔ریاست میں راشن کارڈ کے متبادل کے طور پر فوڈ سیکیوریٹی کارڈس متعارف کروانے کا اعلان کیا گیا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ نومبر کے وسط میں فوڈ سیکیوریٹی کارڈس کی تقسیم عمل میں لائی جائے گی لیکن اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈسمبر کے اواخر میں فوڈ سیکیوریٹی کارڈس تقسیم کئے جائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ ٔ سیول سپلائز کی جانب سے فوڈ سیکیوریٹی کارڈس کا ڈیزائن تیار کرتے ہوئے حکومت کو روانہ کردیا گیا ہے اور حکومت تلنگانہ نے ڈیزائن کو قطعیت بھی دیدی ہے۔ریاست میں راشن کارڈس کی جگہ لینے والے ان فوڈ سیکیوریٹی کارڈس پر چیف منسٹر تلنگانہ کی تصویر اپوزیشن کی تنقیدوں کا نشانہ بن سکتی ہے کیونکہ ایک سرکاری اسکیم کو حکومت کی تشہیر کیلئے استعمال کئے جانے کے خدشات پیدا ہونے لگیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ فوڈ سیکیوریٹی کارڈ کو گلابی رنگ دیئے جانے کے متعلق یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ سابق میں سفید اور گلابی راشن کارڈس ہوا کرتے تھے اور حکومت نے صرف سفید راشن کارڈس کو منسوخ کرتے ہوئے گلابی فوڈ سیکیوریٹی کارڈ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فوڈ سیکیوریٹی کارڈس پر چیف منسٹر کی تصویر شائع کئے جانے پر کئی گوشوں سے اعتراض کیا جا سکتا ہے کیونکہ محکمہ سیول سپلائز میں خود عہدیدار اس فیصلہ پر اعتراض کرنے لگے ہیں کیونکہ سابق میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ چیف منسٹر نے راشن کارڈ یا فوڈ سیکیوریٹی کارڈ پر اپنی تصویر آویزاں کی ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ اتر پردیش میں اکھلیش یادو نے وزارت اعلی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد راشن کارڈس میں تبدیلی لاتے ہوئے ان پر اپنی تصاویر شائع کروائی تھیں ۔  حکومت کا یہ فیصلہ اور محکمہ سیول سپلائز کی جانب سے اس ڈیزائن کو قطعیت دیئے جانے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست میں سرکاری اسکیمات کے ذریعہ حکومت کی تشہیر کی کوششوں کا آغاز ہو جائے گا۔ فوڈ سیکیوریٹی کارڈس پر چیف منسٹر کی تصویر کی اشاعت کا دفاع کرنے والوں کا استدلال ہے کہ ریاست میں حکومت ایک روپیہ کیلو چاول کی فراہمی یقینی بنارہی ہے جبکہ مرکزی حکومت یہی چاول 2روپئے کیلو فراہم کر رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ماہ ڈسمبر کے اواخر تک حکومت کے محکمہ سیول سپلائز کی جانب سے فوڈ سیکیوریٹی کارڈس کی اجرائی کا عمل شروع ہو جائے گا اور محکمہ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام 85لاکھ فوڈ سیکیوریٹی کارڈس کی یکساں اجرائی کا نظام ترتیب دیا جائے تاکہ درخواستگذاروں کو دفاتر کے چکر نہ کاٹنے پڑیں بلکہ انہیں ان کے پتہ پر فوڈ سیکیوریٹی کارڈ پہنچا دیئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT